کشمیر ڈائری: ’بےتکے بیانات میں شعور کے کچھ قطرے کون ملائے گا‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ بی بی سی اردو نے سرینگر کی رہائشی ایک خاتون سے رابطہ کیا جن کے تجربات و تاثرات کی آٹھویں کڑی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ جزوی طور پر ختم ہوا ہے۔ لینڈ لائن اور موبائل فون کی سہولت تو بحال کر دی گئی ہے لیکن موبائل انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے جس کی وجہ سے یہ تحریریں آپ تک بلاتعطل پہنچانے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ ان سے بڑا حقوقِ انسانی کا علم بردار کوئی نہیں ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے یہ الفاظ ادھم پور میں پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ تقریب کے دوران کہے۔ ادھم پور بی جے پی کے شائقوں کا علاقہ ہے اور پولیس کے یہ نئے اہلکار کل کو ہماری سڑکوں پر اپنی بندوقیں تانیں چل رہے ہوں گے۔

٭ مظفر پنڈت کی موت کب ہوئی؟

٭ کشمیریوں کے لیے کوئی جگہ محفوظ ہے؟

٭ کشمیر میں انڈین فوج کا 'جرنیلی بندوبست'

٭ 'بھیڑ بکریاں بچ گئیں مگر انسانی جانیں نہیں'

٭ 'ہمارے پتھر محبت کی نشانی'

٭ 'جہاں قاتل ہی منصف ہیں'

٭ کشمیر میں تعلیم بھی سیاست کی زد پر

ایسے الفاظ جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا دیں، ان کی تربیت کا اہم حصہ ہیں ورنہ یہ پولیس اہلکار نہتے آدمی یا بچے پر کیسے گولی چلائیں گے؟

ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنی ہے کہ کشمیری آزادی کی جدوجہد نہیں بلکہ کسی کے بہکاوے میں آ کر 'سماج دشمن' حرکات کر رہے ہیں جس کا ازالہ سرکار کو کرنا ہے۔

کشمیری عوام برے اور سرکار اچھی - وزیرِ اعلیٰ تو پھر اعلیٰ ہی ہوگئیں۔

ہمارے سیاستدان تو اکثر و بیشتر ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں مگر ان وزیرِ اعلیٰ نے تو ریکارڈ ہی توڑ دیے ہیں۔

کشمیر میں جس درجے کی بربریت ہم نے اس حکومت کے دوران دیکھی ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

معصوم بچوں کی آنکھوں اور جسموں کو چھرّوں کا نشانہ بنانا بھی اسی حکومت کا تحفہ ہے۔ جب ان بچوں کے بارے میں کسی صحافی نے سوال کیا تو وزیرِ اعلیٰ نے جواب دیا کہ وہ بچے 'پولیس اور سی آر پی ایف کے کیمپوں پر حملہ کرنے گئے تھے ٹافیاں یا دودھ لینے نہیں۔'

انشا کی آنکھوں میں چھرّے اس کے باورچی خانے کی کھڑکی سے لگے۔ عرفات کو پبلک پارک میں اور ریاض کو کام سے گھر جاتے ہوئے۔ یاسمین کو گولی اس کے گھر کے قریب ایک گلی میں ماری گئی جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کو گھر کی طرف لا رہی تھی۔ شبیر کو گھر سے گھسیٹ کر شدید پٹائی کر کے مار ڈالا گیا اور آٹھ سالہ جنید گھر سے دودھ لینے ہی نکلا تھا جب اس پر چھرّے داغے گئے۔

یہ تو بس کچھ نام ہیں اور کس کس کی کہانی انسان بیان کرے؟

وزیرِ اعلیٰ نے اوڑی حملے میں ہندوستانی فوجیوں کی موت پر 'شدید غم و غصے' کا اظہار کیا اور ہمارے جوانوں کی موت پر انھیں 'تھوڑی سی پریشانی' ہوئی۔ انھوں نے حال ہی میں وزیرِ اعظم مودی کو کشمیریوں کے زخموں پر 'مرہم' لگانے کو بھی کہا۔

اب ہمارے حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ کشمیر کے جانے مانے اور ایوارڈ یافتہ حقوقِ انسانی کے علمبردار خرم پرویز کو جیل میں بند کرنے والے خود کو اس کے مساوی بیان کرنے لگے ہیں۔

انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ایسے بیان دیتے ہوئے یہ لوگ کس دنیا میں ہوتے ہیں؟ کیا کبھی یہ اپنے ان الفاظ پر غور کرتے ہیں؟ کیا اس حکومت میں کوئی ایسا مشیر یا سپیچ رائٹر نہیں ہے جو ایسے بےتکے بیانات میں شعور کے کچھ قطرے ملا دے۔

متعلقہ خبریں