موت برحق ہے لیکن!

موت برحق ہے لیکن!

دنیا میں تقریباً ہر با شعور و عاقل و بالغ شخص کو یقین ہے کہ موت بر حق ہے اور ایک نہ ایک دن ضرور لمبی سے لمبی زندگی گزار کر بھی اس دنیا سے کو چ کرکے جانا ہوگا۔ یہ بات دنیا کی ساری مذہبی کتب میں بھی موجود ہے لیکن قرآن کریم چونکہ آخری کتاب اللہ ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خالق کائنات نے لی ہے اس میں زندگی اور موت کے جو حقائق جس نصیحت آمیز اور عبرت انگیز انداز میں بیان ہوئے ہیں ایسا شاید ہی کسی اور مذہبی کتاب میں بیان ہواہو۔ اس عظیم کتاب کی تعلیمات کے مطابق زندگی ہر انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس امانت ہے اس لئے اس کو بے جا تلف کرنے یعنی دیدہ دانستہ اپنے آپ کو بغیر کسی شرعی تقاضے اور حکم کے اپنے آپ کو خطروں میں ڈالنا منع فرمایا گیا ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے '' اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو'' اسلام میں خودکشی حرام ہے اور اس کا ارتکاب بڑے گناہوں میں شمار ہے اور بعض علماء نے اسے شرک قرار دیا ہے کیونکہ زندگی اور موت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار اور کام ہے۔ قرآن و حدیث میں قتل کی جو سزا بیان ہوئی ہے وہ اتنی سخت ہے کہ جو کوئی بھی قیامت و آخرت کے حساب کتاب پر یقین رکھتا ہو اس سے انشاء اللہ اس عظیم گناہ کے سر زد ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس لئے ضرورت ا س بات کی ہے کہ تعلیمی نصاب میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سطح تک قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی وہ تعلیمات شامل کی جائیں جن میں انسانی جان کی حرمت اور قتل کی سزائیں بیان ہوئی ہیں۔ اسلام اور مسلمان جب غالب تھے تو انسانی جان کو جو تحفظ حاصل تھا اس کا اندازہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصول و شرائط اور احکام جہاد سے لگایا جاسکتاہے جس میں بے وجہ کسی پودے درخت اور فصل تک نقصان پہنچانا سخت منع ہے۔ انہی احکام و تعلیمات کا فیضان و اثر تھا کہ 27غزوات میں مسلمان و غیر مسلم کل ملا کر تقریباً 1018 افراد کام آئے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ اقوام جو آسمانی ہدایت پر ایمان نہیں رکھتی تھیں جب غالب آئیں تو صرف روس میں انقلاب کے استحکام میں تقریباً پچھتر لاکھ لوگ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بنے۔ یہی حال پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا ہے اور یہ تسلسل 9/11 میں تازہ ہو کر آج تک جاری ہے۔ دنیا میں آج دہشت گردی کی جو وبا پھیلی ہے یہ سب قرآن و حدیث کی تعلیمات سے بے خبری اور بے عملی کا نتیجہ ہے۔ ان اقوام کے سامنے تو ہم یہ دعوت مناسب انداز میں پیش کرکے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ دہشت گردی سے باز آجائیں لیکن مسلمان امت جس کا ان دونوں مستند اور پاک ماخذات پر ایمان ہے اور ان کے معاشروں میں دن رات ان کی تعلیمات کی گونج بھی سنائی دیتی ہے نہ جانے کیوں ان پر اثر نہیں ہوتا اور ان کے دل پتھر کے ہوگئے ہیں کہ چند سکوں کی خاطر اسلام اور پاکستان اور انسانیت کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر معصوم و بے گناہوں جانوں کو رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کے آخری ایام میں بھی مارنے سے باز آنے کا نام نہیں لیتے۔ کتنی بار کتنے بے گناہ و معصوم لوگوں کو عیدالفطر کے ایام میں خود کش دھماکوں کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار کر ان گنت خاندانوں اور پاکستانی قوم کو خون کے آنسو رلائے۔ اس عید الفطر کے ایا م میں پاڑہ چنار'' کراچی اور کوئٹہ کے افسوس ناک واقعات نے پوری پاکستانی قوم کے خوشی و تشکر کے ایام کو غم میں بدل دیا۔ کاش یہ دھماکے کرنے والے درندہ نما لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اپنے ان مذموم و مسموم کارروائیوں کے نتیجے میں وہ غمزدہ والدین یتیم بچوں اور ضعیف والدین کو باقی زندگی میں کس سوہان روح سے دو چار کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے واقعات و حادثات میں مرنے والے شہید ہوتے ہیں اور مسلمان کا اس پر ایمان ہے کہ موت کا ایک دن معین ہے اور شہید کو مر کر جو زندگی ملتی ہے وہ یقینا دنیوی زندگی کے مقابلے میں بہت اعلیٰ و برتر ہوتی ہے لیکن انسان ضعیف و کمزور ہے دل اداس اور مغموم ہو تو آنکھوں سے آنسو خود بخود چھلک پڑتے ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عینین مبارک سے بھی چھلکے تھے اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ ''ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے''۔لیکن بعض معاملات میں ذرا سی تدبیر و احتیاط شاید انسانی جان کی حفاظت میں اللہ کے اذن سے کار گر ثابت ہو۔ تدبیر و احتیاط اور علاج و پرہیز کی تعلیم بھی قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ ہم پاکستانیوں کی دو بیماریاں بہت شدید ہیں اور ہماری جانوں کے درپے ہیں۔ ایک ہوس دولت اور دوسری بے احتیاطی و بد پرہیزی۔ حصول دولت میں حرام و حلال' جائز و ناجائز کی پروا بھی نہیں کرتے اور مقدس رشتوں تک کو پامال کر جاتے ہیں۔ اسی ہوس و لالچ کے ہاتھوں کبھی اپنی اور کبھی دوسروں کی جانوں کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔بہاول پور کے شہر احمد پور شرقیہ کا افسوس ناک واقعہ امر خداوندی ہونے کے ساتھ اس بات کا بھی تو مظہر ہے کہ لوگ پٹرول کے حصول کے لئے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی موٹر سائیکلوں اور کنستروں کے ساتھ آتشیں آگ میں پروانہ بن گئے اور پورے پاکستان کو اداس کرگئے ۔ اس میں غربت کا عنصر بھی شامل ہے جو ہمارے حکمرانوں کے سبب ہے۔ہماری بے احتیاطی و بد پرہیزی کے مظاہر عیدین اور شادی بیاہ کے مواقع پر ہوائی فائرنگ کی صورت میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں جس سے خوشی کے مواقع غم میں بدل جاتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا ایمان ہے کہ موت بر حق ہے لیکن تھوڑی سی احتیاط اور تدبیر اختیار کرکے اللہ تعالیٰ سے رحمت و حفاظت کی دعا مانگتے رہا کریں۔ اللہ تعالیٰ بھلی کرے گا۔

متعلقہ خبریں