کیا نوازشریف آنے کے لئے چلے گئے ؟

کیا نوازشریف آنے کے لئے چلے گئے ؟

نوازشریف اپنے گھرانے سمیت کتاب سیاست کا قصۂ پارینہ بن گئے ۔وہ تیسری بار بھی بطور وزیر اعظم اپنی مدت اقتدار مکمل نہ کر سکے ۔تیسری بار بھی ملک کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ اچھے طریقے سے نباہ نہ کر سکے اور تصادم بڑھاتے بڑھاتے آخر کار حادثہ کروا بیٹھے ۔ملکی اسٹیبلشمنٹ آج میاں نوازشریف کی رونمائی اور متعارف کرانے کو بھی ضیاء الحق کی حماقت سمجھ رہی ہوگی ۔جنرل ضیاء الحق کے اسی نظریہ ضرورت نے جاگیر داروں کی جماعت پیپلزپارٹی کی بجائے صنعت کاروں کو آگے لاکر طاقت بنانے کا فیصلہ کیا ۔جاگیردار ناقابل اعتبار ہوتے جا رہے تھے ۔وہ ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوتے مگر جونہی عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سیٹی بج جاتی وہ اپنا مقام اور مدار از سرنو ترتیب دیتے ۔اس لئے پاکستان کی سیاست میں کاروباری ،شہری اور صنعت کار طبقے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ ہوا۔نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کی اس ضرورت کے اندر اپنے لئے راستہ بناتے چلے گئے ۔یہاں تک کہ وہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی کامیابیوں کے آگے مضبوط سپیڈ بریکر لگانے میں کامیاب ہو گئے اور بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ وہ پارٹی کے قدم اُکھاڑتے چلے گئے ۔مطلق طاقت کی طرف بڑھتے ہوئے نوازشریف نے اپنی سیاست کو دائیں بازو اور اسٹیبلشمنٹ کے حصار سے نکالنا شروع کیا ۔وہ اپنے گرد مہربانوں اور قدردانوں کے تصورات ،محبتوں اور امیدوں کا ہالہ توڑتے چلے گئے ۔اپنے سیاسی نظریات اور سماجی پس منظر اور فوج کی پسندیدگی کے باوجود عالمی طاقتوں نے انہیں پاکستانی سیاست کی زمینی حقیقت کے طور پر قبول کرکے انہی سے نباہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔عالمی طاقتوں کی یہی ضرورت اور نوازش میاںنوازشریف کی سیاست کا کانٹا بدلنے کا باعث بن گئی ۔ان کے کندھوںپر پاکستان اور بھارت کو تاریخ کی قید سے آزادکرنے کے برصغیر کے سب سے مشکل کام کا بوجھ لادد یا گیا ۔انہیں بتایا گیا کہ وہ پنجاب سے ہیں اورفوج ان کی مزاحمت نہیں کرے گی ۔وہ صنعت کار ہیں اور فوج جاگیرداروں کے برعکس ان پر اعتبار کرے گی ۔وہ دائیں بازو سے تعلق کا تاثر رکھتے ہیں جو انہیں کھل کر کام کرنے میں مددگار ہوگا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے تراشیدہ ہیں اوروہ ان کے خلاف تلوار سونت کرمیدان میں نہ آسکے گی۔عالمی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں اردن کے شاہ حسین کی طرح خطے میں ''مردِامن ''بننے کی راہ دکھائی۔یہ وہ دور تھا جب شاہ حسین فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تیزی سے مصالحت کرارہے تھے ۔عالمی اسٹیبلشمنٹ اسی طرز پر پاکستان اور بھارت کے مسائل کو حل کرنا چاہ رہی تھی ۔اس سفر میں صنعت کاروں نے بہت تیزی سے نوازشریف کو ایسے پرامن جنوبی ایشیا کی تصویر دکھا دی جس میں سرحدوں کی حیثیت محض لکیروں کی سی تھی اور یہ لکیریں ملکوں اور قوموں بالخصوص پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بڑھنے سے نہیں روک سکتی تھی۔یہ ایک نئی صبح کا تصور تھا جو نوازشریف کے ذہن میں ایسا بیٹھ گیا اور پھر انہوں نے اس راہ میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔وہ اس تصور کو پانے کے لئے بگٹٹ دوڑتے چلے گئے ۔ملکی اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کی اس کایا پلٹ کو اپنے لئے ایک مستقل چیلنج سمجھ لیا ۔انہیں میڈ ان پاکستان کے ہالے کو توڑتے ہوئے جدید،روشن خیال اور بڑے فیصلوں کے شوق میں غلطاں نوازشریف سے احساس شکست محسوس ہونے لگا ۔وہ سمجھنے لگے کہ جس شخص کا سراپا انہوں نے بھاری سرمایہ کاری اور کئی فائول پلیز کے ذریعے تراشا اور بے نظیر بھٹو کی سیاست کو محدود کیا تھا وہ شخص اب کے ہاتھ سے نکل کر زیادہ طاقتور ہاتھوں میں چلا گیا ہے ۔یہ خیال نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ میں مستقل کھٹ پھٹ کا باعث بن کر رہ گیا ۔نوازشریف کی سیاست کو مختلف ادوار میں کئی شخصیات نے چیلنج کرنے کی کوشش کی مگر اس وقت تک نوازشریف سیاست کے سارے گر سیکھ چکے تھے وہ ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے فن سے آشنا ہو چکے تھے ۔نوازشریف ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کی کشمکش میں سینڈوچ بن کر رہ گئے ۔ اس کشمکش میںان کا مجموعی وزن عالمی طاقتوں کے پلڑے میں ہی پڑتا رہا۔بھارت کے ساتھ دوستی ان کی سب سے بڑی خامی قرار پائی اور وہ خود بھی اس خُو کر ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوئے ۔ان کے خاندان کی دنیا بھر میں جا ری کاروباری سرگرمیاں انہیں مزید معتوب بنانے کا باعث بن گئیں ۔یہ خیال پختہ ہوا کہ ان کے خاندان کی بیرونی دنیا میں کاروباری سرگرمیاں ملکی پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔بھارت کی طرف سے نرم گوشے کا اظہار ان کے لئے مستقل خطرہ بن کر رہ گیا ۔پانامہ کا مقدمہ اس زرخیز اور ہموا رزمین پر بارش کی ایسی پھوار ثابت ہوا جس کے بعد سب بیج تازہ ہو کر پھوٹتے چلے گئے ۔عمران خان ایک سیاسی دبائو کے طور پر اس مقدمے میں کھڑے ہو گئے اور یوں پانامہ ان کی سیاست کی ٹرین کے تیسرے حادثے کا عنوان بن کر رہ گیا ۔پاکستانی سیاست سے ان کی رخصتی کا بندوبست ہو گیا ہے اب یہ شہباز شریف پر منحصر ہے کہ وہ آصف زرداری کی سی مہارت کے ساتھ سیاست کی نوازلیگسی کو شہباز لیگسی میں بدل پاتے ہیں یا نہیں؟آصف زرداری نے بھٹو لیگسی کو جس صفائی سے زرداری لیگسی سے بدل دیا تھا وہ ماڈل شہباز شریف کے سامنے موجو دہے۔مریم نواز کا چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا خوش فہم ٹویٹ اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوازشریف کے گھرانے کا سیاسی مستقبل شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے جنہیں مسلم لیگ ن نے مستقل وزیراعظم نامزد کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں