جرگو ں اور پنچائیتوں کی حیثیت اور اُن کے فیصلے

جرگو ں اور پنچائیتوں کی حیثیت اور اُن کے فیصلے

اسلامی معاشرے میںمختلف افراد وطبقات کے در میان تعاون و تعلق اور باہمی امور و ہمدردی اور صلئہ رحمی پر بہت زوردیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اس حوالے سے بہت ٹھوس او ر واضح قوانین و تعلیمات د ی گئی ہیں ۔ خاتم النبیینۖ کی بعثت سے قبل انسانی معاشروں کا جو حال تھا وہ سادہ اور مختصر الفاظ میں ''جس کی لاٹھی اس کی بھینس '' کے مصداق تھا ۔ انفرادی اور اجتماعی (ریاستی سطح پر اگر کہیں ریاست موجود تھی ) دونوں جگہوں پر حکمران اور طاقتور کو ایک خدائی تفوق و بر تری حاصل تھی ۔ انسانی معاشروں کے مختلف افراد و طبقات کے درمیان طبائع و مفادات کے مختلف ہونے کے سبب اختلافات کا وقوع پذیر ہونا ایک فطری امر ہے۔ ان اختلافات کو ختم کرنے اور معاشرے کے طبقات و افراد کے درمیان مسائل و مشکلات کے حل کے لئے انبیاء کرام کا سلسلہ چلا جنہوں نے الہٰی رشدو ہدایت کے مطابق عدل و انصاف کے ذریعے ایسے معاشرے کی تشکیل کے لئے کو ششیں کیں جن میں بلا کسی تفریق و تمیز کے ہر انسان حتیٰ کہ جانور وں تک کو اُن کے بنیادی حقوق میسر رہے ۔انسانی تاریخ میں افراد معاشرہ کے اختلافات کو ختم کرنے اور ٹھکرائو و تصادم کی صورت میں مسئلے کا حل نکالنے کے لئے سربراہ قبیلہ ، شہری ریاست اور ہوتے ہوتے بادشاہت تک پھیلتی چلی گئی یہاں تک آج کی جمہوری ریاست کی تشکیل اور پارلیمنٹ و ریاستی اداروں ، انتظامیہ ، عدلیہ وغیرہ کے ذریعے متنازعہ مسائل کے حل کے لئے دستور و آئین کی تشکیل میں با قاعدہ قانون سازی ہوئی ۔ دنیا میں بشری حقوق اور ریاستی خدوخال کے بارے میں پہلا تحریری دستور میثاق مدینہ کی صورت میں آیا جس میں نبی اکرم ۖ کو مدینہ طیبہ اور اس کی حدود کے اندر آنے والے سارے قبائل نے بطور حَکم (Chief justice) تسلیم کر لیا ۔ اسی بنیاد پر آپ ۖ نے لوگوں کے مقدمات اور تنازعات عدل و انصاف کے بے مثال عمل کے ساتھ حل فرمائے ۔ بعد میں قرآن و سنت کے ذریعے عدلیہ کے وہ احکام نازل ہوئے جس پر اسلامی معاشروں کی قضا و عدل ایک ایسی مثال بن گئی جس میں سربراہ ریاست اور ایک عام آدمی ایک ہی انداز و حیثیت سے قاضی کے سامنے کٹہرے میں کھڑے ہوئے ۔ اسلام کے عروج کے زمانے میں ریاستی عمل داری سے دور کی آبادیوں میں بھی تنازعات کے حل کے لئے ان کے ہاں کے متقی' عالم اور معاملہ فہم اشخاص کاجرگہ اور پنچائیت اپنا کردار قرآن و حدیث کی روشنی میں ادا کرتے تھے اور اسلامی تاریخ میں دنیاوی حکمرانوں کے دور میں بھی عوام کو قاضی القضاة کے نظام کے ذریعے کم از کم عدل ضرور حاصل تھا۔ مسلمان حکمران ہر دور میں اپنے درباروں میں علماء و فقہاء کو ساتھ رکھتے تھے تاکہ مقدمات کے تصفیے اور واقعات و معاملات میں دینی رہنمائی کا حصول جاری رہے۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے دیہاتی معاشروں میں جرگہ و پنچائیت کی ہیئت تبدیل ہونے لگی اور اس میں پیسے کی دخل اندازی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے بد معاش عناصر کا عمل دخل بھی شامل ہونے لگا۔آج کل بعض دیہاتوں اور شہروں میں طاقتور' غنڈہ اور بد معاش قسم کے لوگوں کے پاس لوگ اپنا مقدمہ و تنازعہ لے کر جاتے ہیں اور وہ باقاعدہ فیس وصول کرکے بزور بازو فریقین سے فیصلہ منواتے ہیں۔ جس سے بعض اوقات اس قسم کی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جیسا کہ پچھلے دنوں مظفر گڑھ کے ایک علاقے میں ایک مظلوم و معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا۔ریاست اور حکومت پاکستان اور اس کے عدلیہ' انتظامیہ اور دیگر اداروں کی موجودگی میں کسی جرگہ و پنچائیت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی فیصلہ کرے اور اگر کوئی کرے تو وہ اللہ کے نزدیک مجرم ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت و ریاست کے بھی مجرم ہیں۔ قرآن کریم کے مطابق کسی ایک انسان کے جرم کے وبال کسی دوسرے پر نہیں ڈالا جاسکتا اور پھر محض الزام کی وجہ سے کسی کو کوئی سزا دینا یقیناً جرم کا ارتکاب ہے۔ پختون معاشروں میں بھی عجیب صورتحال ہے۔ جب کسی پر کسی لڑکی اور عورت کی وجہ سے الزام لگ جاتاہے تو پہلے اپنی بیٹی کو قتل کردیتے ہیں اور پھر اس ملزم کو۔ لیکن پنجاب اور سندھ میں تو خواتین پر بہت ظلم ہو رہا ہے اور ساری ہے اور وقتاً فوقتاً مختاراں مائی اور مظفر گڑھ جیسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ یہ یقیناً قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس اور منتخب نمائندوں' ناظم یونین کونسلر' ایم پی اے اور ایم این اے اور اسسٹنٹ کمشنر و کمشنر کی غفلت اور کوتاہی ہے۔ آج کے تیز مواصلاتی دور میں دور دراز دیہات سے بھی خبر کا پہنچنا منٹوں کی بات ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ضلع اور تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر منتخب نمائندوں اور میڈیا کے ذریعے یہ بات عام کی جائے کہ اگر کسی نے فریقین کے درمیان جرگہ و پنچائیت کرنی ہے تو پہلے ضلع انتظامیہ اور مقامی منتخب نمائندوں کو با خبر رکھا جائے اور دوسرا اہم نکتہ یہ مد نظر رکھا جائے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کسی بھی صورت میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف کیا جائے ورنہ افراد جرگہ و پنچائیت مکافات عمل کے ذمہ دار ہوں گے۔ مظفر گڑھ کا واقعہ مسلمانان پاکستان کے لئے کلنک کا ٹیکہ ہے۔ لہٰذا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

متعلقہ خبریں