سانحہ احمد پور شرقیہ

سانحہ احمد پور شرقیہ

عید مبارک کے دو لفظ کیا کہتے' کیا سنتے' گھر میں بچوںکے ساتھ' آنے والے مہمانوںکے ساتھ اور ٹیلی فون پر پیغام دینے والوں کے ساتھ گفتگودوسرے ہی لمحے احمدپور شرقیہ میں 150 جل مرنے والوں کے غم میں رندھ جاتی۔ چشم زدن میں شعلہ بھڑکا ہوگا' چند ثانیے بعد جب بگولا ہوا میں تحلیل ہوا' دو سو سے زیادہ لوگ سسک رہے ہوںگے ' تڑپ رہے ہوں گے کچھ دار فانی سے گزررہے ہوںگے اورکچھ ہوا نہ ملنے کے باعث بے ہوش ہوچکے ہوںگے' کیا اندوہناک منظر ہوگا۔ ہائے افسوس یہ لوگ ' بچے' بڑے اور عورتیں حادثے کے باعث گرے ہوئے آئل ٹینکر میں سے بہنے والا تیل بوتلوں' دیگچوں اور بالٹیوں میںسمیٹ رہے تھے۔ اس لئے کہ تیل مہنگا ہوتا ہے۔ افلاس محض جیب کا نہیں دیانت احساس ذمہ داری اورضمیر کا بھی کہ مفت کامال سمیٹنے کو کوئی عار نہیںسمجھا گیا۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اعلان کیے گئے کہ ٹینکر گرگیا ہے تیل بہہ رہا ہے آئو اکٹھا کرلو' جتنے منہ اتنی باتیں۔ اللہ ہی بہتر جانتاہے سچ کیا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ آئل ٹینکر سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ کسی نے سگریٹ سلگائی اور دوزخ بھڑک اٹھا۔ کیا مفت کا مال سمیٹنے کو جائز سمجھنا انفرادی فعل ہے؟سب لوگ اسے جائز سمجھ کر اس میں شامل ہو جائیںتو اسے کیا کہا جائے گا۔ معاشرے میں ایک دوسرے کی شرم و حیا نہ رہے تو یہ کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا معاشرے کے قائدین' دانشور ' علماء ' مشائخ' بزرگ اور سیانے سب اس کے ذمہ دار نہیں ہیں؟اگر بہت سے لوگ یکایک ناسمجھ ہو جائیں اور سمجھنے لگیں تیل کا مٹی میں جذب ہوکر ضائع ہونے سے بہتر ہے کہ کسی کے استعمال میں آجائے تو حادثات سے بچائو ' حادثات کے انتظام کی ذمہ داری کس کی ہے؟ سب سے پہلے آئل ٹینکر گرا ہی کیوں! کیا راستہ اس قدر خراب تھا یا ٹریفک اس قدر بے ہنگم تھا کہ ڈرائیور تیل سے بھرے ٹینکر پر قابو نہ رکھ سکا۔ سڑکوں کا بہتر ہونا اور ٹریفک کا منظم ہونا کس کی ذمہ داری ہے۔ ٹینکر گر گیا تو اس کی اطلاع حادثات کے انتظام کے ذمہ داروں کو کیوںنہ دی جاسکی۔ لوگ تیل سمیٹنے کی بجائے حادثات کے انتظام کے ذمہ داروں کو اطلا ع دینے کیوں نہ دوڑے۔ کہتے ہیں ڈیڑھ گھنٹے تک ٹینکر سے تیل بہتا رہا۔ گائوں کے کسی ذمہ دار کو خیال نہ آیا کہ وہ حادثے کی اطلاع ذمہ دار لوگوں کو دے ۔ کسی دانا شخص نے لوگوں کو نہ سمجھایا کہ اس بہتے تیل پر ان کا حق نہیں' ڈیڑھ گھنٹے تک کوئی پولیس اہلکار' کوئی انتظامی افسر' کوئی ریونیو اہلکار' کوئی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا ذمہ دار کیوں حادثے پر نہ پہنچا۔ اس کی انکوائری ہونی چاہیے اور انکوائری کرنیوالوںمیں جل مرنے والوں کے عزیزوںکے نمائندے بھی شامل ہونے چاہئیں۔ فرض کیجئے ڈیڑھ گھنٹے تک کسی گائوں میں ڈکیتی اورقتل وغارت کی کوئی واردات جاری ر ہے تو کیا کسی کو کانوں کان خبرنہیں ہوگی' آخر کیا انتظام ہے کہ جس کے ذریعے کسی دور دراز گائوں میں یا سڑک پر حادثے ہونے کی خبر مقامی تھانے اور تحصیل اور ضلع کے افسروں تک پہنچ سکے اور اس میں کتنی دیر لگتی ہے! اگر کوئی اطلاع دینے کا ذمہ دار آئل ٹینکر سے تیل سمیٹے جانے کے دوران موقع پر موجود تھا تو اس کے خلاف فرد جرم عائدہونی چاہیے۔ پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور فرار ہوگیا ہے ' پھر خبر آئی کہ وہ بہاولپور میں زیر علاج ہے اس سے معلوم کیاجاناچاہیے تھا کہ اس نے حادثے کی اطلاع کس کو دی۔ لیکن اطلاع ہے کہ وہ بیچارا بھی دم توڑ گیاہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے لندن میں عید کی چھٹیاں مختصرکرکے وطن واپس آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا یہ اس نوعیت کا سب سے بڑا حادثہ ہے اس سے پہلے بھی ملک میں آئل ٹینکروں کے مہلک حادثات ہوچکے ہیں۔ جہلم' شیخوپورہ' حیدر آباد' کراچی اور جھنگ کے حادثات ابھی تک لوگوں کو یادہیں۔دنیا بھر میں بھی آئل ٹینکروںکے حادثات ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوچکی ہیں کانگو میں بھی ایک حادثے میں 292 افراد 'سوڈان میں203 ' افغانستان میں 73 اور نائیجریا میں ایسے حادثات میں 273 افراد کی زندگیاںختم ہوئیں۔ آئل ٹینکر تو ساری دنیا میں چلتے ہیں لیکن حادثات غریب ملکوں میںہی کیوں ہوتے ہیں اسلئے کہ امیر ملکوں میں انسانی جان کی قدر کی جاتی ہے وہاں کی حکومتیں ایسی سڑکیں بناتی ہیں جن پرحادثات کم از کم ہوں۔ وہاںکے لوگوں میں اتنی غربت نہیں ہوتی کہ لوگ مفت کاتیل سمیٹنے کیلئے دوڑ پڑیں۔ وہاںکے انتظامی ادارے اس قدر مستعد ہوتے ہیں کہ حادثہ کے فوراً بعد جائے حادثہ پر پہنچیں اورحالات پر قابوپانے کی کوشش کریں' وہاںکے حکمران اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں ہمارے حکمران حکمرانی کرتے ہیں۔ وہاں کے حکمرانوںکے دفاتر چھوٹے ہوتے ہیں ان میں کام بڑے ہوتے ہیں ہمارے حکمرانوںکے دفاتر اور سرکاری رہائش گاہیں محلاتی ہوتی ہیں لیکن ان میں کام وہی ہوتے ہیںجو شاہ کوپسند ہوں۔ سانحہ احمدپور شرقیہ ہوا تو معلوم ہوا کہ پورے بہاولپور ڈویژن میں جلنے جھلسنے والوںکے علاج کیلئے برن سنٹر کوئی نہیں ہے' زخمیوں کو علاج کیلئے ریڑھیوں پر لادکر پہنچایاگیا'شنید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے برن سنٹرکے قیام کی منظوری سناد ی ہے۔ یہ کب بنتا ہے ' دیکھتے ہیں۔ انہوںنے اعلان کیا کہ پنجاب میں عید سادگی سے منائی جائے گی لیکن عید کے دن لاہور اور کراچی کی فوڈ سٹریٹس ' مری اور نتھیا گلی کے تفریحی مقامات پر لوگوں کی بھیڑ تھی۔

متعلقہ خبریں