بے ہنگم ہائوسنگ سوسائٹیوں کا جنگل

بے ہنگم ہائوسنگ سوسائٹیوں کا جنگل

اگر حالات اور واقعات کا تجزیہ کیا جائے توسال 1951 میں شہری علاقے 17 فی صد تھے ۔ 1998ء میں یہ علاقے بڑھتے بڑھتے 33 فی صد اور سال 2014ء میں ان میں 50 فی صد اضا فہ ہوا۔اگر بڑے شہروں میں آبادی میں اضافے کی شرح اس طرح جاری رہی تو اعداد وشمار کے مطابق ہمیں سالانہ 2 لاکھ 70ہزارمزیدنئے مکانات کی ضرورت ہوگی۔1981ء میں وطن میں 50 ہزار آبادی والے شہروں کی تعداد 22، 1992ء میں ان شہروں کی تعداد 57 اوربعد میں ان شہروں کی تعداد 71 ہوگئی۔ اسی طر ح 1981ء میں پاکستان میں ایک لاکھ آبادی والے شہروں کی تعداد 27، 1998ء میں ان شہروں کی تعداد 48 اور سال 2007ء میں ان شہروں کی تعداد 58 ہوگئی۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے مکانات ، پلازوں ، رئیل سٹیٹ اور پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اگر ہم گر د وپیش پر نظر ڈالیں تو وطن عزیز میں رئیل سٹیٹ بڑھنے کی بُہت ساری وجوہات ہیں جن میں نائن الیون کے بعد ترسیلات رقوم میں اضافہ ، نیشنل سیونگز اور دوسرے بینکوں میں شرح منافع میں کمی اور باہر ملکوں سے تارکین وطن کاپاکستان میں آباد ہونا شامل ہے۔سال 1999 اور 2000 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 1.9ارب ڈالر تھے جو سال 2004 میں12.27 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اور اب ٢٠ ارب ڈالر ہیں۔ اسکے علاوہ نیشنل سیونگز اور ملک کے مختلف بینکوں نے ڈیپا زٹ پر شرح منافع 18 فی صد سے کم کرکے 7.5تک کرد یا ہے اور لوگوں نے بینکوں اور نیشنل سیونگز سے پیسے نکال کر رئیل سٹیٹ میںلگادیئے۔ علاوہ ازیں نائن الیون کے بعد اور اب سعودی عرب میں زیادہ تر بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن واپس آنا شروع ہوگئے جسکی وجہ سے انہوں نے اپنی رقوم رئیل سٹیٹ یعنی پراپرٹی میں لگانا شروع کر دیں۔ جسکی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتوں میں بے تحا شا اضا فہ ہوا۔ماہر اقتصادیات رئوف احمد کا کہنا ہے ایک طر ف اگر بڑے شہروں کے فا ئدے ہیں تو فائدوں کے مقابلے میں ان شہروں کے نُقصانات بھی بُہت زیادہ ہیں۔سب سے پہلا مسئلہ ان شہروں کی مینجمنٹ یعنی انتظامی مسائل ہوتے ہیں اور حکومت کو انکے سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیںبڑے شہروں کے آباد ہونے سے زرعی زمین بلڈنگز اور عمارات میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اورپراپرٹی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ سال 1984ء میں لاہو ر ڈی ایچ اے میں ایک کنال پلاٹ کی قیمت 2 لاکھ روپے تھی ، سال 1994ء میں یہ قیمت 20 لاکھ تک اور سال2004ء میں یہی قیمت آج کل پراپرٹی اور رئیل سٹیٹ کے لحا ظ سے خیبر پختونخوا سرمایہ کاروں کے لئے سب سے بڑا مر کز بن گیا ہے۔اگر ہم 1998 میں کے پی کی آبادی پر نظر ڈالیں تو یہ ایک کروڑ 80 لاکھ تھی جو سال 2007 میں 3 کروڑ ہوگئی۔ اور حال ہی میں مردم شماری کے مطابق اس میں مزید اضا فہ ہوا۔سال 1998 میں خیبر پختون خوا میں مکانات کی تعداد 22 لاکھ 10 ہزار تھی جو سال 2011 میں 33لاکھ تک پہنچ گئی۔اگر ہم پاکستان میں فی مربع کلومیٹر رقبے آبا دی کو دیکھیں تو یہ ایک مربع کلومیٹر پر 240 لوگ ہیں۔اس وقت خیبر پختونخوا میں 26 اضلاع ہیں۔ اس میں پشاور میں فی مربع کلومیٹر پر 1606نفوس ، چارسدہ میں ایک مربع کلومیٹر پر 1025 ، مردان میں 895، نو شہرہ میں 500نفو س، صوابی میں 665 نفو س اور ایبٹ آباد میں ایک کلومیٹر پر 448 لوگ آباد ہیں۔ بد قسمتی سے ان گنجان آبادی والے شہروں میں اور بالخصوص مو ٹر وے اور بڑی بڑی شاہراہوں کے ساتھ بڑی بڑی ہائوسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں2005 کے قانون کے مطابق اُس وقت تک کوئی سوسائٹی اخبار میں اشتہار دینے کے لئے اہل نہیں جب تک اُس سوسائٹی کے پاس 160 کنال زمین نہ ہو۔اور اسکے علاوہ اس سوسائٹی نے متعلقہ حکومت سے این او سی نہ لی ہو۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں بغیر سوچے سمجھے پراپرٹی اور رئیل سٹیٹ کے لئے اُسی طر ح این او سی دیتی ہے ، جسطرح اُنہوں نے ملک میں سی این جی سٹیشنز لگانے کے لئے جاری کی ہیں۔ کے پی کی صوبائی حکومت اس بات پر خراج تحسین کی مستحق ہے کہ اس نے پشاور میں 82 ہائوسنگ سوسائیٹیوں ، مردان میں 7 اور نو شہرہ میں 17 ہائوسنگ سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرنے کے لئے اقدامات کرے۔بد قسمتی سے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں میں تو سیع سے جنگلات کے رقبے میں کمی واقع ہورہی ہے، جس سے ہم آج کل مو سمی تغیرات کا سامنا کررہے ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق سال 1998 میں پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ 26 ہزار مربع کلومیٹر(3.3 فی صد)،سال 2000 میں 21ہزار مر بع کلومیٹر (2.7 فی صد)اور سال2010 میں یہ رقبہ کم ہوتے ہوتے 17 ہزار مربع کلومیٹر(2.2فی صد) تک رہ گیا۔لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ مو سمی تغیرات کو قابو کرنے کے لئے اس قسم کی بے ہنگم سوسائٹیوں پر پابندی لگائے اور کسی ہائوسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری کر نے سے پہلے ہزار بار چھان بین کرے۔

متعلقہ خبریں