کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کی رہائی، مذاکرات کی نوید ؟

رات کے دوران گھروں کی توڑ پھوڑ اور زیادتیوں کی خبروں سے اعتماد سازی کی کوششوں کی اہمیت کم ہورہی ہے۔ پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے 6000 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے 400 کو سخت ترین قانون ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے تحت کشمیر سے باہر کی جلیوں میں قید کیا گیا ہے۔

یاسین ملک گذشتہ 32 سال سے ہند مخالف تحریک میں سرگرم ہیں۔ 1984 میں انھیں پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں قید کیا گیا اور اس دوران ان پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا ہے۔

1988 میں دوسرے نوجوانوں کے ہمراہ مسلح تربیت کے لیے پاکستان گئے اور واپسی پر ہند مخالف مسلح گروپ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ بن گئے۔

انھوں نے 1994 میں مسلح تصادم کا راستہ ترک کرکے پرامن سیاسی جدوجہد کا نعرہ دیا اور لبریشن فرنٹ کو ایک سیاسی جماعت کے طور متعارف کیا۔

لیکن یاسین ملک کہتے ہیں کہ حکومت ہند نے کشمیریوں کی طرف سے پرامن کاوشوں کو کبھی نہیں سراہا۔

ان کا کہنا ہے: ’سیز فائر کے بعد میرے 600 ساتھیوں کو زیرحراست قتل کیا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ محض بات کرنے پر یہاں جیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔‘

متعلقہ خبریں