پانامہ فیصلہ…خطرناک لیگی بیانیہ

پانامہ فیصلہ…خطرناک لیگی بیانیہ

نواز شریف کی نااہلی پر مسلم لیگ ن کا بیانیہ بڑا خطرناک ہے۔ مسلم لیگی قیادت کو اندازہ نہیں ہے کہ اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے اور انہیں ساتھ رکھنے کی خاطراُس نے کس قدر غلط لائن لے لی ہے۔ پانامہ کیس کا سارا ملبہ فوج کے سر تھوپنے کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج مرکزی قیادت کی طرح گلی محلے کا کارکن بھی یہ زبان بول رہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ فوج کے منفی کردار کی وجہ سے آیا ہے۔ جب مرکزی وزراء اپنی گفتگو میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پانامہ کیس نواز شریف کے خلاف سازش ہے تو مجبوراً فوج کے ترجمان کو وضاحت کرنا پڑی کہ فوج کسی سازش کا حصہ نہیں ہے۔ اس وضاحت کے بعد بھی اشاروں کنایوں میں اور کبھی کھلم کھلا فوج کی مداخلت کی بات کی گئی حالانکہ اس مداخلت کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا۔ سامنے کی بات ہے کہ جب آپ کے ہاتھ میں کوئی ثبوت لگا توآپ نے حساس ادارے کے سربراہ کی گفتگو کا ٹیپ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سنادیا تھا۔ اب اگر ایسی کوئی بات ہوتی ہے تو کیا امر مانع تھا کہ سازش بے نقاب نہ کی جاتی۔ آئی بی کے سربراہ اور انٹیلی جنس کا پورا ادارہ سرگرم عمل ہے ، کیا ان کے ہاتھ کوئی ثبوت نہ لگا۔ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ یہ باتیں ایک ایسے آرمی چیف کے ہوتے ہوئے کی جا رہی ہیں جس نے دھرنے کے دوران ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں جمہوریت اور جمہوری حکومت کے حق میں آواز بلند کی اور ان آوازوں کی مخالفت کی جو مارشل لاء کو دعوت دے رہی تھیں۔ یہ وہ آرمی چیف ہیں جنہوں نے موجودہ حکومت کو ڈان لیکس کے مخمصے سے نکالا اور ایک نامقبول فیصلہ کرکے سول برتری کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ ان کی موجودگی میں یہ تاثر دینا کس قدر افسوس ناک ہے کہ خدانخواستہ فوج نے نواز شریف کی رخصتی کا بندوبست کیا ہے۔ 

امر واقعہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے دورِ حکومت میں فوج کودباؤ میں رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ فوج کے خلاف نواز شریف نے پہلی ہرزہ سرائی اس وقت کی جب وہ کشمیر میں انتخابی مہم چلارہے تھے۔جب نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انہوں نے بھارتی وزیراعظم سے ہونے والی ملاقاتوں میںپاک فوج کے بارے میں کہا کہ یہ ہمارے کہنے میں نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات کے ''منٹس'' بھارتیوں نے جاری کیے تو فوجی حلقوں میں اس بات کا بہت برا منایا گیا کہ فوج کے بارے میں نواز شریف اب تک کیسی بدگمانی رکھتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں جنرل ظہیر الاسلام کے آئی ایس آئی چیف بننے کے بعد فوج نے اُس تاثر کو زائل کرنے کی بھرپور کوشش کی جو جنرل پاشا کے وقت موجود تھا۔یہ وہ ظہیر الاسلام ہیں جن کو بعد ازاں بدنام کرنے کے لیے حکومتی حمایت یافتہ ٹی وی چینل نے بھرپور مہم چلائی۔ حکومت کے وزیر اطلاعات کا بیان لوگ آج تک بھول نہیں سکے ہیں۔ ''ہم دلیل والوں کے ساتھ ہیں' غلیل والوں کے ساتھ نہیں ہیں۔'' یہ غلیل والے کون ہیں؟ کیا غلیل والے کسی دوسرے ملک کی فوج کے سپاہی ہیں؟ کیسی عجیب بات اور گفتگو حکومت کے وزیر اطلاعات نے کی لیکن انہیں عہدے سے فارغ کیا گیا اور نہ ہی ان کی کھلے عام سرزنش کی گئی۔ اپنی فوج کو دباؤ میںرکھنے کے لیے حکومت کسی حد تک جا سکتی ہے اس کا اندازہ روزنامہ ڈان کی خبر سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ پاکستان کے دشمنوں کابیانیہ ہے جس کی تشہیر کی گئی تاکہ اپنے آپ کو غیر ملکی مغربی قوتوں اور بھارت کے سامنے صاف ستھرا بنا کر پیش کیاجائے اور سارا ملبہ فوج پر ڈال کر اسے بدنام کیاجائے۔ حکومت کے وزیرداخلہ کا اعتراف ہے کہ اس خبر سے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچا اور فوج کی بدنامی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ فوج کو بدنام کرنے کی راہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے کیوں اپنائی؟ میاں نواز شریف کی سیاست فوج کی سرپرستی میں شروع ہوئی اور اب اپنی فوج سے گلے شکوے ہو گئے ہیں۔پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے باوجود فوج سے بحیثیت ادارہ مخاصمت کی بجائے مفاہمت کی بات کی حالانکہ نو سال مارشل لاء کی سختیاں جھیلنے کے بعدپیپلزپارٹی کا ورکر ٹکراؤ کے لیے سر بکف تھا۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے بھی ''پاکستان کھپے'' کا نعرہ لگایا۔یوں ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کرتے ہوئے پیپلز پارٹی نے بحیثیت سیاسی جماعت اپنی ذمہ داری کو ادا کیا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت اس حوالے سے عاقبت نااندیشی کامظاہرہ کرتے ہوئے ایک قومی جرم کا ارتکاب کر رہی ہے۔بحیثیت ادارہ فوج کا پانامہ پیپر مقدمے سے کیا تعلق بنتا ہے؟ اپنی چوری پر پردہ ڈالنے کے لیے فوج کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے تاکہ اپنا ووٹ بینک کسی طرح بچایا جا سکے۔ پانامہ کیس میں سامنے آنے والے انکشافات سے پتہ چلا ہے کہ نواز شریف اور ان کی فیملی نے غلط طریقوں سے دولت بیرون ملک بھیجی اور بیرون ملک مہنگی جائیدادیں بنائیں، ان جائیدادوں کو بنانے کے لیے دولت پاکستان سے باہر کس طرح گئی اس کا کوئی تسلی بخش جواب عدالت عظمیٰ کو نہ دیا جا سکا۔چنانچہ عدالت نے مہینوں اس کیس کی سماعت کے بعد نواز شریف کے خلاف اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ اس سارے قضیے میں فوج کہاں سے آ گئی ہے اور فوج کا منفی کردار کیسے بنتا ہے؟ اپنی فوج کے خلاف مسلم لیگی ووٹرز کا ذہن خراب کرنا کیا قومی جرم کے زمرے میں نہیں آتا؟۔

متعلقہ خبریں