وزارت عظمیٰ کیلئے مسلم لیگ کا انتخاب

وزارت عظمیٰ کیلئے مسلم لیگ کا انتخاب

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی عوامی عہدوں کے لیے نااہلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ابھرنے والے اس سوال کا جواب کہ آئندہ وزیر اعظم کون ہو گا خود میاں نواز شریف نے اپنی مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں دے دیا۔ انہوں نے لیگی پارلیمنٹیرینز سے خطاب کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے لیے خود اپنے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو نامزد کرنے کا اعلان کیا اور اجلاس کے شرکاء نے اس فیصلے کا خیر مقدم تالیاں بجا کر کیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں نواز شریف نے اجلاس میںشریک سوا دو سو کے قریب پارلیمنٹیرینز کو نظر انداز کرکے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو نامزد کیا ہے تاکہ حکومت گھر ہی میں رہے۔ ان کی یہ بات وزن رکھتی ہے۔ کیونکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متعدد ایسے لیگی لیڈر بھی موجود تھے جن کی پارٹی سے وابستگی لمبے عرصے پر محیط ہے،جنہوں نے ماضی میں اپنی پارٹی کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور مشکل حالات میں پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا اور پارٹی لیڈر شپ کے ہر فیصلے میں ان کے ساتھ رہے اور پارٹی ان کے اس کردار کو تسلیم کرتی ہے اور اس کی قدر بھی کرتی ہے اور جو اہلِ سیاست میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور ان کے دامن بھی صاف ہیں مثلاً راجہ ظفر الحق جن کی مسلم لیگ سے وفاداری پر کوئی شک نہیں کیا جاتا۔ میاں شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ تک لانے کے لیے کیونکہ یہ ضروری ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوں اس لیے یہ طے کیا گیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کریں اور اس عمل میں کہا جاتا ہے کہ 45دن درکار ہوں گے اس لیے اس عارضی مدت کے لیے سابق وزیر شاہد خاقان عباسی کو نامزد کیا گیا ہے جو اپنے حلقے میں مقبول ہیں اور سات بار انتخاب میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے لیے میاں شہباز شریف کا انتخاب بظاہر ایک نہایت آسان فیصلہ ہے لیکن بعض ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف اس حوالے سے اپنے قریبی حلقوں میں تامل کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں اور اس کی وجہ قابلِ فہم ہے۔ پنجاب اکثریتی آبادی کا صوبہ ہے ۔ جس پارٹی کی اس صوبے میں اکثریت ہو اسے مرکز میں حکومت بنانے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ وفاق میں حکومت بنانے کے لئے پنجاب میں پارٹی کی کارکردگی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس صوبے کی وزارت اعلیٰ کا کاروبار میاں شہباز شریف اپنی ذاتی صلاحیتوں اور پارٹی میں اپنے لیے حمایت اور مقام کے بل پر بخوبی چلاتے رہے ہیں۔ ان صلاحیتوں کی بنا پر انہیں قومی اسمبلی کی باقی مدت کے لیے بھی اور گمان غالب ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات کے بعد بھی وزارت عظمیٰ کے لیے موزوں سمجھا گیا ہے تاکہ وہ میاں نواز شریف کی روایت کے مطابق وزارت عظمیٰ کے فرائض انجام دیتے رہیں۔ لیکن اس فیصلہ پر اہم سوالیہ نشان یہ ہے کہ میاں شہباز شریف کو اگر پنجاب سے ہٹا لیا جائے تو پنجاب کے معاملات کون دیکھے گا' کیونکہ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اکثریتی آبادی کا صوبہ ہے اور مرکز میں حکومت قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لیے کسی حکمران پارٹی کے لیے پنجاب میں اکثریت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ میاں شہباز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیوروکریسی سے کام لینے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔پارٹی کو متحد رکھنے اور اپوزیشن کو اس کے قد کے مطابق رکھنے کی صلاحیت کا بھی ثبوت دے چکے ہیں۔ اس لیے وہ مرکز میں وزیر اعظم کے طور پر تو کامیاب رہیں گے تاہم پنجاب میں ان کی قیادت میں جس طرح حکومت کا کاروبار چل رہا ہے اور پارٹی بھی متحد ہے بلکہ پرجوش ہے ان کے مرکز میں آنے کے بعد اس صورت حال کو ضعف پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے پارٹی کو ان کے متبادل کی تلاش ہے جس کے لیے کئی نام لیے جا رہے ہیں ۔ ایک نام ان کے فرزند حمزہ شہباز شریف کا ہے ' دوسرا میاں شجاع الرحمان کا ہے ۔ ان دونوں کا تعلق لاہور سے ہے تیسرا نام رانا ثناء اللہ کا بھی ہے جن کا تعلق فیصل آبادسے ہے۔ میاں حمزہ شریف کی نامزدگی سے ایک تو سیدخورشیدشاہ کے تبصرے کو مدِنظررکھتے ہوئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی گھر ہی میںرہ جائے گی۔ دوسرے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ حمزہ شہباز ایک عرصہ سے نامزدگی کے بغیرنائب وزیراعلیٰ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اگر میاں شہباز شریف وزیر اعظم ہوں گے تو انہیں پنجاب میں اپنے وزیراعلیٰ بیٹے سے معاملت میں بھی آسانی ہوگی۔ اور پنجاب میں پارٹی کی اکثریت کو آسانی سے قائم رکھا جا سکے گا۔ میاں شجاع الرحمان اور رانا ثناء اللہ اگرچہ پارٹی کی قیادت کے معتمدین میں سے ہیں تاہم پارٹی میں خود اپنی ذاتی مقبولیت کا دائرہ وسیع کرنے میں کامیاب نظر نہیںآتے۔ مسلم لیگ سمیت ملک کی سبھی سیاسی پارٹیاں اس کے باوجود کہ ان میں پرانے سیاسی ورکروں کی ایک خاصی تعداد ہے کیونکہ بالعموم اپنے لیڈروں کے نام سے پہچانی جاتی ہیں اور مرکزی قیادت ہر قسم کی تعریف و توصیف کی مستحق سمجھی جاتی ہے اس لیے یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ میاں شجاع الرحمان اور رانا ثناء اللہ اس قدر شہرت کے حامل نہیں ہیں جتنے حمزہ شہباز شریف اپنی نوعمری کے باوجود ہیں۔حمزہ شہباز یا وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی لیگی رہنما کیا آئندہ عام انتخابات کے لیے سارے پنجاب کی مسلم لیگ کو متحد اور فعال رکھ سکے گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔اس وقت مسلم لیگ میں میاں نواز شریف کے لیے جو جذبات ہیں کیا وہ آئندہ سال تک یونہی رہیں گے جب عام انتخابات کے لیے امیدواروں کا چناؤ ہو گا اور عوام میں پارٹی کی مقبولیت کو برقرار رکھنے کا سوال اہم ہوگا۔

متعلقہ خبریں