امریکہ سے آنے والی خبریں

امریکہ سے آنے والی خبریں

اس کے باوجود کہ ایک مریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سات اسلامی ممالک کے باشندوں کے لیے امریکی ویزا جاری نہ کرنے اور تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخل ہونے کے بارے میں پابندیوں کے حوالے سے حکم نامہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے ، امریکہ سے اچھی خبریں نہیں آ رہی ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ ان ممالک میں پاکستان کا بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک معاصر کی خبر ہے کہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے سفیر متعینہ امریکہ جلیل عباس جیلانی کو ''ایڈوائس'' دی ہے کہ جماعت الدعوة کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کردیاجائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروںسے معاملت کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ جہاں تک امریکی عدالت کے فیصلے کا تعلق ہے یہ صرف ان لوگوں کی مشکلات دور کرنے سے متعلق ہے جو صدارتی فرمان کے جاری ہونے کے بعد راستے میں تھے اور باقاعدہ سفری دستاویزات کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ان کی تعداد کہا جارہا ہے کہ ایک سو سے دو سو کے درمیان ہے۔ انہیں صرف ان کے دوران سفر پھنس جانے کی وجہ سے ریلیف دیا گیا ہے۔ حکم نامے کے آئینی پہلو کو زیرِ غور نہیں لایا گیا ہے جب کہ امریکہ کا آئین ہر قسم کے نسلی ' مذہبی اور علاقائی امتیاز کو مسترد کرتا ہے۔ کب تک صدارتی حکم نامے کا معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچتاہے اور کب اس کے آئینی پہلو پر بحث ہوتی ہے سردست کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ صدارتی فرمان خود عارضی ہے یعنی ابتدائی طور پر نوے دن کے لیے جاری کیا گیا ہے اور بعض حلقوں میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس وقت تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے کی ذمہ داریوں سے کُلی طور پر آگاہ ہو چکے ہوں گے اور شاید اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کر لیں۔ تاہم اس عارضی مدت میں بھی تارکین وطن' پناہ گزینوں اور امریکی ویزے پر امریکہ جانے والوں کو جو نقصان ہو گا ہو چکا ہو گا۔ 

صدر ڈونلڈٹرمپ کے ''امریکہ امریکیوں کیلئے '' کے انتخابی نعرے پر جس طرح امریکہ میں عمل درآمد شروع کیا گیا ہے اس پر یورپ سمیت دنیا بھر کے ممالک میں اظہارِ ناپسندیدگی کیا جارہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ان ملکوں کی حکومتوں پر امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نئے سرے سے غور کرنے کے بارے میں دباؤ بھی آئے کیوں کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ دیگر ملکوںکے معاشی اور تجارتی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔
سات اسلامی ملکوں کے باشندوں پر امریکہ میں داخلہ کی پابندی کے بعد وہائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ ان میں پاکستان سمیت دیگر ممالک بھی شامل کیے جائیں گے۔ یہ بھی شنید ہے کہ ان پابندیوں سے مسیحی مستثنیٰ ہوں گے۔ ٹرمپ کی پابندیوں کا یہ پہلو مذہبی تعصب پر مبنی ہونے کی وجہ سے اور بھی قابلِ مذمت ہے۔ اور دنیا بھر میں امریکہ کے اس صدارتی فرمان کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے ۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے سطور بالا میں معاصرکی خبر کاذکرکیا جا چکا ہے جس کے مطابق امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت الدعوة کے خلاف کارروائی کی جائے بصورت دیگر پاکستان پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ جماعت الدعوة دعوت و تبلیغ اور رفاہی کاموںمیں مصروف ایک مذہبی جماعت ہے تاہم امریکیوںکا کہنا ہے کہ یہ لشکرطیبہ کا پرامن چہرہ ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک عالمی مالیاتی تحقیقاتی ادارے نے جماعت الدعوة کے بین الاقوامی مالیاتی روابط دریافت کیے ہیں۔
پاکستان پریہ الزام کوئی قانونی عدالتی الزام نہیں ہے۔ یہ ایک سفارتی کارروائی ہے جوسفارتی ذرائع سے کی گئی ہے۔ لہٰذا اس کا جواب اب سفارتی ذرائع اورطریقہ کار کے مطابق ہی ممکن ہے۔ انہی کالموں میں متعدد بار اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کو فعال تر سفارت کاری کی ضرورت ہے جس کے لیے ملک کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور نئے تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔ وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیر کے تنازعہ پر جس مضبوطی سے موقف کا اظہارکیا تھا اس کے بعد دنیا کو پاکستان کے موقف پر قائل کرنے کی ضرورت تھی۔ جن منتخب ارکان کو مختلف ممالک میں اس کام کے لیے بھیجا گیا تھا ان کی پوری تیاری نہ تھی اور انہیں دفتر خارجہ کی مطلوبہ معاونت بھی شاید کم ہی حاصل تھی۔ اس کے بعد ضرورت تھی کہ ان منتخب نمائندوں کے تاثرات اور رپورٹوں سے نتائج اخذ کیے جاتے اور نئے سرے سے سفارتی کوششیں کی جاتیںلیکن ایسا نہ کیا گیا ۔
اب جب دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوںکے خلاف آواز اٹھ رہی ہے ، مختلف ممالک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی روشنی میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں نیٹو کے ممالک کے امریکی پالیسیوں سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
اس وقت بدلتی ہوئی دنیامیں بین الاقوامی خارجہ تعلقات میں جن تبدیلیوں کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں ان پرنظررکھنے اور پاک امریکہ تعلقات پر ٹرمپ پالیسی کے اثرات کے بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے شعبوں میں ہمارا بہت حد تک انحصار امریکہ پر ہے۔ اور امریکی وزیر خارجہ کے انتباہ کی روشنی میں عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کی معاملت کے متاثر ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خارجہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے اور دنیا کے ممالک اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے فعال تر سفارت کاری کی طرف بڑھا جائے۔

متعلقہ خبریں