مشرقیات

مشرقیات

حضرت ذوالنون مصری کی کنیت ابوالفیض تھی۔ آپ اپنے وقت کے بڑے اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں ۔ایک مرتبہ آپ کو معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ایک زاہد وعابد شخص رہتا ہے ۔ جو بڑا بزرگ اورصاحب کرامت ہے۔اس کی زیارت کے لئے گئے ۔ دیکھاکہ وہ ایک درخت سے لٹکا ہوا ہے ، وہ کہنے لگایا تو میری طرح خدا کی عبادت میں ریاضت میں ساتھ دو یا یہاں سے چلے جائو اور بھوکے مرو۔ یہ بات سنتے ہی حضرت ذوالنون مصری رونے لگے عابد نے رونے کی آواز سنی تو فرمایا: اس شخص پر کون رحم کرتا ہے جس کے جرم زیادہ ہو ں اور شرم کم ہو۔ حضرت ذوالنون اس بزرگ کے نزدیک گئے اور سلام کرکے پوچھا: یہ کیا حالت ہے ؟ زاہد نے کہا : میرا بدن میری روح سے متفق نہیں ہوتا۔ اسے قرار نہیں ہے ۔ لوگوں سے میل ملاپ کی خواہش کرتا ہے اورتنہائی سے خوف کھاتا ہے ۔ تمہیں معلوم ہے کہ جب تم مخلوق خداسے ملو گے ، کئی جرائم لاحق ہوں گے۔ حضر ت ذوالنون نے کہا : تم بہت بڑے زاہد ہو۔ زاہد نے کہا : اگر مجھ سے بڑا زاہد دیکھنے کے خواہش مند ہو تو اس پہاڑ کے غار میں جائو۔ وہاںتمہیں مجھ سے بھی بڑا زاہد ملے گا۔ آپ وہاں پہنچے دیکھا کہ ایک خوبصورت نوجوان اپنے ایک پائوں پرکھڑا خدا کی عبادت میں مستغرق ہے ۔ اس کادوسرا پائوں کٹا ہوا اس غار کے باہر پڑا ہوا ہے۔ آپ نے سلام کیا اور نوجوان سے پوچھا کہ یہ کیا حالت ہے؟اس نے بتایا : ایک دن میں اسی غار میں عبادت خداوندی میں مشغول تھا کہ ایک خوبصورت عورت غار کے دہانے پر آئی ۔ میرادل اس کی طرف مائل ہوا ۔ میں نے غار سے ایک قدم باہر رکھا ہی تھا کہ آواز آئی :تمہیں شرم نہیں آئی کہ تیس سال میرے حضور سجدہ ریز پڑے رہے ہو اور آج اس کے پیچھے پڑے ہو۔ مجھے خیال آیا اور اپنا وہ پائوں کا ٹ کر باہر پھینک دیا۔ جو اس عورت کے پیچھے باہر نکلا تھا۔ آپ مجھ جیسے گنہگار کے پاس آئے ہیں ۔یہاں سے کیا لوگے؟ ہاں اگر کسی مرد کامل کو دیکھناچاہتے ہو تو اس پہاڑ کی چوٹی پر چلے جائو، وہاں ایک مرد حق ملیں گے۔ ان کی زیارت کرو، حضرت ذوالنون مصری: نے فرمایا: یہ پہاڑ اس قدر بلند ہے ، میں وہاںنہیں جاسکوں گا میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ایک شخص اس سے مناظرہ کرنے آیا اورکہنے لگا کہ روزی تو کسب کے نتیجے میں ملتی ہے ۔ اس دن سے اس بزرگ نے نذر مان لی کہ وہ کچھ نہ کھائے گا کیونکہ کسب تومخلوق کی ذمہ داری ہے اورمخلوق کی دی ہوئی روزی مجھے منظور نہیں ، کچھ عرصہ گزرا تو رب تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو حکم دیا کہ وہ جائیں میرے اس بندے کے ارد گرد اڑتے ہوئے شہد بہم پہنچائیں ۔ حضرت ذوالنون مصری نے سنا تو اسی دن سے تمام علائق دنیا کو تر ک کر کے ریاضت میں لگ گئے ۔ حضرت جامی نے اس واقعہ کو نفحات الانس میں ایک او رتفصیل سے بیان کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں