دلی میں دیوالی کے بعد شدید فضائی آلودگی پر شہری نالاں

انڈیا کے دارالحکومت دلی کے رہائشیوں نے دیوالی کے ایک روز بعد ہی شہر میں دھوئیں اور فضائی آلودگی کی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کیں ہیں۔

دیوالی کے تہوار میں آتش بازی کی جاتی ہے اور روایتی طور پر بچے پٹاخے پھوڑتے ہیں۔

فضائی آلودگی کا ایک پیمانہ فضا میں انسانی صحت کے لیے نقصان دہ پی ایم 10 ذرات کی مقدار ہوتی ہے۔ عموماً اس کی حد 100 مائکرو گرام فی مربع میٹر ہوتی ہے۔

دلی میں پیر کی صبح پی ایم 10 کی مقدار 999 مائکرو گرام فی مربع میٹر ریکارڈ کی گئی۔

حکام نے ہوا کی رفتار اور فضا میں نمی کی شرح کے پیشِ نظر تنبیہ کی تھی کہ دیوالی کے بعد دلی میں شدید فضائی آلودگی ہوگی۔

گذشتہ ہفتے دلی کی مقامی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ فضائی آلودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے پر ہوا صاف کرنے والے آلات نصب کریں گے۔

پیر کے روز دلی میں آلودگی کی وجہ حدِ نگاہ انتہائی کم تھی کیونکہ شہر بھر میں دھویں کی تہہ بچھی معلوم ہوتی تھی۔

ایک شہری پراتک پراسنجیت نے ٹوئٹر پر لکھا ’ دلی رات کو زبردست شو کیا، اب گھٹن سہو!‘

 

دیوالی سے پہلے کئی شہر میں بہت سے لوگوں نے مہم چلائی تھی جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ آتش بازی سے گریز کریں تاہم ماضی میں بھی ایسی مہمات پر زیادہ غور نہیں کیا جاتا۔

پٹاخے اور آتش بازی کا سامان انڈیا میں جشن کے مترادف بن گیا ہے اور کاروباری خاندان اس پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔

2014 میں عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ میں دلی کو دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کو بعد میں انڈین حکومت نے رد کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں