محنت کے بل بوتے پر ترقی کی روشن مثالیں

محنت کے بل بوتے پر ترقی کی روشن مثالیں

ہمارے ایک مہربان مشتاق یوسفزئی نے کتاب چہرے پر' پی ٹی وی پشاور کے ایک پرانے پروگرام چہرے کی ویڈیو لگا کر روانہ کی ہے۔ یہ پشتو پروگرام 1982ء میں پیش کیا جاتا تھا اور جس میں معاشرے کے وہ لوگ جنہوں نے شدید ناداری اور مالی وسائل کی کمی کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور نہایت ہی نا مساعد حالات میں بھی زندگی کی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے معاشرے میں ایک باعزت مقام حاصل کیا۔ اپنے واقعات بیان کرتے ہیں اس پروگرام میں اہم شخصیات مہمان بن کر آئیں اور اپنی زندگی کے بعض ایسے گوشوں سے نقاب اٹھایا جو بالیقین ناظرین کے لئے ایک انکشاف کا درجہ رکھتی تھیں۔ ہم نے جس ویڈیو کا ذکر کیا اس میں بین الاقوامی شہرت کے فزیشن ڈاکٹر الف خان اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔ چونکہ ہم پہلے بھی اپنے کسی کالم میں تفصیل سے اس کا ذکر کر چکے ہیں۔ چنانچہ آج اسی پروگرام کے کچھ دوسرے مہمانوں کا حال پیش کرتے ہیں۔ پروگرام کے پہلے مہمان پشتو زبان و ادب کی بہت بڑی شخصیت تقویم الحق کاکا خیل تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ سرکاری کالجز میں پشتو کے پہلے استاد تھے۔ فاضل دیو بند تھے اور بنوں کالج میں ان کی پہلی تقرری بی اے کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ ان کے بیان کے مطابق انہوں نے میٹرک سے ایم اے تک ساری تعلیم پرائیویٹ طورپر حاصل کی۔ بی اے کے امتحان کے لئے انگریزی بنیادی قاعدے سے سیکھی۔ تقویم صاحب کچھ عرصہ تک سول سیکرٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری بھی رہے۔ وہاں بڑ ے جفادری قسم کے انگریزی دان ان سے ڈرافٹنگ میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ اسی طرح ایک پروگرام میں اسلامیہ کالج کے تاریخ ساز ڈین اور علوم شرقیہ کے بہت بڑے عالم قاضی نور الحق ندوی نے انکشاف کیا کہ جب میں ندوة العلماء میں پڑھنے کے لئے گیا تو میرے پاس پہننے کے لئے کوئی اضافی جوڑا نہ تھا۔ شہر سے باہر دریا پر ہفتے میں ایک بار کپڑے دھونے کے لئے جاتا۔ پہلے اپنی قمیض دھوتا جب وہ سوکھ جاتی تو اسے لپیٹ کر پاجامہ دھوتا۔ مصر کے جامعہ اظہر سے علوم اسلامیہ سند فضیلت حاصل کی۔ وہاں کچھ عرصہ پڑھاتے رہے۔ بتایا کہ زندگی میں کبھی کسی ملازمت کے لئے د رخواست نہیں دی۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے از خود ان کی خدمات حاصل کرنے کی استدعا کرتے۔ رحیم اللہ یوسفزئی صحافتی دنیا کا بہت بڑا نام ہے۔ انہوں نے چہرے کے ایک پروگرام میں بتایا کہ ان کے والد فوج میں نان کمیشنڈ آفیسر تھے جس کی وجہ سے مختلف فوجی چھائونیوں کے اچھے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بتایا کہ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کراچی کے ایک انگریزی روزنامے کے چھاپہ خانے میں پیکر کے طور پر کیا۔ جی ہاں جسے آپ آج کی اصطلاح میں درجہ چہارم کاملازم کہہ سکتے ہیں۔ پریس میں چھپنے والے اخباروں کے بنڈل بنا کر گاڑیوں میں رکھنا ان کا کام تھا۔ اپنے زمانے کے مشہور براڈ کاسٹر شاعر اور بے شمار شعری اور نثری مجموعوں کے مصنف سمندر خان سمندر نے عملی زندگی کا آغاز دیہاڑی پر روزانہ کے مزدور کی حیثیت سًے کیا۔ نوشہرہ سے اپنے گائوں بدرشی تک تانگہ بھی چلاتے رہے۔ بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ انگریزی محاورے کے مطابق صرف منہ میں سونے کا چمچہ لانے والے ہی زندگی میں کامیابیاں حاصل نہیں کرتے اپنی خداداد ذہانت اور مسلسل جدوجہد سے بھی اپنی قسمت بنا لیتے ہیں۔ ہمارے ایک عزیز جو اب دنیا میں نہیں رہے مردان کی ایک عدالت میں ٹائپسٹ تھے۔ روزانہ ایک مضافاتی گائوں سے 10'12 کلو میٹر کا فاصلہ سائیکل پر طے کرکے کام کے لئے آتے۔ پرائیویٹ طور پر تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بی اے کرنے کے بعد اپنے ایک مہربان د وست کے تعاون سے پشاور یونیورسٹی کے کسی ہاسٹل میں کارکن کی عارضی ملازمت حاصل کی۔ عارضی ان معنوں میں کہ یہ آسامی طلبہ کے فنڈز سے قائم کی گئی تھی۔ لاء کالج کی شام کی کلاسوں میں داخلہ لیا۔ قانون کا امتحان پاس کیااور پھر وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ اس میں خوب نام کمایا۔ پہلے ہائی کورٹ کے جج بنے پھر سپریم کورٹ کے معزز جج کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کا تمام کیرئیر بے داغ رہا اور لوگ آج بھی ایک اچھے قانون دان کی حیثیت سے ان کا ذکر کرتے ہیں۔ چلئے یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہمارے شہر کی یونیورسٹی کے رئیس الجامعہ جو کچھ عرصہ کے لئے گورنمنٹ کالج مردان میں بھی پڑھتے رہے لیکن تنگ دستی کی وجہ سے ایف اے کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور پرائمری سکول میں ٹیچر بن گئے۔ شنید ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں تمباکو کی ایک کمپنی میں عارضی ملازمت بھی کرتے رہے۔ کام ان کا تمباکو کے بوروں پر پوچھے سے نمبر لگانا ہوتا تھا مگر ہمت نہیں ہاری ۔ پشاور یونیورسٹی کے آثار قدیمہ کے شعبے سے تعلیم مکمل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کا ایم اے میں کامیابی کا ریکارڈ آج تک قائم ہے۔ کسی نے ان سے زیادہ نمبر نہیں لئے۔ اسی شعبے میں استاد بنے۔ کیمبرج یونیورسٹی سے آثار قدیمہ کے مضمون میں ڈاکٹوریٹ کی سند حاصل کی۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے مسلسل باری باری دو جامعات کے رئیس رہے۔ اب تو لوگ انہیں نئی یونیورسٹیاں کھڑی کرنے کی وجہ سے بابائے جامعات بھی کہنے لگے ہیں۔اس نوع کے روشنی کے میناروں کا ذکر ضروری ہوتا ہے۔ یہ سیلف میڈ شخصیات ہیں شارٹ کٹس سے سب کچھ حاصل کرنے کے خواہش مند لوگ ان شخصیات کی جدوجہد سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں