کشمیر: میر واعظ عمر فاروق کے بعد یاسین ملک بھی رہا

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے بتایا ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کو تقریباً چار ماہ کی قید کے بعد سرینگر کی سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

انھیں آٹھ جولائی کو حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق حکام نے بتایا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کو سنيچر کی شام سرینگر کی سینٹرل جیل سے رہا کیا گيا اور وہ معصومہ میں اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وہ اتوار کو میڈیا سے بات کریں گے۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ ریڈیو پاکستان کے مطابق یاسین ملک کو خراب حالات میں غیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا جہاں ان کی صحت بگڑتی گئی۔ گذشتہ دنوں انھیں مبینہ طور پر طبی امداد نہ فراہم کرنے پر سرینگر میں انڈین حکومت کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔

اس سے قبل سوموار کو حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو دو ماہ کی قید کے بعد رہا کیا گیا تھا تاہم انھیں ابھی ان کے گھر پر نظر بند رکھا گيا ہے۔

خیال رہے کہ کشمیر میں گذشتہ 114 دنوں سے جاری عوامی احتجاج میں اب تک سو سے زیادہ افراد ہلاک اور پندرہ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

 

کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک درجن سے زیادہ تنظیموں کے اتحاد سی سی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق انڈین سکیورٹی فورسز اب تک نو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کر چکی ہیں۔

ان میں یاسین ملک اور میر واعظ جیسے حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنماؤں سمیت حریت کے ایک ہزار سے زیادہ کارکن شامل ہیں۔

ان کے علاوہ کشمیر کی علیحدگی کی تحریک کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی اور شبیر احمد شاہ کو بھی اُن کے مکانوں پر نظر بند رکھا گیا ہے۔

سی ایس ایس کے سرکردہ رہنما خرم پرویز بھی گذشتہ ایک ماہ سے جموں کی کوٹ بلوال جیل میں قید ہیں۔

متعلقہ خبریں