سعودی عرب سے لوٹے انڈین مزدوروں کی کہانی

سجاد انصاری آٹھ سال پہلےاس امید کے ساتھ سعودی عرب گئے تھے کہ وہاں سے پیسے بھیجیں گے تو ہندوستان میں ان کا خاندان بہتر اور خوشحال زندگی بسر کر سکے گا۔

وہ سعودی عرب میں ایک بڑی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ گذشتہ سال نومبر تک سب معمول کے مطابق تھا لیکن اچانک کمپنی سے انھیں تنخواہ ملنی بند ہو گئی اور ان پھر کی مشکلات شروع ہو گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے تنخواہ ملنی بند ہوئی، پھر میڈیکل سہولیات اور اس کے بعد کھانے کے الاؤنسز۔‘

ایسے حالات میں سجاد جیسے ہزاروں انڈین ملازم اچانک کھانے پینے اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے۔

انھوں نے انڈیا کی وزارت خارجہ سے مدد کی اپیل کی تھی اور پھر اس کی کوششوں کے بعد سعودی عرب کی حکومت اب ان ہندوستانی ملازمین کو واپس بھیج رہی ہے۔

گذشتہ روز سنیچر کی شام کو 47 انڈین ورکرز سعودی ایئر لائنز سے ہندوستان واپس آئے۔

ریاست بہار میں گوپال گنج کے رہنے والے سجاد کہتے ہیں کہ انھوں نے ’کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انھیں ایک دن خالی ہاتھ وطن لوٹنا پڑے گا۔‘

تقریباً 20 سال سے سعودی عرب میں رہنے والے تھامس ورگيز اسے قسمت کا کھیل بتاتے ہیں۔

حیدرآباد کے ورگيز کہتے ہیں ’سب قسمت کی بات ہے، پہلے تو سب اچھا تھا، اب اچانک سب خراب ہو گیا۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہم محفوظ وطن لوٹ آئے ہیں۔ اب پھر سے زندگی شروع کرنی ہوگی۔‘

اسی طرح گوپال گنج کے راکیش کمار سنگھ تین سال پہلے جب سعودی عرب گئے تھے تب انھوں نے سوچا تھا کہ کچھ ہی سالوں کی کمائی سے وہ خاندان کی مالی حالت بہتر کر دیں گے۔

ان ملازمین کو سعودی عرب میں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے، ایسے میں جب یہ ہندوستان پہنچے تو ان کے ہاتھ بالکل خالی تھے۔

ان کی کمپنی کے حالات خراب ہونے سے ان کی زندگي بہتر ہونے کے بجائے مشکل ہوتی گئی۔

راکیش کہتے ہیں ’جہاں تین سال پہلے تھا، وہیں ہوں۔ خالی ہاتھ۔۔۔ اب انڈیا میں ہی روزگار کے مواقع تلاش کرنے ہوں گے جو ہم جیسے کم پڑھے لکھے لوگوں کے لیے بہت کم ہیں۔‘

حیدرآباد کے بھمویشور سکول جانے والے تین بچوں کے والد ہیں۔ وہ ایک سال سے گھر پیسے نہیں بھیج پائے۔ ان کے بچوں کی فیس واجب الادا ہے۔ انھیں بھی دوسرے ملازمین کی طرح فکر لاحق ہے۔

وہ کہتے ہیں ’خالی ہاتھ گھر جا کر بچوں کا سامنا کرنا مشکل ہوگا۔‘

الہ آباد کے چھوٹے لال یادو 23 سال سے سعودی عرب میں ایک ہی کمپنی میں کام کر رہے تھے۔ لیکن تنخواہ ملنا بند ہوئی تو ہندوستان میں ان کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو گئی۔

وہ کہتے ہیں ’خالی ہاتھ گھر لوٹ رہے ہیں، آگے کی زندگی کس طرح بسر ہوگی کچھ بھی علم نہیں۔‘

ڈیڑھ سال بعد وطن واپس آنے والے عبد السلام کو محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے وہ قید سے آزاد ہوئے ہوں۔

انہوں نے کہا ’میرے پاس پیسے نہیں تھے تو گھر والوں کے لیے کچھ نہیں لایا۔ کچھ دوستوں نے بچوں کے لیے تحفے دیے۔ قرض لے کر سعودی عرب گیا تھا۔ واپس آ رہا ہوں تو یہ قرض اور بڑھ گیا ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے اگر سعودی کمپنی سے ہماری سیلری کا پیسہ نہیں دلایا تو زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔‘

وہ کہتے ہیں ’وہاں میں نے ایک ہی چیز سیکھی. بھوکے رہنا۔ کئی دنوں تک 24 گھنٹوں میں سے صرف ایک ہی بار کھانے کو ملتا تھا۔ بیوی سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ گھر والوں کو جھوٹے دلاسے دیتا رہتا تھا کہ سب ٹھیک ہے۔‘

سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے نے ان مزدوروں کی یقین دہانی کی ہے کہ ان کی واجب الادا تنخواہ دلوائی جائے گی۔

25 سال کے خورشید عالم 19 سال کی عمر میں پیسے کمانے سعودی عرب گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں ’پیسے تو نہیں لیکن شوگر اور ہائی بی پی جیسی بیماری لے کر ضرور آیا ہوں۔‘

لیکن انھیں امید ہے کہ حکومت ہند ان کی بقایا رقم دلوائے گی۔

وہ کہتے ہیں ’ہمارا پیسہ بہت محنت کا ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہماری حکومت ہمیں ہمارا حق دلوائےگی۔‘

ان کارکنوں کی امیدیں اب ان کی بقایا تنخواہ پر ہی ٹکی ہوئی ہیں۔

متعلقہ خبریں