اب یہ ہو کر رہے

اب یہ ہو کر رہے

ایک فیصلہ ہے جس پر ہم سب ہی بہت خوش ہیں۔ ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ ایک ملک جس میں نا امیدی اور پژمردگی نے یوں ڈیرے ڈال رکھے تھے کہ دنیا میں اوسطاً مایوسی کی شرح سے دس فی صد سے بھی زیادہ تھے اس ملک میں اس فیصلے کے ساتھ ہی ایک نئی امید جنم لے رہی ہے۔ انصاف کی امید تو ایک عرصہ پہلے سے جاگ رہی تھی اور کچھ نہ ہوتا تو یہ یقین ضرور پیدا ہو چلا تھا کہ جب ہم ہر طرف سے ہارنے لگیں گے تو عدالت عظمیٰ سے کوئی بازو تھام لے گا لیکن ایسی بہادری کے بارے میں شاید کسی نے سوچا نہ تھا۔ ایک ملک کا ایک ایسا وزیر اعظم جس کی مطلق العنانی کی خواہش ایسی منہ زور ہو چکی تھی کہ اس نے اپنے دفاع کے لئے مستقل لوگ رکھ چھوڑے تھے جو مخالفت کرنے کی جرأت کرنے والوں کا منہ نوچ لینا چاہتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو سارے کیس کے دوران مسلسل لوگوں کو' عوام کو یہ یقین دلاتے رہے کہ کہیں سے انصاف کی امید نہ رکھیں' کہیں سے کوئی شخص یہ ہمت نہیں کرسکتا کہ ایک موجود وزیر اعظم کے خلاف کوئی فیصلہ آسکے۔ جے آئی ٹی کے حوالے سے بھی بہت شکوک و شبہات پیداکرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک کہا گیا کہ جے آئی ٹی کے ممبران کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ کن دستاویزات پر دستخط کر رہے ہیں اور ان میں کیا لکھا گیا ہے۔ لیکن یہ خدا کی پکڑ تھی ۔ سو کوچ نقارہ بج کر رہا اور یوں منٹوں میں بساط سمیٹی گئی کہ انہیں تو معلوم بھی نہ ہوسکا کہ کیا ہوا' کب ہوا' کیسے ہوا؟ اور صرف یہی نہیں اپنی جس بیٹی کی تربیت کے لئے وہ مسلسل تین تین اتالیق لگائے ہوئے تھے اس کی سیاسی بساط بھی بچھنے سے پہلے ہی الٹ گئی۔ان سب کا شک بالآخر میاں شہباز شریف پر ہی آکر رک جاتا ہے۔ جنگ تخت نشینی نے ایسی کئی مثالیں پہلے بھی دیکھی ہیں ۔ ہوسکتا ہے اس میں کوئی حقیقت نہ ہو لیکن کئی جانب سے جو سر گوشیاں سنائی دیتی ہیں وہ اسی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ لوگ تو چوہدری نثار کو بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں بلکہ بعض اصحاب کو تو یہ چہ میگوئیاں بھی کرتے سنا گیا ہے کہ ایک بار تو عمران خان کے دھرنے میں بھی سارا سٹیج سج چکا تھا۔ تخت اور تاج میاں شہباز شریف کی گود میں گرائے جانے کا پورا بندوبست ہو چکا تھا لیکن مولانا فضل الرحمن اس سب کے آڑے آگئے اور جہاں وہ آجائیں وہاں کسی اور کی سیاست نا ممکن ہو جاتی ہے۔ اب بھی وہ ان کی مدد کو آئے تو سہی لیکن ان کے لہجے میں وہ مضبوطی نہ تھی۔ شاید کچھ بھانپ رہے ہوں گے یا واقعی اب کی بار وقت میاں نواز شریف کے مخالف کھڑا تھا۔ ایک اور تجزیہ کہتا ہے کہ میاں صاحب کو ان کے کم عقل مشیروں وزیروں نے مروا دیا۔ یہ بات تو سو فی صدی درست ہے کیونکہ میاں صاحب مطلق العنانی کی خواہش کے ساتھ ساتھ خوشامد کے بہت عادی ہوچکے تھے۔ ان کے ارد گرد یہ معاملہ اس قدر جڑ پکڑ چکا تھا کہ ان کے وزیروں کو بھی خوشامد کی بہت عادت تھی۔ اسی صورتحال نے میاں صاحب کو بھی معاملات کو سدھارنے کی خواہش تک نہ کرنے دی۔ وہ صرف منہ زبانی مخالفین اور خود پر لگے الزامات کا مقابلہ کرتے رہے۔ اتنی توانائی اگر عدالتی معاملات کو سدھارنے میں صرف کی ہوتی تو شاید آج حالات میں ایسی ابتری نہ دکھائی دیتی اور نہ ہی انہیں یوں دکھی دل سے لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہ پڑتی کہ ان کا دامن صاف ہے۔ دامن تو یقینا صاف نہیں۔ موٹر وے' یلو کیب' گندم کی خریداری' میٹرو بس سروس' اورنج ٹرین' حدیبیہ ملز' ایک طویل فہرست ہے جو دامن کے صاف نہ ہونے کی گواہ ہے۔میاں صاحب جس غلط فہمی کا شکار رہے ہیں اور شاید اب بھی ہوں گے وہ یہ ہے کہ لوگ انہیں بھاری مینڈیٹ دیا کرتے ہیں۔ کئی لوگوں کا یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے جھوٹ خود تراشتے ہیں اسے اپنے ارد گرد تعمیر کرتے ہیں پھر اس پر یقین کرتے ہیں اور اس حد تک یقین کرنے لگتے ہیں کہ وہ انہیں سچ لگنے لگتاہے اور پھر وہ ان کے لئے اس قدر سچ ہو جاتا ہے کہ جو اس میں یقین نہ رکھے انہیں اس پر حیرت ہوتی ہے۔ میاں صاحب جس بھاری مینڈیٹ کی تشکیل کی خود قیمت ادا کیاکرتے تھے انہیں اس جھوٹ پر بڑا یقین ہے۔ وہ اسے سچ سمجھ رہے ہیں' بالکل سچ حالانکہ اس میں حقیقت کہاں ہے؟ اور ان کے وہ ساتھی جن پر انہیں بڑا یقین رہا ہے وہ سب بھی تو اس جھوٹ میں برابر کے شریک ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے متن کو غور سے دیکھئے۔ غور سے پڑھئے اس میں اوروں کے لئے بھی واضح پیغام ہے۔ میاں شہباز شریف جن کو وزیر اعظم بنائے جانے کا عندیہ دیا جا رہاہے کیا وہ الیکشن کمیشن کے پاس اپنے کاغذات جمع کروانے کے بعد سکون کی نیند سو سکیں گے؟ کیا وہ یہ بات جانتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ہی انہیں نا اہل قرار نہ دے دے گا جبکہ ان کیخلاف قتل کی ایف آئی آر بھی درج ہے۔ طاہر القادری تو شاید خاموش رہ جائیں لیکن کیا ہر کوئی خاموش رہے گا۔ بات صرف صادق اور امین تک ہی کہاں محدود رہے گی عمومی کردار کی بات بھی اب سامنے آئے گی۔ مالی بد عنوانیاں تو اپنی جگہ اور حمزہ شہباز کا کردار کیا ملک کا وزیر اعلیٰ بننے کے لائق ہے۔ سپریم کورٹ نے لوگوں میں ایک نئی امید پیدا کردی ہے۔ یہ ظلم کے خلاف ایک ایسی فتح ہے جس کا اس ملک میں کسی کو یقین نہ تھا لیکن اب ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ ایک نئی امید' ایک نئی ہلچل اور واقعی ایک نیا پاکستان۔ اب کیا کوئی وزیر بھرتیوں کی لسٹ دے کر بھی صاف بچ نکلے گا کہ وہ افسر کو اس ظلم کا شکار کریں کہ اسے اپنی نوکری اور اپنے بچوں کی جان کے لالے پڑ جائیں۔ اب کیا کوئی کہیں بھی کمیشن طے کرنے میں کامیاب ہوگا۔ اب ظلم اور ظالم واقعی کمزور ہوں گے۔ اب پاکستان واقعی تبدیلی کی جانب گامزن ہوگا۔ ہر جانب سے آواز آرہی ہے کہ یہ معاملہ اب رکنے والا نہیں یہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ شکر ہے خدا کا' اس پاک پروردگار کا جس نے اس ملک کے عام آدمی کی سن لی ہے۔ یہ معاملہ کہیں نہ رکے' ہمارے سارے کوڑھ دھل جائیں اور پاکستان واقعی پاک ہو جائے۔ اب یہ سب ہو کر رہے۔ انصاف ہو' سچا' گھنا مکمل انصاف۔

متعلقہ خبریں