عالمی دہشت گردی کے سرٹیفیکیٹ

عالمی دہشت گردی کے سرٹیفیکیٹ

جب سے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ پہلے امریکی صدر نے اپنے انتخابی وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کچھ مسلمان ملکوں کے باشندوں پر امریکہ میں داخل ہونے کی پابندی لگائی جس پر نہ صرف عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیاگیا بلکہ امریکہ کے اندر بھی احتجاج کا ایک طوفان امڈ آیا اور امریکی عدالتوں نے بھی صدر ٹرمپ کے اس حکم کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرتے ہوئے امریکی معاشرے کی رائے کو تسلیم کیا۔ اب امریکہ نے بھارت کو خوش کرنے کے لئے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جدوجہد آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے جبکہ تنظیم کے اثاثے منجمد کردئیے ہیں۔ مودی ٹرمپ ملاقات کے موقع پر وائٹ ہائوس کے باہر کشمیریوں اور سکھوں نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا مگر ان بھارت مخالفانہ مظاہروں کو اہمیت نہ دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے کرکے نریندر مودی کو خوش کردیا۔ ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے افراد پر لگائی جانے والی پابندیاں کشمیریوں کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلے عام بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں لیکن ان سب کے باوجود کشمیر کے عوام بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ پاکستان نے باور کرایا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی سیاسی' اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے اب خود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ سے بھارت نے جدوجہد آزادی کشمیر کے لئے کام کرنے والے مجاہد سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کا فیصلہ کروا کر بزعم خود بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیاہے اور اب بھارت کے اندر وہ لابی جو کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی سوچ رکھتا ہے یقینا خوشی سے پھولے نہیں سما رہی ہوگی مگر اس لابی کو یہ نہیں معلوم کہ ان کی اس حرکت کے بعد آزادی کشمیر کی جدوجہد میں مزید تیزی آجائے گی اور کشمیر میں آزادی کے سورج کے طلوع ہونے کاخواب جلد از جلد پورا ہوسکے گا۔ جہاں تک سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کا تعلق ہے عالمی قوانین کے تحت ایسا ممکن ہی نہیں کیونکہ اقوام متحدہ کے اصولوں کے تحت آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں اور افراد کو نہ تو غیر قانونی قرار دیا جاسکتا ہے نہ ہی ان کو دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کو مسترد کرکے تحریک آزادی کشمیر کی سیاسی' اخلاقی اور سفارتی حمایت کے پاکستانی عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ اس امریکی فیصلے پر عالمی برادری کو بھی آگے آکر مظلوم کشمیریوں کی جائز حمایت کرنی چاہئے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی سلامتی کونسل کی ان قرار دادوں کی روشنی میں جن کے تحت خود اقوام متحدہ نے کشریریوں کو حق خود ارادیت کا حق دے رکھا ہے امریکہ کو اس غلط فیصلے کی جانب توجہ دلانے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ امریکہ کو بھی وہ دن ذہن میں رکھنے چاہئیں جب خود وہ پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کی حمایت کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات پر پاکستان کا ساتھ دیاکرتا تھا اور سلامتی کونسل میں ہمیشہ کشمیریوں کے مقدمے کی حمایت میں پیش پیش رہتا تھا ۔ مگر اب جبکہ اس نے بھارت کی دوستی کا دم بھرنا شروع کیا ہے وہ نہ صرف اپنی سابقہ پالیسیوں سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے بھارت کو خوش کر رہاہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کو بھی پائوں تلے روندتے ہوئے آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گردی کے سرٹیفیکیٹ بانٹ کر اقوام متحدہ کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہوسکتی اور امریکہ کی اس دوغلی پالیسی کے خلاف انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی قوتوں کو آگے بڑھ کر ان کی امریکی پالیسیوں کی مذمت کرنا ہوگی۔

متعلقہ خبریں