ہمارا سرمایہ افتخار

ہمارا سرمایہ افتخار

ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق آئی ایس آئی دنیا کی ٹاپ فائیو سیکرٹ ایجنسیز میں پہلے نمبر پر ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ کی سی آئی اے، تیسرے نمبر پر برطانیہ کی ایم آئی سکس، چوتھے نمبر پر روس کی فیڈرل سیکورٹی سروسز اور پانچویں نمبر پر اسرائیل کی موساد ہے۔پاکستان بیشتر معاملات میں دنیا سے بہت پیچھے ہے۔ روایتی جنگی صلاحیت ہو یا معیشت کا میدان، ٹیکنالوجی کی مسابقت ہو یا انفرا سٹرکچر،تعلیم کا میدان ہو یاطبی سہولتوں کی فراہمی ان تمام شعبوں میں پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں تک پہنچنے کے لئے ابھی کئی عشروں تک محنت کرنا ہوگی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو آئی ایس آئی نے دنیا میں پاکستان اور پاکستانیوں کو سربلند کیا ہے اور گمان غالب ہے کہ دو ہزار تیس تک آئی ایس آئی بہت سے نئے سنگ میل عبور کر کے جاسوسی کی دنیا کی بے تاج بادشاہ ہوگی۔

دو ہزار ایک یعنی نائن الیون سے پہلے پاکستانی فوج کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی جنگی صلاحیت بھارت کو سامنے رکھ کر ڈیزائن کی گئی ہے اور یہ پہاڑوں میں جنگ نہیں لڑ سکتی۔ اب یہ میدان بھی سر کر لیا گیا ہے ۔دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میںپاکستان آرمی کو آتش و آہن کے کھیل میں اتنا مشاق کر دیا ہے کہ اس تجربے کے حامل فوجیوں کو اگر کبھی مقبوضہ کشمیر کے پہاڑوں اور جنگلوں میں بھارتی فوج سے لڑنا پڑا تویہ اسے ناکوں چنے چبوا دیں گے۔ریکارڈ کی بات کر رہا ہوں کہ حالیہ برسوں میں پاکستان آرمی نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف دنیا کی سب سے سخت جنگ لڑی ہے۔ ایک ایسے دشمن کے خلاف جو آگے بھی موجود تھا اور پیچھے بھی۔ اندر بھی موجود تھا اور باہر بھی۔ہماری فوج اس دشمن سے نبرد آزما رہی جسے آرمی کی طرح خود کو بچا کر دشمن پر حملہ کرنے کی کوئی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ یہ وہ دشمن تھا جو جان دینے اور جان لینے کے لئے سامنے آتا تھا۔اس خطرناک انداز کے جنگجوئوں کے ساتھ لڑنا ارفع جذبے اور اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ تربیت کے بغیر ممکن نہ تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری پیشہ وارانہ تربیت دنیا کے طاقتور ترین ملکوں سے بھی بہتر ہے۔شام کی لڑائی میں جنگجوئوں نے شامی فوج کو تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دیا۔عراق میں عراقی اور اتحادی فوج مل کر بھی جنگجوئوں سے مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکی۔افغانستان میں اتحادی اور افغان نیشنل آرمی مل کر بھی طالبان اور القاعدہ کا صفایا نہ کر سکی لیکن پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان سے لے کر خیبر ایجنسی تک فاٹا کے سینکڑوں میل لمبے علاقے میں جنگجوئوں کا خاتمہ کیا، اپنی رٹ قائم کی اورثابت کیا کہ وہ دنیا کی سب سے بہتر اور فعال آرمی ہے۔
فاٹا کا محاذ شام ، عراق ، افغانستان سے مشکل تر تھا۔ شام کی زیادہ تر میدانی علاقے کی جنگ ہے۔عراق کی زیادہ تر جنگ بھی میدانی علاقے کی جنگ ہے۔ افغانستان کی جنگ پہاڑی ہے لیکن تصور کریں امریکہ کی فضائی صلاحیت کا جس میں بی باون جیسے خوفناک جنگی طیارے بھی استعمال ہوتے رہے،ذہن میں رکھیںکہ امریکی فوجی ایسے خوفناک اور مہلک ہتھیاروں سے لیس تھے جن کا تصور ہی دشمن پر لرزہ طاری کر دیتا ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ دشمن کا صفایا نہ کر سکے جبکہ پاکستان آرمی نے جنگی لحاظ سے خطرناک ترین علاقے اور جنگی اعتبار سے خطرناک ترین دشمن کا صفایا کر دیا اور شنید ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جا رہا ہے جس کے بعد یہاں شورش کے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔پاکستان آرمی صرف جنگی نہیں اخلاقی اعتبار سے بھی صف اول کی فوج ہے۔شائد چھ سال پہلے کی بات ہے ۔میرے والد کی میت تدفین کے لئے پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان لے جائی جا رہی تھی۔ آگے ایمبولینس تھی اور پیچھے کار میں، میں اور میری فیملی۔ پیزو کے قریب مخالف سمت سے ایک فوجی کانوائے آرہا تھا۔وہ دن دہشت گردی کے لحاظ سے انتہائی سخت دن تھے۔ ہمیں اس طرح کی صورتحال کا تجربہ نہیں تھا کہ سائرن بجاتی فوجی گاڑیاں مخالف سمت سے آرہی ہوں تو ان کے لئے راستہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ والد کی وفات کی وجہ سے کچھ ہمارے دماغ بھی مائوف تھے ۔اُدھر سے فوجی کانوائے آرہا ہے ادھر سے ہم تیز رفتاری سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم اس خطرناک فاصلے پر اس کے قریب پہنچ گئے جہاں ان کو گولی چلانے کی اجازت ہوتی ہے۔ وہ چاہتے تو ہمیں دشمن سمجھ کر ہم پر فائر کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ہوائی فائر کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ مجھے گاڑی سے باہر آنے کو کہا، شناخت طلب کی،سلیقے سے سمجھایا کہ اس طرح کی غلطی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے اور رخصت ہو گئے۔لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ سے ملحقہ روڈ کی طرف سے مجھے گولڑہ موڑپشاور روڈ کی طرف لگ بھگ ڈیڑھ سال تک روزانہ آنے جانے کا اتفاق ہوا اس طویل عرصے میں، میں نے ایک بار بھی کسی فوجی کو کسی گاڑی والے کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرتے یا اس پر رعب جھاڑتے نہیں دیکھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری فوج کو صرف پیشہ وارانہ تربیت کے اعلیٰ معیار پر ہی استوار نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے اخلاقی اعتبار سے بھی دنیا کی بہترین فوج بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ پاکستان آرمی کودنیامیں یونہی سر بلند رکھے کہ یہ حقیقی معنوں میں ہمارا سرمایہ افتخار ہے۔

متعلقہ خبریں