امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ

امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ

پاکستان نے امریکہ اور بھارت کے درمیان اعلیٰ فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اسلحہ اور دیگر آلات کی فراہمی جنوبی ایشیاء میں فوجی توازن کو نقصان پہنچائے گا۔ بھارت کو طیاروں کی فراہمی سے بھارتی جارحانہ عزائم کے نظرئیے کو مزید تقویت ملے گی۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینا نا قابل قبول ہے۔ بھارت نے تحریک طالبان کو پاکستان کے خلاف آلہ کار کے طور پر استعمال کیاہے۔ خطے میں عدم استحکام میں بھارت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ روز وزارت خارجہ نے امریکہ اور بھارت کے مشترکہ بیان کے مندرجات پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جنوبی ایشیاء میں امن کے حصول کے مقاصد کو نقصان پہنچے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور بھارت کے مشترکہ بیان میں ان اہم و جوہات کی طرف توجہ نہیں دی گئی جو خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کا باعث بنیں گی۔ اسی لئے یہ بیان پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید بد تر کرے گا۔ جہاں تک جنوبی ایشیاء میں قیام امن کا تعلق ہے خطے میں بھارت ہی ایک ایسا ملک ہے جو شروع دن سے ہی اپنے ہمسایہ خصوصاً چھوٹے ممالک کو اپنے زیر نگیں رکھنے کے خبط میں مبتلا ہونے کے زعم میں نہ صرف روایتی ہتھیاروں کے ڈھیر لگانے کی لت میں مبتلاہے بلکہ خطے میں اس نے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اب وہ امریکہ کے ساتھ نیو کلیائی تزویراتی معاہدوں میں شامل ہو کر بزعم خود عالمی طاقتوں کی صف میں خود کو شامل سمجھتے ہوئے خطے میں ایسے حالات پیدا کر رہاہے کہ جنوبی ایشیاء پر اپنی تھانیداری مسلط کرسکے۔ مگر یہ پاکستان ہے جو اس کے ان مذموم عزائم کے آڑے آکر اس کے خوابوں کو چکنا چور کر رہا ہے۔ بھارت نے اپنی دفاعی قوت کو مضبوط کرنے اور علاقے میں جوہری ہتھیاروں کے ڈھیر لگانے کے بعد کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے ان کے جذبہ آزادی کو کچلنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں جو مظالم ڈھانے شروع کئے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے ۔ اسی طرح سیکولر ازم کے نعرے لگانے کے باوجود اس نے بھارتی اقلیتوں کے خلاف مذہبی بنیادوں پر جو اقدامات اٹھانے شروع کر رکھے ہیں اور گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے نام پر ایک جانب بھارتی مسلمانوں کے خلاف کریک ڈائون کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہاہے تو دوسری جانب دلتوں اور نیچی ذات کے ہندوئوں کے علاوہ عیسائیوں کے خلاف بھی آئے روز فسادات معمول کی بات ہیں جبکہ سکھوں کے خلاف جو معاندانہ رویہ اختیار کیاگیا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں جس کا تازہ واقعہ گزشتہ روز اپنے مقدس مقامات کی یاترا کے لئے آنے والے بھارتی سکھوں کو اٹاری ریلوے سٹیشن پر روک کر انہیں پاکستان آنے سے روک دیا گیا اور بھارتی سکھ ہندوئوں کے مظالم سے تنگ آکر ایک عرصے سے آزاد خالصتان کے لئے دنیا بھر میں تحریک چلانے پر مجبور ہیں۔ مگر ان حقائق پر غور کرنے اور اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے گزشتہ روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دیگر ممالک پر حملوں کے لئے دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے دے۔ اس پر تو یہی پھبتی آسانی سے کسی جاسکتی ہے کہ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ داری۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت خارجہ نے اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے بالکل درست کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور مودی ملاقات میں بھارت کو خطے میں اس پالیسی کے بارے میں نہیں بتایا گیا جو امن کے لئے خطرہ ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کی مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے سلسلے میں بھارت کی توجہ دلانی چاہئے تھی۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تمام مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کے لئے تیار ہے ۔ پاکستانی فورسز نے مختلف آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے مراکز کا خاتمہ کیاہے۔ پاکستان عالمی برادری سے توقع رکھتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھڑی رہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ وہ ممالک جو دہشت گردی کے خلاف دعوے کرتے ہیں وہ خود پاکستان میں حالیہ سالوں میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ بھارت نے سرحد کے اس پار تحریک طالبان کو پاکستان کے خلاف آلہ کار کے طور پر استعمال کیاہے۔ عدم استحکام میں بھارت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ بیان میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق معاہدے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اسلحہ او دیگر آلات کی فراہمی جنوبی ایشیاء میں فوجی توازن کو نقصان پہنچائے گا اور امریکہ جاسوس طیاروں کی بھارت کو فروخت سے بھارت کے جارحانہ عزائم کے نظرئیے کو مزید تقویت ملے گی ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ امریکہ نے بھارت کو جدید اسلحے سے لیس کرکے بھارت کو خطے میں جارحیت کو فروخت دینے کے لئے شہ دے دی ہے۔ اس سے نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو دھچکا لگے گا بلکہ خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ کا آغاز ہو جائے گا۔ در اصل امریکہ بھارت کے ذریعے چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس کا ثبوت گزشتہ روز بھارتی افواج کا چینی علاقے میں بلا جواز گھس کر اشتعال انگیزی کرنا ہے جس پر چین نے بھارت سے احتجاج بھی کیا ہے۔ تاہم اس قسم کی حرکتوں سے نہ تو بھارت اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتاہے نہ ہی امریکہ چین کے خلاف انڈیا کو استعمال کرکے خطے میں اپنی عملداری قائم کرسکتا ہے۔ البتہ امن کے خواب کی تعبیر کے حصول میں دشواریاں ضرور پیدا ہوسکتی ہیں جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں