وزیر اعظم کیسا احتساب چاہتے ہیں؟

وزیر اعظم کیسا احتساب چاہتے ہیں؟

یہ انہونی بھی پاکستان میں ہونا تھی کہ وقت کا وزیر اعظم اپنے ماتحت ملازمین پر بننے والی تحقیقاتی ٹیم کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ وہ احتساب نہیں مذاق کر رہی ہے۔ جے آئی ٹی بننے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور ہاتھوں سے وکٹری کے نشان بنائے گئے۔ ٹی وی چینلز کو چاہئے کہ فیصلے کے بعد وزراء کی ایک دوسرے کو مٹھائی کھلانے والی ویڈیو دوبارہ چلائیں تاکہ قوم کو اندازہو کہ ایک وقت یہ لوگ جے آئی ٹی بننے پر کس قدر خوشی کا اظہار کر رہے تھے اور اب ان کے خیالات اور جذبات کیا ہیں۔ جس جے آئی ٹی کو وزیر اعظم نے اپنی سمجھ سے بالا تر قرار دے دیا ہے اور جس کی تحقیقات کے بارے میں وہ کہہ چکے ہیں کہ یہ احتساب نہیں مذاق ہو رہا ہے تو کل کلاں اس جے آئی ٹی کی رپورٹ اگر ان کے حق میں آگئی تو پھر یہ قوم کو کیسے مطمئن کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی آزادانہ احتساب کی روایت ہی نہیں رہی۔ آج جے آئی ٹی کے ممبران نے نیک نیتی کے ساتھ بے خوف و خطر اپنا کام کیا ہے تو مسند اقتدار پر بیٹھے لوگوں کو تکلیف ہوگئی ہے۔ صاف سمجھ میں آگیا ہے کہ یہ لوگ اپنا احتساب نہیں چاہتے۔ ان کی جانب سے یہ دعوے کرنا کہ ہم اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں در اصل قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک کوشش ہوتی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ایک لمحے کے لئے انصاف کا ترازو اپنے ہاتھ میں تھام لیجئے اور فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ سرکاری ملازمت کرنے والے 20 اور 21گریڈ کے افسروں پر مشتمل ٹیم وزیر اعظم یا ان کے خاندان کے خلاف غلط کام کرے گی؟ امر واقعہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ سچ اور حقائق پر مبنی ہے جسے وزیر اعظم گوارا نہیں کر پا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی ٹیم نے جب جے آئی ٹی پر پہلا اعتراض کیا تو مخالف سیاسی جماعتوں کے ووٹرز سپورٹرز نے تو اس کو برا بھلا کہا خود مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور لیگی ووٹرز نے اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہ دیکھا۔ جے آئی ٹی کے اراکین کے بارے میں عمومی تاثر بن رہا ہے کہ وہ بے خوف و خطر اور بنا کسی لالچ کے اپنا کام کر رہے ہیں جبکہ حکومتی ٹیم نے جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے کے لئے اب تک جو کچھ کہا اور کیا ہے اس سے مسلم لیگ ن کی پوزیشن اور وزیر اعظم کی ساکھ عامتہ الناس میں مجروح ہوئی ہے۔

پاکستانی اہل سیاست کو چونکہ شفاف احتساب کا کوئی تجربہ نہیں ہے لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ بالآخر معاملات ''مینج'' ہو جاتے ہیں۔ ساکھ کی پرواہ وہاں ہوتی ہے جہاں ساکھ موجود ہو۔ یہاں پاکستان میں سیاستدانوں کی ساکھ کا کوئی چکر ہی نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کردار اور شخصی اوصاف کی بجائے دولت مند ہونا واحد معیار بن کر رہ گیا ہے چنانچہ سب چلتا ہے۔ میں برطانوی پارلیمنٹ کے بارے میں یہ واقعہ متعدد بار قارئین کی نذر کر چکا ہوں کہ کیسے وہاں اپنی ساکھ کو بچانے کے لئے اسپیکر نے اپنے عہدے کی قربانی دی اور برطانوی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر نے اپنے ذمہ واجب الادا رقم کیسے فوری طور پر ادا کردی حالانکہ وہ چاہتے تو آڈیٹر کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کی کوشش کی۔ یہ مشہور زمانہ واقع 2009ء میں پیش آیا جب برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے بارے میں انکشاف کیاگیا کہ انہوں نے صفائی اور باغبانی کی مد میں ضرورت سے زیادہ رقم قومی خزانے سے وصول کی ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں اراکین پارلیمنٹ کے لئے ان اخراجات کی کوئی حد مقرر نہ تھی لیکن ڈیلی ٹیلی گراف کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اراکین نے عام روٹین سے کچھ زیادہ اخراجات کلیم کئے ہوئے تھے۔ آڈیٹر کا تقرر ہوا جو ایک سول سرونٹ تھے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں اخراجات کی حد مقرر کی اور ان سے زیادہ ہونے والے اخراجات کو اضافی قرار دیا۔ بعض اراکین پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا استحقاق ہے جس کو یہ شخص استعمال کر رہا ہے لیکن وزیر اعظم گورڈن برائون نے یہ کہہ کر اپنے ذمہ واجب الادا رقم فوری طور پر ادا کردی کہ اس وقت مسئلہ قانون سازی کے دائرہ اختیار کا نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ کی ساکھ کا ہے جس کو ہر قیمت پر بچانا چاہئے۔ اپوزیشن لیڈر ڈیوڈ کیمرون جو بعد ازاں وزیر اعظم بنے نے بھی وزیر اعظم کی پیروی کی۔ یوں تمام اراکین کو اپنے لیڈرز کے پیچھے چلنا پڑا۔ یہ ہوتی ہے جمہوریت اور سیاستدانوں کا پاک باز اور نیک مثبت کردار۔ جو کچھ پاکستان میں ہوتا ہے یا ہو رہا ہے اس کو جمہوریت کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ جمہوریت کے نام پر اصل مذاق تو یہ ہے جو اس وقت وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرنے کا دعویٰ کیا لیکن آج جب احتساب ہونا شروع ہوا ہے تو جے آئی ٹی پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیا ہے۔ عدلیہ اور فوج کو بھی بہانے بہانے سے یہ لوگ ہدف تنقید بنا رہے ہیں ۔ کیا جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے؟
آج عدالت عظمیٰ نے اپنی نگرانی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے اور ہر پندرہ روز کے بعد اس کی رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے تو وزیر اعظم کی ٹیم نے ہائے ہائے کا شور مچانا شروع کردیا ہے۔ رہی سہی کسر وزیر اعظم کے بیان نے پوری کردی ہے۔ کیا یوں اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا جاتا ہے؟ قوم سمجھنے سے قاصر ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف ان کے ماتحت ملازمین کیونکر غلط کام کرنے کی جرأت کرسکتے ہیں؟

متعلقہ خبریں