امریکہ میں مسلمانوں کی آمد' مشکلات اور مضمرات

امریکہ میں مسلمانوں کی آمد' مشکلات اور مضمرات

اس میں شک نہیں کہ گزشتہ دو صدیوں میں دنیا نے جتنی ترقی مادی لحاظ سے کرنی تھی اس کی بہترین نمائش امریکہ ہی میں موجود ہے۔ دنیا جہاں سے ماوزے تنگ جیسے نا بابغہ شخص کے علاوہ (جس نے چین کے قوم پرست رہنما اور خاک چین سے محبت کی وجہ سے کبھی چین سے باہر سفر نہیں کیا) تقریباً ہر شخص کی خواہش رہی ہے کہ مرنے سے پہلے ایک دفعہ امریکہ دیکھ لے۔

آج کا یہ امریکہ' ایک دن میں نہیں بنا۔یہاں تکتک پہنچنے میں امریکہ کو صدیاں لگیں اور بلا مبالغہ دنیا بھر سے جب لوگ امڈ کر اس کی طرف آئے تو ان مختلف مزاج اور مہارتوں کے حامل لوگوں نے دن رات ایک کرکے امریکہ میں اپنے لئے جگہ بنانے کے لئے جان مار کرکام کیا۔ امریکہ کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑا حصہ افریقہ کے سیاہ فام احابش کاہے جو غلام بن کر صدیوں تک بیگار کرتے ہوئے امریکہ کی زراعت کو ترقی دینے کے لئے اپنی جانیں کھپاتے رہے۔ '' تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے'' کے مصداق امریکہ میں ایسے سفید فام دانشور' فلاسفر اور سیاستدان بھی پیدا ہوئے جنہوں نے انسانی بنیادوں پر امریکہ میں رہنے والے سارے لوگوں کو امریکہ کی جنسیت (قومیت) کے حصول کے لئے قانون سازی کی اور اس مقصد کے لئے کہ امریکہ میں رہنے والے مختلف اقوام و قبائل اور دنیا بھر سے آنے والے لوگ امریکہ کی نیشنلٹی حاصل کرنے کے بعد برابر کے شہری حقوق کے حامل ہوں گے۔ امریکی سر زمین پر مساوی شہری حقوق اور انسانی مساوات کے لئے جو جنگ لڑی گئی وہ ان حبشی غلاموں کی اولاد کے لئے تھی جن کے ابا ئو اجداد نے کبھی جانوروں سے بھی بد تر زندگی امریکی زمینوں کو قابل زراعت بنانے میں کھپائی تھی۔
اگرچہ یہ بہت لمبی داستان ہے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کو عالمی سپر طاقت کے تخت سے معزول کرا کر امریکہ کیسے آہستہ آہستہ دنیا میں سپر طاقت کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لیکن مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد تیسری دنیا اور جرمنی اور جاپان اور کوریا وغیرہ جیسے ممالک کو سائنسی و ٹیکنالوجی کے میدان میں جو مدد فراہم کی اس کی وجہ سے یہ ممالک اور یورپ بالخصوص اور تیسری دنیا میں بالعموم لوگ ترقی کی راہ پر گامزن ہونا شروع ہوئے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیموں کے بعد دنیا بھر کے دولت مند یہودی جب یورپ سے راندہ درگار قرار پائے تو امریکہ ہی میں ان کو جائے آماں ملی اور انہوں نے وہاں اپنی دولت کی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکی صنعت و تجارت کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ الغرض یوں امریکہ آج کا سپر امریکہ وجود میں آیا۔ لیکن پھر 9/11 ہوا جس نے دنیا کو تبدیل کیا لیکن امریکہ کو بہت زیادہ تبدیل کیا۔ اس المناک واقعہ نے امریکہ کے آئین و قانون کو بری طرح متاثر کیا۔ چونکہ اس واقعہ میں عرب مسلمانوں کو ملزم ٹھہرایاگیا۔ اس لئے امریکہ میں اس کے بعد ہر مسلمان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ 9/11 کے بعد امریکی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا جو بد قسمتی سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں تبدیل ہوا۔ عراق' افغانستان اس کا پہلا نشانہ بنے اور شام' لیبیا' مصر اور یمن وغیرہ اس کا شاخسانہ۔ یہ جنگ آج بھی جاری ہے اور اس جنگ کے دبیز گرد و غبار میں دہشت گرد' معصوم' پر امن' بے گناہ' مجرم اور ملزم کی پہچان ایسی گڈمڈ ہوگئی ہے کہ پندرہ سال گزرنے اور لاکھوں مسلمانوں اور دیگر لوگوں کی ہلاکت کے بعد بھی یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ دہشت گرد کی تعریف کیا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل نے اسی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر اور فلسطینی مسلمانوں کو بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔
بہر حال' مسلمانوں پر یہ آزمائش آئی اور آج بھی جاری ہے اور اس جنگ کا سب سے زیادہ خسارہ مسلمانوں کو ہوا۔ پاکستان کے پینسٹھ ہزار لوگ اور 110ارب ڈالر اس جنگ کی نذر ہوئے۔ پانچ مسلمان ممالک کا اینٹ سے اینٹ بج گیا۔ لیکن ملبہ اب بھی بے گناہ مسلمانوں پر پڑ رہا ہے۔
امریکی انتخابات میں چونکہ ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اگر میں صدر بن گیا تو دنیا بھر سے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگوا دوں گا۔اب جبکہ ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ ٹرمپ واشنگٹن میں وائٹ ہائوس میں براجمان ہوچکے ہیں اور جن ملکوں کے باشندوں کو امریکہ داخلہ مشکل بنا دیا گیا ہے اس میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے اہم مسلمان ممالک شامل ہیں۔لیکن اس میں اطمینان کا ایک پہلو یہ ہے کہ خود امریکہ' یورپ اور دیگر ملکوں میں ٹرمپ کی ان معتصبانہ پالیسیوں کے خلاف بہت شدید مزاحمت جاری ہے جبکہ نیویارک کی ایک عدالت نے ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا ہے۔لہٰذا ٹرمپ کو مسلمانوں کے خلاف تعصب اور تنگ نظری پر مبنی فیصلوں اور اقدامات سے روکنے کے لئے مسلمان ممالک اپنے اختلافات بھلا کر او آئی سی کو زندہ اور فعال بنائے۔روس اس وقت مسلمان ملکوں کے قریب آرہا ہے۔ لہٰذا روس' چین' پاکستان اور ایران مل کر ٹرمپ کی عالمی امن اور صرف ذاتی (امریکی) مفادات کی پالیسیوں کو کائونٹر کرنے میں اپنا کردار ادا کرکے دنیا کو ایک نئی جنگ ' طوفان اور مصیبت سے محفوظ بنائے۔

متعلقہ خبریں