جنوبی ایشیا کا وکا س

جنوبی ایشیا کا وکا س

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکا سے یہ بات کھل گئی ہے کہ امریکا جو دنیا کی واحد سپر پاور کے زعم میں مبتلا ہے وہ دنیا میں پد ری شفقت کا کر دار ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ وہ ''دادا''بنا رہنا چاہتا ہے ۔ امریکا نے دنیا کے سامنے خود کو پیش کرنے کے لیے کچھ اصول وضابطے ظاہر کر رکھے ہیں جن میں جمہو ریت کا راگ بھیر وی اور حقوق انسانی کا کھرج اخراج شامل ہے ۔ مگر عملا ًداداگیر ہے ، پاکستان واحد ملک ہے جو دنیا میںدہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو ا ہے ، سب سے زیادہ قربانیا ں دیں اور سب سے زیا دہ نقصان اٹھایا ہے اور دہشت گردی کا نشانہ دہشت گر دوں کے ساتھ کسی تنا زعہ کی بنا پر نہیں بنا بلکہ امریکی پالیسیو ں کی حما یت کی بنا پر دہشت گردو ں نے ہد ف بنایا اور وہی امریکا جس کی وجہ سے پاکستان کو جہا ں مالی ، جانی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کی اقتصادی معیشت تباہ ہوئی ، وہا ں امر یکا کے اہداف کا بھی سامنا رہا ہے ۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مو دی کی ملا قات کے بعد وائٹ ہاؤس سے جا ری ہو نے والے بیان میں پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کے ہا تھو ں استعمال نہ ہونے دے اور اس کی روک تھام کے لیے ضروری اقداما ت کرے ۔ بعد ازاں نریندر مو دی اور امریکی صدر نے مشتر کہ پر یس کا نفرنس سے خطا ب کیا اور اس میں ٹرمپ نے کہا کہ بھارت اورامریکا دہشت گردی کی برائی اور اسے چلا نے والے انتہا پسند نظریا ت سے متاثر ہوئے ہیں ۔ اگر دیکھا جا ئے تو یہ حقیقت ہے کہ بھارت کشمیر میں جا ری حریت تحریک سے بری طرح متا ثر ہورہا ہے کہ اس کے کئی نیتا یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کشمیر بھا رت کے ہا تھ سے نکل رہا بلکہ کئی کا تو یہ کہنا ہے کہ نکل چکا ہے۔ کہنے والے زیا دہ تر بھارتی پارلیمنٹ کے ارکا ن ہیں جنہو ں نے یہ بات کشمیر کے دورے کے بعد کہی ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر ی قیا دت سے بات چیت کر کے سلجھا ؤ کا راستہ اختیا ر کر ے ، مگر بھارتی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے اور بے گنا ہ کشمیر یو ں کا قتل عام جا ری رکھا ہو ا ہے۔ امریکا جو جمہو ری اقدا ر کا امین ہے اور حقوق انسانی کا ععلمبرداری کا ادعا کرتا ہے کیا اس کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی نظر نہیں آتی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ٹرمپ مو دی سے اپنی ملا قات میں اس امر پر زور دیتے کہ بھارت نے اقوام متحد ہ کی اسمبلی میں کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ پو را نہیں کیا ہے فوری طورپر اس کو عملی جا مہ پہنا یا جا ئے ، تاکہ کشمیر میں امن کی کوئی سبیل ہو پائے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو کلبھوشن یا د نہیں رہا کیا وہ پاکستان میںامن کے قیام کے لیے گھس بیٹھا تھا۔ کہا جا تا ہے کہ امریکی زند گی کے ہر شعبے کو تجا رت کی نظر سے دیکھتے ہیں گو دنیا میں بھارتی بنیئے کا کر دار بہت مشہو ر ہے مگر امریکی تاجر کے ہا تھو ں وہ بھی ما ت کھا گیا۔ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلا ح الدین کو دہشت گردقرا ر دلو انے کی کامیا بی پا نے والے بھارت کو امریکا کو ایک سو بلین ڈالر مختلف معاہد و ں کی مد میں ادا کر نا ہو ں گے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طر ح ٹرمپ نے دنیا کے بعض ممالک کو مختلف جنگوں میںالجھا کر ان کو مہنگے دامو ں اسلحہ فروخت کر نا شر وع کیا ہے اسی طرح اب بھارت کو عالمی سازشو ں کا محور بنا رہا ہے ۔ اس بارے میں سب سے منا سب تبصرہ سنیڑ جا ن کینڈی نے کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو بھارت میں انسانی حقوق کی خلا ف ورزیا ں عروج پر ہیں اور وہا ںاقلیتو ں کے ساتھ ظلم وبربریت کی ایسی تاریخ رقم کی جارہی ہے جس کا دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
بات اس حد تک درست ہے کہ بھارت کو جدید ترین فوجی اسلحہ فر وخت کر کے امریکا مال کما لے گا اور اپنی بگڑی ہوئی معیشت کا سہا را تلا ش کر لے گا مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس سے جنوبی ایشیا کا امن دھر م بھر م ہو کر رہ جائے گا کیو ں کہ بھارتی چنگل سے بچنے کے لیے خطے کے ممالک میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہو جا ئے گی ، معاشی نا ہمواری پید ا ہو گی وکا س کو جمو د حاصل ہو گا غربت کو نمو ملے گی ، پاکستان میںدہشت گردی میںاضافہ ہو گا ۔
ادھر چین نے بھارت اور امریکا کے مشتر کہ اعلا میہ پر ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں فرنٹ لائن پر کھڑ اہے ، عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہنا چاہیے ، چین کا یہ حقیقت پسند انہ رویہ قابل تحسین ہے کیو ں کہ گزشتہ دنو ں چین کے باشند و ں کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا ، چین نے اس سلسلے میں پا کستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا کیو ں کہ چین اس حقیقت سے آگا ہ ہے کہ ایسی سنگین وارداتو ں کی پشت پر کیا سازشیں کا ر فر ما ہیں ، اگر امریکی باشند و ں کے ساتھ ایسا واقعہ ہوتا تو نہ جا نے پاکستان پر کیا کیا افتاد آن پڑتی ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجما ن لوکانگ نے کہا کہ چین دہشت گردی کی ہر قسم کی مذمت کر تا ہے اور یہ واضح کر تا ہے کہ چین دہشت گردی کو مخصوص ممالک سے جو ڑ نے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان دہشت گر دی کے خا تمے میں اپنا بھر پو ر کر دار ادا کر رہا ہے ، بیجنگ سمجھتاہے کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عالمی تعاون کو بڑھا نا چاہیے ۔ اگر جا ئزہ لیا جا ئے تو چین کا یہ بیا ن بھارتی دہشت گردی کی نشاند ہی کرتا ہے بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشت گردیوں کے بارے میں اور پھر صاف الفاظ میں چین کے ترجما ن نے یہ بھی بتایا تبت اور سکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کے بعد سیکو رٹی خدشات کی بنا پر بھارت سے آنے والے تین سو ہندواور بدھ مت یا تریو ں کو چین آنے سے روک دیا گیا ، چین کی جا نب سے دراندازیو ں کے بارے لگا ئے جا نے والے الزاما ت کا بھارت نے کوئی جو اب نہیں دیا۔ امریکی صدر کو چاہیے کہ اگر وہ پا کستان کی نہیں سنتے مگر چین کی تو سنیں کہ دنیا میں دہشت گردی کو ن پھیلا رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں