حالات کی تہہ میں بحران کے اسباب؟

حالات کی تہہ میں بحران کے اسباب؟

مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی حکومت اور پارلیمانی پارٹی کے اندر اختلافات کی جو لکیریں مختلف وجوہات کی وجہ سے موجود تھیں اب دراڑوں کی شکل اختیا رکر چکی ہیں۔وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان بطور وزیر اعظم انتظامی سربراہ ہیں اور وہی اصل حکومت ہیں۔تاثر یہی ہے کہ یہاں دھڑوں کی صورت طاقت کے چھوٹے مراکز میں کسی کو وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف کے معاون خصوصی آصف کرمانی کی نظر کرم حاصل ہے تو کوئی وفاقی وزیر امور کشمیر برجیس طاہر کے حلقہ ارادت میں شامل ہے ۔وزیرا عظم ہائو س کے ساتھ ساتھ سپیکر شاہ غلام قادر کا چیمبر ،سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کے دفاتر بھی اپنی اہمیت قائم رکھے ہوئے تھے ۔ان کی غیر فعالیت میں بھی فعالیت کا رنگ جھلکتا رہتا تھا ۔اب اس میں تازہ اضافہ ایوان ِصدرکا ہورہا ہے ۔ایک غیر فعال ادارہ رفتہ رفتہ فعالیت کی جانب کھسک رہا ہے ۔ صدر کی فعالیت کا قابل ذکر مظاہرہ اس وقت ہوا جب حکومت کے سخت گیر ناقد اپوزیشن رہنما سردار عتیق احمد خان ایوان صدر گئے اور حکومت کے خلاف شکایات کی ایک چارج شیٹ تھما کر لوٹے اور اہتمام کے ساتھ اس چارج شیٹ کی خبر بھی جاری کی ۔ایوان صدر جب حکومت کے خلاف شکایات سننے لگے اور اس کی خبریں بھی نکلنا شروع ہوں تو یہ کسی طوفان کے نہ سہی مگر حالات کی تہہ میں ایک کشمکش کے آثار ہوتے ہیں۔سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق ایک ماہرشکاری کی طرح گھات لگائے بیٹھے ہیں اور اپنے جذبات کے اظہار کے لئے فیس بک اور ٹویٹر کا سہارا لیتے ہیں اور لطیف پیرائے میں شعر وسخن سے کام چلاتے ہیں۔چندروز قبل وزیر اعظم آزادکشمیر اورسینئر وزیر چوہدری طارق فاروق دونوں کے بیانات شائع ہوئے او ر دونوں بیانات میں بیوروکریسی کو مخاطب کیا گیا تھا ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی منتخب نمائندوں کا ساتھ دے ۔اسی روز شائع ہونے والے چوہدری طارق فاروق کے بیان میں استفہامیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا گیاتھاکہ یہ ایک کشمکش ہے اور دیکھا جارہا کہ وزیر اعظم بیوروکریسی کے ذریعے حکومت کرنا چاہتے ہیں یا منتخب نمائندوں کے ذریعے۔عمومی تاثر یہی ہے کہ سال بھر سے بیوروکریسی کا نام محض راگ چھیڑنے اور سماں باندھنے کے لئے استعمال ہورہا ہے ۔بیوروکریسی کے پردے میں درحقیقت سینئر وزیر اور دوسرے لوگ وزیر اعظم پر'' سولوفلائٹ'' کا الزام عائد کر رہے ہیں ۔بیوروکریسی تو ایک ماتحت ادارہ ہے وہ وزیر اعظم پر حاوی نہیں ہوسکتی البتہ وزیر اعظم بیوروکریسی کو سیاسی دبائو اوردست برد سے بچانے کے لئے اپنے پروں تلے پناہ دے سکتے ہیں۔اس وقت شاید یہی منظر پیدا ہوگیا ہے۔بھاری مینڈیٹ کی حامل حکومت کی تہہ میں بے چینی کے یہ آثار شاید ابھی قابل ذکر او ر قابل توجہ نہ ہوں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہی بے چینی ایک بحران میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ چند ہی برس پرانی بات ہے کہ یہی اسمبلی اور اس میں براجمان یہی چہرے تھے جنہوں نے پانچ سال میں اِدھر سے اُدھر ہو کر چار وزرائے اعظم بدل دئیے تھے ۔اس سے جگ ہنسائی کے سوا کچھ حاصل بھی نہیں ہوا تھا ۔اس لئے روایتی سیاست میں کوئی چٹان ہوتی ہے نہ چٹان کی طرح ڈٹے رہنے والی کوئی مخلوق ہوتی ہے ۔ہر کوئی اپنے وقت پر دبائو کی طاقت کے نتیجے میں حالات کے آگے سپر ڈالتا ہے۔ فاروق حیدرطاقت کی خواہش میں اُبھرتے مراکز ایوان صدر،سپیکر اور سینئر وزارت کو طاقت کے دھارے میں شریک کرکے انہیں ایک سنجیدہ چیلنج کے طور پر اُبھرنے سے روک سکتے ہیں۔انہیں دیوار سے لگاناکسی طور بھی خطرے سے خالی نہیں ۔وزرا کے دھڑوں کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مگرصدرآزادکشمیر سردار مسعود خان اسلام آباد کی پسند سمجھے جاتے ہیں۔ بہت سے محرکات کے علاوہ انہیں اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک کی سربراہی سے آزادکشمیر کی صدارت کے منصب تک لانے میں ان کی طویل سفارتی خدمات ،مسئلہ کشمیر کے زیر وبم پر گہری نظر اور زبان دانی کا دخل بھی ہے ۔ان کا اچانک فعال ہونا کچھ عجیب سا ہے ۔وہ آزادکشمیر کے مسائل اور حل طلب انتظامی اور آئینی معاملات پر وزیر اعظم سے زیادہ بلند آہنگ انداز سے بات کرکے توجہ حاصل کرنے لگے ہیں۔صدر آزادکشمیر نے اسلام آباد میںنیشنل مینجمنٹ کالج کے پالیسی اور پلاننگ کورس کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے لیکن اختیارات کے حوالے سے تین چار درجاتی نظام کام کررہا ہے ۔جس میں آزادکشمیر حکومت ،وزارت امور کشمیر ،کشمیر کونسل اور وفاقی حکومت شامل ہے۔جس کی وجہ سے کچھ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کونسل آزادکشمیر سے ٹیکس جمع کرتی ہے جس سے بیس فیصد سروس چارجز کاٹ کر باقی رقم قسطوں میں ادا کی جاتی ہے۔صدرآزادکشمیر نے اپنے سفارتی ماضی اورذہنی سوچ وساخت کے عین مطابق ابتدائی چند ماہ خود کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے ہی مصروف رکھنے کی کوشش کی مگر جلد ہی آزادکشمیر میں طاقت کی کشمکش اور انتظامی معاملات کی زمینی حقیقتیں انہیں اس تصوراتی دنیا سے واپس اپنے اصل ماحول اور مقام پر لے آئیں اور وہ اب وہ آزادکشمیر کی روایتی سیاست میں اُلجھنے جارہے ہیں۔

متعلقہ خبریں