سیاست میں برداشت اور شائستگی کو رواج دیجئے

سیاست میں برداشت اور شائستگی کو رواج دیجئے

سیاست و صحافت کے اس طالب علم کو ہنسی آتی ہے جب مسلم لیگ کے نون گروپ سے تعلق رکھنے والے ہمارے ''لیکن'' سمیت دوسرے دوست یہ فرماتے ہیں کہ ''تحریک انصاف نے سیاست کے مہذب کلچر کو خراب کیا۔ عبدالرشید بٹ المعروف شیخ رشید احمد نے قومی اسمبلی کے ایوان میں محترمہ بے نظیر بھٹو بارے جو بد زبانی کی اس کا سکرپٹ بھی عمران خان نے لکھ کر دیا تھا۔؟ لیگی رہنمائوں طارق فضل' مریم اورنگزیب' دانیال و طلال چوہدری کی اتنی سیاسی عمر نہیں جتنی سیاست میں جولائی 1977ء کے بعد داخل ہوئی بدزبانیوں کی عمر ہے۔یا اس سے قبل اسلامی صحافت کے علمبرداروں کے اخبارات و جرائد میں آب زم زم سے دھوکر بھٹو خاندان بارے خرافات لکھنے کی تاریخ۔ ہمارے ایک دوست ہیں میں انہیں محبت سے ''جناب لیکن'' کہتا ہوں بھلے مانس انسان ہیں انہیں مجھ سے شکوہ رہتا ہے کہ میں صحافی کم اور جیالا زیادہ ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کبھی جیالا تھا متوالہ نہ صالح ہونے کا دعویٰ کیا سیاست و تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے سیاست و صحافت کی تاریخ کے اوراق الٹتا رہتا ہوں۔

تاریخ بنیادی طور پر آئینہ ہے۔ اس میں سب کو اپنے پرکھوں کا اصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ کسی بھی طرح تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بلاگرز کی زبان و بیان دانیوں کا حامی نہیں ہوں۔ سیاست من چلے کاسودا نہیں شرف انسانی سے عبارت مشن ہے۔ مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ بھٹوز کی اندھی دشمنی میں ہمارے صالحین' اسلامی صحافت کے علمبرداروں اور جنرل ضیاء کے آشیر باد سے قائم ہونے والی مسلم لیگ کے نون گروپ نے جو بیج بوئے اب انہیں اس کی فصل کاٹنا پڑ رہی ہے۔ محترمہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو خالص مشرقی خواتین تھیں۔ مخالفین کی گالیوں پر ان کی آنکھیں بھر آتیں۔ دکھی ہوتیں مگر ان خواتین کے کارکن بھی جوابی طور پر گالی دینے سے اجتناب کرتے۔ اب نواز لیگ کا مقابلہ نوجوانوں کے اس طبقے سے ہے جس کی سیاسی تربیت ہی نہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کی اکثریت اس طبقے سے ہے جو سیاسی عمل میں کرپشن سے نفرت و بیزاری کی وجہ سے شامل ہوا ہے۔ سو نفرت و بیزاری کے اظہار کے اطوار مختلف ہوتے ہیں۔ معاف کیجئے گا اگر تحریک انصاف کے نوجوان بد زبان و بد تمیز ہیں۔ سیاسی شائستگی سے بے خبر تو کیا نو ن لیگ 1988ء سے آج تک اپنے مخالفوں کو قصیدہ بردہ شریف یا کلام سلطان باہو سناتی رہی ہے؟۔ مکافات عمل ہے جو بویا وہی کاٹنا ہوگا جو دیا سود سمیت وصول کرنا ہوگا۔ اس پر دو آراء نہیں کہ شائستگی کا دامن تھامے رہنما شرف انسانی کی معراج ہے مگر شکوہ فقط تحریک انصاف سے کیوں۔ ابھی چند روز قبل سپریم کورٹ کے باہر خواجہ سعد رفیق فرما رہے تھے'' ہمیں آف شور کمپنیوں کے طعنے دینے والوں کی تو آف شور اولاد موجود ہے''۔ کہئے یہ انداز گفتگو اخلاقیات کے کس سنہرے اصول کے عین مطابق قرار پائے گا؟۔ مسلم لیگ(ن) کو سمجھنا ہوگا منتخب ایوانوں کے اندر یا باہر کے پبلک مقامات پر اس کی ذمہ داری دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ طلال چوہدری اور عابد شیر علی کچھ عرصہ قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کو کس چیز کا آپریشن کروانے کا مشورہ دے رہے تھے؟ ۔ بندگان خدا آپ اپنی زبانوں کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہیں تو دوسروں کی طرف سے جواب آں غزل پیش کئے جانے پر برہمی کیوں؟۔کاش ہمارے اسلامی صحافت کے علمبرداروں اور جنرل ضیاء الحق کے تربیت یافتگان نے صحافت و سیاست میں بد زبانیوں کی فصل نہ بوئی ہوتی۔ کیا سیاہ تاریخ ہے کہ 1988ء میں شریف خاندان کی اقامت گاہ پر پیپلز پارٹی کے خلاف قائم میڈیا سیل کے سربراہ حسین حقانی تھے اور شام چوراسی کے ایک صحافت فنکار ار وزیر آبادی استرے جیسے ''پاکباز'' اس سیل کے سرپرست۔ نفرتیں بوتے ہوئے مستقبل بارے سوچا جانا چاہئے تھا کہ کل کیا ہوگا اور کیا ہوسکتا ہے۔ سیاست و صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ذاتی رائے یہی ہے کہ بولنے اور لکھنے میں عدم توازن اور اخلاق باختگی کا مظاہرہ گلے پڑسکتا ہے۔ احتیاط لازم ہے لیکن تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ سو اے رہبران سیاست' شرف انسانی اور اخلاقیات کے دوام کے لئے اصلاح کی تحریک کا آغاز گھر سے کیجئے۔ تطہیر ذات کو اولیت دیجئے تاکہ تطہیر سماج کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے۔ بدزبانیاں' تماشے اور باندر کلہ کھیل بہت ہوچکا۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ سیاسی کارکنوں کے حقیقی جمہوری کلچر کو فروغ دئیے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں۔ دستیاب جماعتوں کو چاہئے کہ اپنے اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کا اہتمام کریں' انہیں شخصیت پرستی اور خاندانی وفاداری کے کلوں سے باندھنے کی بجائے جماعتوں کے دستور و منشور کا پابند بنائیں۔ سٹڈی سرکل قائم کریں جو سیاسی رہنمائی کے ساتھ سیاست کے ادب و اداب سے روشناس کروائیں۔ ان سارے کاموں کے لئے لازم ہوگا کہ جماعتوں کے اندر بھی انتخابی جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے۔ نامزد کردہ عہدیداران اور منتخب عہدیداروں کے مزاج اور اظہار میں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سیاست کو کاروبار اور گالی نہ بنائیں۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو کس قسم کا سماج اور ورثہ دے کر جانا چاہتے ہیں۔ مکرر عرض ہے سید ابوالحسن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ الکریم کا ارشاد ہے ''کلام کرو تاکہ پہچانے جائو''۔

متعلقہ خبریں