افغان وزارت دفاع کا اعتراف ناکامی

افغان وزارت دفاع کا اعتراف ناکامی

افغان وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران طالبان نے لگ بھگ 19ہزار حملے کئے جبکہ اس عرصے کے دوران افغان نیشنل سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف تقریباً سات سو کارروائیاں کیں۔ افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں اور حملوں کی تعداد ایک سال سے بھی کم مدت کے دوران اتنی ہوگی اس کا تو کم ہی لوگوں کو اندازہ ہوگا۔ افغان وزارت د فاع کی رپورٹ سے تو اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ افغانستان میں وہ گویاگوریلا جنگ نہیں بلکہ باقاعدہ لڑائی لڑ رہے ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ تقریباً ہر جگہ یا پھر کم از کم اپنے پسند کے محاذ پر وہ پوری طرح سر گرم ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں کابل حکومت کے حملوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ طالبان نے انیس ہزار حملوں میں اگر فی حملہ ایک فوجی اہلکار کو بھی نشانہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہو تو افغان فوج کے انیس ہزار اہلکاروں کو ہلاک کیا جاچکا ہوگا جو بہت بڑی تعداد بنتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں افغان فوج کو 2021 طالبان کو گرفتار اور 365 کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اگر طالبان کے انیس ہزار حملوں میں افغان فوج کے جانی نقصان کو نصف سے بھی کم تصور کیا جائے پھر بھی طالبان کا پلہ بھاری رہا ہوگا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ افغان وزارت دفاع نے اپنے فوجوں کے جانی نقصان کے اعداد و شمار دینے سے گریز کیا۔ افغان وزارت دفاع کی رپورٹ کے تناظر میں افغانستان کی صورتحال اور قیام امن کے امکانات کو دیکھا جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے جو صورتحال بیان کی گئی ہے اس میں کابل حکومت کے پاس افغان طالبان سے سوائے مذاکرات اور سخت شرائط قبول کرکے مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نظر نہیں آتا۔ افغانستان کی اندرونی صورتحال کی ابتری کی ایک بڑی وجہ اپنے معاملات پر توجہ دینے کی بجائے راء اور پاکستان مخالف عناصر کی افغان حکام کی جانب سے سر پرستی ہے جو کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ افغان حکومت کبھی اس پوزیشن میں آئے کہ وہ ان کو اپنے ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے سے روک سکے۔ جب تک افغانستان میں داخلی طور پر استحکام نہیں آتا اور افغان من حیث القوم متحد نہیں ہوتے اور ملک میں ہر گروہ کو حصہ بقدر جثہ حکومت اور اقتدار میں شامل کرکے ان کو مطمئن نہیں کیاجاتا افغانستان میں مستقل بنیادوں پر امن کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔
یوٹیلٹی سٹوروں پرغیر معیاری اشیاء کی فروخت کا معاملہ
یوٹیلٹی سٹورز کار پوریشن کی جانب سے غیر صاف شدہ ناقص اور مضر صحت تیل و گھی کی فروخت کا سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس لینے اور کارپوریشن کے سٹوروں میں غیر معیاری چاول دالوں اور دیگر اشیاء کی فروخت کے انکشاف کے بعد اشیاء کا معیار جانچنے کے لئے ٹیسٹنگ سروسز حاصل کرنے کا اقدام طفل تسلیوں کے مترادف اقدام گردانا جانا فطری امر ہوگا۔اس کے باوجود یوٹیلٹی سٹورز پر چینی' چاول' دالیں' گھی' کوکنگ آئل اور گرم مصالحوں سمیت مختلف اشیائے خوردو نوش کے معیار کو جانچنے کے لئے مستند لیبارٹری کی خدمات کے حصول کی مخالفت نہیں کی جاسکتی ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ایک طویل عرصے تک سستے اشیاء کی فروخت کے نام پر صارفین کو دھوکہ کیوں دیتی رہی ہے۔ معیاری اشیاء حاصل کی جائیں تو ان کے معیار کو جانچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اگر کارپوریشن کے حکام ملی بھگت اور ممکنہ مالی منفعت کے باعث آنکھیں نہ بند کرلیتے تو سرکار کی چھتری تلے سٹوروں میں اشیاء کے معیار پر کبھی سودے بازی نہ ہوتی۔ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کے صارفین سے فراڈ سے صارفین کا اعتماد جس طرح سے مجروح ہوا ہے اس کی بحالی آسان کام نہیں۔ عوام کی ایک بڑی تعداد ان سٹوروں سے استفادہ کرتی رہی ہے لیکن اب کم ہی لوگ سرکار کی چھتری تلے عوام کی صحت سے کھیلنے والوں پر اعتماد کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ ایسے میں یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کے عہدیداروں کے پاس یہی راستہ باقی بچتا ہے کہ وہ یوٹیلٹی سٹوروں پر معیاری اشیاء کی فراہمی کو ممکن بنائیں تاکہ صارفین کا شکستہ اعتماد بحال ہو۔معیاری' صاف اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیاء کی فراہمی شہریوں کا حق اور قانون کی پاسداری ہے۔ اب تک اس ضمن میں کوتاہی کے ارتکاب پر یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات اور تادیبی کارروائی ہونی چاہئے اور آئندہ کے لئے حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ سرکاری سٹورزکے لبادے میں عوام کو مزید دھوکہ نہ دیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں