خیبر پختونخوا میں رابطہ عوام سرگرمیاں

خیبر پختونخوا میں رابطہ عوام سرگرمیاں

سیاسی جماعتوں نے آہستگی اور غیر محسوس طریقے سے آئندہ عام انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے آئے روز جلسے ہونے لگے ہیں جس میں مرکز اور صوبوں میں حکمران جماعتیں اس لئے زیادہ سر گرم دکھائی دیتی ہیں کہ ان کو سرکاری مشینری اور سہولیات کی موجودگی میں جلسوں کے انعقاد میں آسانی ہے۔ فی الوقت سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت سیاسی سرگرمیوں کا محور اور دیگر سیاسی معاملات پر حاوی ہے ۔اس مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد سیاست کا رخ یکطرفہ ہو کر سیاسی جوڑ توڑ' شمولیت اور ٹکٹوں کے اجراء کا عمل تیزی کے ساتھ شروع ہوگا جس کے بعد سیاسی سر گرمیوں کا محور انتخابی سیاست بن جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے حلقے میں تقریباً ہر اتوار جلسہ اور رابطہ عوام مہم شروع کر رکھی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام پوری کوشش میں ہیں کہ وہ بھی خیبر پختونخوا میں جلسوں اور رابطہ عوام مہم کا حساب برابر رکھیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کی قیادت بھی سرگرم عمل ہے ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) صوبے میں ایک بڑے اجتماع کی تیاری میں ہے۔ جماعت اسلامی ویسے بھی ایک متحرک جماعت ہے۔ خیبر پختونخوا میں انتخابی مراحل کا پوری طرح اور باقاعدہ آغاز ہونے کے بعد تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان کچھ سنجیدہ کھینچا تانی ' استعفوں اور شمولیت کے امکانات کی بھی شنید ہے۔ اس بار خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ(ن) کی فعالیت اور بہتر نتائج کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے جبکہ گزشتہ انتخابی نتائج کی روشنی میں میدان تحریک انصاف ہی کے ہاتھ لگنا چاہئے۔ اے این پی ' قومی وطن پارٹی' جے یو آئی (ف) ' جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی کچھ مضبوط نشستیں ہیں اور ان میں زیادہ کمی بیشی کا امکان نہیں۔ گوکہ خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن اس کے باوجود ایک ایسی فضا ضرور ہموار کی جا رہی ہے کہ دونوں جماعتوں کے مقابلے کی فضا ہموار ہو۔ فی الوقت کی صورتحال یہ ہے البتہ آگے چل کر انتخابی اتحادوں کی تشکیل ہو تو فضا تبدیل بھی ہوسکتی ہے اور توازن میں بھی تبدیلی ممکن ہے۔ جہاں تک وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے جلسوں اور شمولیتی تقریبات میں تواتر کا سوال ہے ایک طویل عرصے سے سیاست' مسند اقتدار کے شہسوار ہونے اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہونے کے ناتے اپنے حلقے میں اثر و رسوخ ' مقبولیت اور لوگوں کی حمایت کا حصول کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ البتہ خیبر پختونخوا میں من حیث المجموع عوام تحریک انصاف کی حکومت کی کامیابیوں کا کیا رد عمل دیں گے اس بارے وزیر اعلیٰ کے دعوئوں کا جائزہ لیا جائے تو مخالف سمت سے آنے والی ہوا کا دبائو اور وزن زیادہ اورطاقتور دکھائی دیتا ہے۔ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں ایک بڑی مشکل یہاں ایک دور حکومت گزارنے کا ہے کسی برسر اقتدار جماعت کی خیبر پختونخوا میں دوبارہ سے اکثریت میں آنا نا ممکن تو نہ ہوگا لیکن معروضی حالات میں اس کا امکان اس لئے نظر نہیں آتا کہ خیبر پختونخوا میں ووٹ دہندگان کا رجحان اب تک حکمران جماعتوں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کے رجحان کا رہا ہے۔ یہاں کا ماحول اور رویہ سندھ اور پنجاب کے برعکس کا شاید اسی لئے بھی ہے کہ خیبر پختونخوا میں لوگوں کو نسبتاً آزادانہ طور پر اپنی رائے کے اظہار کے مواقع زیادہ ہیں اور صوبے کے عوام بھی رائے تبدیل کرنے میں تامل کرنے والے نہیں۔ اس کے برعکس سندھ اور پنجاب میں وڈیروں' چوہدریوں اور جاگیر داروں کے اثرات زیادہ ہیں جبکہ پنجاب کا شہری ووٹر بھی یا تو حکومتی کارکردگی کے باعث یا پھر کسی خاص زاویہ نگاہ رکھنے کی بناء پر مسلم لیگ(ن) کی طرف استقلال سے جھکائو رکھتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کو جس جذباتیت کا فائدہ رہا اس میں آمدہ انتخابات میں کمی تو نظر آتی ہے لیکن اس کے باوجود اتنی ہمدردی اور گرم جوشی بہر حال نظر آتی ہے کہ اکثریت میں کمی آنے کے باوجود انتخابی نتائج میں زیادہ مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بہر حال فی الوقت امکانات اور اندازے ہی لگائے جاسکتے ہیں البتہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اپنی حکومت کی کارکردگی پر جس طرح مطمئن اور عوام کی حمایت کے لئے پر امید ہیں اسے ایک سیاسی شخصیت کی توقعات ہی قرار دی جاسکتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کو جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔ عوام کو بجا طور پر اس امر کی توقع تھی کہ تحریک انصاف صوبے میں تبدیلی اور بہتری کے نعرے کو عملی شکل دینے میں دوسری سیاسی جماعتوں سے مختلف ثابت ہوگی مگر بوجوہ دعوئوں کے باوجود ایسا نہ ہوسکا۔ اس بناء پر تحریک انصاف کی کارکردگی اور پیشرو حکومتوں کی کامیابیوں میں زیادہ فرق نہیں۔ ہر دورکے حکمرانوں کی طرح تحریک انصاف کی قیادت کا بھی کار گزاری سنانے ہی کی حد تک محدود ہونا وہ بنیادی کمزوری ہے جو آئندہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے راستے کی دیوار ثابت ہوگی۔ جذباتی عناصر کے جنوں کی سطح بھی اب اس سطح کی نہیں جبکہ عوام اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں ہی کسی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔تحریک انصاف آمدہ بجٹ کو انتخابی بجٹ بنا کر اور صوبے میں گزرے سالوں کا ازالہ باقی مدت اقتدار میں کیسے کر پائے گی۔ یہ ایک بڑا پیچیدہ اور مشکل سوال ہے جس کے جواب کو معقول اور سہل بنا کر ہی کامیابی و کامرانی کی منزل کو پاناممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں