تحریک انصاف کا قومی وطن پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ

تحریک انصاف کا قومی وطن پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف جب اتوار کو اسلام آبادکے پریڈ گراؤنڈ میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے پر یوم تشکر منانے کی تیاریاں کر رہی تھی اس سے ایک روز پہلے تحریک کے دو صوبائی وزراء نے اعلان کر دیا تھا کہ قومی وطن پارٹی کے ساتھ اتحاد ختم کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران تحریک انصاف نے دوسری بار قومی وطن پارٹی سے اتحاد ختم کیا ہے۔ اس بار اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ پاناما کیس کے ایشو پر تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کا موقف ایک نہیں تھا۔ وزیر اطلاعات شاہ فرمان اور وزیر مال علی امین گنڈا پور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے ووٹر ہم سے سوال کرتے ہیں کہ اہم ترین قومی ایشو پر تحریک انصاف کے موقف سے اتفاق نہ کرنے والی پارٹی کس طرح تحریک انصاف کی ہم سفر رہ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ اعلان کرتے وقت کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد خواہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت رہے نہ رہے یہ اصولی فیصلہ ہے۔ لیکن اس اصولی فیصلے کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب تحریک انصاف کے موقف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے پذیرائی حاصل ہو چکی ہے اور قومی وطن پارٹی کے مسلم لیگ ن کے لیے نرم گوشہ رکھنے کا موقف پذیرائی سے محروم ہو چکا ہے۔ تاہم جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیںآیاتھا پاناما کیس میں موقف کے اختلاف کے باوجود یہ اتحاد قائم رہا۔ پاناما کیس کے حوالے سے جماعت اسلامی کا بھی وہی مطالبہ رہا ہے جو تحریک انصاف کا تھا۔ اگرچہ جماعت اسلامی کا دعویٰ ہے کہ احتساب کا مطالبہ کرنے والی وہ اولین جماعت ہے۔ تاہم تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پاناما کیس کے دوران شانہ بشانہ رہیں۔اس طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ دونوں میں قربت بڑھی ہے ۔ تاہم قومی وطن پارٹی سے اتحاد ختم کرنے کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا حکومت سے قومی وطن پارٹی کے دس ارکان کی علیحدگی کے بعد تحریک انصاف کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کی قیمت اور بھی بڑھ گئی ہے اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اب اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 44سے 54ہو گئی ہے جب کہ تحریک انصاف کی اپنی عددی قوت124کے ایوان میں 68ہے۔ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد اگرچہ عوام میں تحریک انصاف کی مقبولیت بلندیوں کو چھو رہی ہے تاہم ایوان میں نمبر گیم میں تحریک انصاف کو اس کے اپنے ہی فیصلے سے کسی قدر دھچکا ضرور لگا ہے۔ اگرچہ یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اسمبلی کی باقی ماندہ مدت میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان کوئی ایسے اختلافات در آ سکتے ہیں جن کی بناء پر جماعت تحریک کے راستے جدا ہو جائیں۔ تاہم اگر ایسی کوئی انہونی ہو جاتی ہے تو جماعت کے سات ارکان کی جدائی تحریک انصاف کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ شاہ فرمان اور علی امین گنڈا پور نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پارٹی نے اصولوں کی بنا پر کیا ہے اور اس فیصلے کی وجہ سے پارٹی کی صوبائی حکومت ختم ہوتی ہے یا قائم رہتی ہے اس سوال کو مدِنظر لائے بغیر کیا ہے۔ اس اصولی فیصلے کے باوجود صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی اکثریت اگرچہ سمٹ جائے گی لیکن ختم نہیں ہو گی۔ عام انتخابات میں ایک سال کا عرصہ رہ گیا ہے۔ اس ایک سال کے عرصے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں سے حکومت قائم کرنے کے لیے فعال اور پرجوش ہونے کی توقع عبث ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اگر پی ٹی آئی کے ارکان کو توڑنے کی کوشش کریں تو اس کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ ایک نہایت مقبول عام حکومتی پارٹی کو چھوڑنے کا فیصلہ کرنے کی توقع کسی صائب الرائے رکن سے نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے تحریک انصاف کے قومی وطن پارٹی سے جدائی اختیار کرنے کے فیصلے سے تحریک کی صحت پر کوئی خاص اثر پڑتا نظرنہیں آتا۔ اس کے برعکس اس وقت جب تحریک انصاف سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے مقبول عوام ہے ایک ایسی پارٹی سے علیحدگی جس سے شکایت یہ ہے کہ اس نے پانامہ ایشو پر ساتھ نہیں دیا کا تحریک کی مقبولیت پر بظاہر اثر پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔

متعلقہ خبریں