مشرقیات

مشرقیات

دسترخوان بچھا اور کھانے چن دئے گئے تو لوگ ہاتھ دھونے اُٹھے ، جس نے سب کو دعوت پر بلایا تھا اس نے اپنے ملازم کو آواز دی ۔ حکم دیا کہ پانی کا لوٹا میرے ہاتھ میں تھمادو ! خدمت گارنے فوراً پانی سے بھرا ہوا لوٹا آگے بڑھا دیا ۔ اُسے ہمت نہ ہوتی تھی کہ لوٹا ہوتھ میں تھمادے ۔ بات یہ تھی کہ بیسیوں نوکر چاکر وہاں موجود تھے ۔ کوئی ہاتھ دھلانے پر مامور تھا کوئی پنکھا جھلنے پر کوئی دسترخوان سجا رہا تھا ، کوئی دوسرے انتظامات میں لگا تھا ۔ بڑی سرکار تھی ، بڑا اہتمام تھا ۔ ایک ایک کا م کے لیے دس دس خدمتگار تھے ۔ مگر مالک کا حکم تھا کہ لوٹامیرے ہاتھ میں تھما دو ! لوٹا ہاتھ میں تھمادیا گیا تو خدمت گار نے دیکھا کہ اس کا مالک جو بڑے تزک و احتشام کا مالک تھا جلدی جلدی ایک بزرگ کا ہاتھ دُھلانے لگا ۔ یہ بزرگ بوڑھے بھی تھے اور آنکھوں سے بھی اُنہیں کچھ سُجھائی نہ دیتاتھا ۔ نہ ان کی پوشاک قیمتی تھی نہ یہ معلوم ہوتاتھا اکہ وہ کسی بڑے دنیاوی منصب پر فائز ہیں ۔ خدمت گار کو فکری پڑ کہ یہ معلوم کرے کہ آخر یہ کون بزرگ ہیں ۔ معلوم ہوا کہ ان کا نام ابو معاویہ ہے ۔ تفصیلات پوچھیں تو پتہ چلا کہ بہت بڑے عالم ہیں ۔ جس نے ہاتھ دھلانے کی عزت حاصل کی تھی وہ بھی بہت بڑا آدمی تھا ۔ اُس دور کے حکمرانوں میں ساری دنیا میں وہ ممتاز سمجھا جاتا تھا۔ دنیاوی اقتدار او رجا ہ وحشم کے با وجودصاحبان علم سے وہ ملتا تو جھک کے ملتا اور دربار میں کبھی کوئی اہل علم آجاتا تو اُسے بڑی عزت سے اپنے برابر جگہ دیتا بلکہ اپنے سے اُونچی جگہ بٹھا تا ۔
وہ پہلے کئی بار حضرت ابو معاویہ کی خدمت میں حاضر ہو چکا تھا آج اس نے بڑی مشکل سے اُنہیں اپنے پاس کھانے کیلئے راضی کیا تھا ۔ حضرت ابو معاویہ کا ہاتھ دُھلا تے ا س قدر دان علم و ادب نے پوچھا حضرت والا ! کچھ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت کون آپ کے ہاتھ دُھلا رہا ہے ؟ابو معاویہ نے سوال کرنے والے کو تو آواز سے پہچان لیا کہ ہارون الرشید ہے مگر آنکھوں کی روشنی سے محروم ہونے کی وجہ سے یہ نہ دیکھ سکے کہ کون ہاتھ دھلا رہا ہے۔ اس نے جواب دیا نہیں میں نہیں جانتا کون میرا ہاتھ دھلا رہا ہے ! ہارون نے کہا جناب والا ! میں خود آپ کے ہاتھ دھلا رہا ہوں ۔ یہ میرے لئے بڑی سعادت کا مرحلہ ہے ۔ حضرت ابو معاویہ نے بڑی معذرت کی اور فرمایا کہ امیر المومنین آپ ایسا نہ کریں مگر ہارون بضد تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ صاحبان علم کی اسی طرح عزت کرنی چاہیئے ۔ ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کسی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ! اتنے میں کسی نے حضرت ابراہیم بن طہمان کا ذکر چھیڑ دیا ۔ ان کا نام آیا تو امام اُٹھ بیٹھے ۔ لوگوں نے جو وہاں حاضر تھے کہا آپ آرام سے بیٹھے رہیں ، آپ بڑے کمزور ہوگئے ہیں فرمایا ہاں کمزوری تو ہے لیکن تم نے ایک نیک اور عالم آدمی کا ذکر چھیڑ دیا ۔ اب یہ بات خلاف ادب ہے کہ میں ٹیک لگائے بیٹھا رہوں ۔ یہ حضرات دراصل اس طرح سے علم کی عزت کرتے تھے ۔ (روشنی)

متعلقہ خبریں