شربت گلہ کی ضمانت پر رہائی کے امکانات روشن

پاکستان میں جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے الزام میں حراست میں لی جانے والی افغان ’مونا لیزا‘ کے نام سے مشہور خاتون شربت گل کی ضمانت پر رہائی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

شربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک کے سرورق پر اپنی تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی۔

٭ 'افغان جنگ کی مونا لیزا' شربت گلہ جعلی شناختی کارڈ پر گرفتار

انھیں چند روز قبل پشاور سے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حراست میں لے کر جیل بھیج دیا تھا اور منگل کو ان کے مقدمے کی سماعت طے ہے۔

اتوار کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی توجہ اس معاملے پر مبذول کروائی گئی تو انھوں نے موقع پر ہی اپنے عملے کو شربت گلہ کی ضمانت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس کیس کو خود دیکھنا ہوگا کیونکہ شربت گلہ ایک خاتون ہیں اور اس کیس کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر شربت گلہ کے خلاف الزامات واپس لیے جائیں یا انھیں ملک بدر کر دیا جائے تو ہمیں ان افسران کے خلاف بھی کیسز واپس لینے پڑیں گے جنھوں نے شربت گلہ کو جعلی قومی شناختی کارڈ جاری کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں ان افسران کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔‘

اس سے قبل افغان حکام نے بھی شربت گلہ کی رہائی کے لیے کوششیں کی تھیں اور ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد انھیں قانونی مدد فراہم کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں افغان سفیر حضرت عمر زاخیلوال کے مطابق افغان سفارت خانے کے قونصلرز اور وکلا کو پشاور بھیجا گیا تاکہ وہ شربت گلہ کی رہائی کے لیے ہر ممکن قانونی کوششیں کریں۔

اُن کے وکیل وفی اﷲ نے کہا کہ پاکستان کے حکام نے افغان مہاجرین اور غیر ملکیوں کے لیے جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سرنڈر کرنے کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر مقرر کر رکھی ہے اور ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل غیر ملکیوں اور افغان مہاجرین کے خلاف جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ رکھنے پر کارروائی کا کوئی بھی جواز موجود نہیں ہے۔

شربت بی بی 1984 میں افغان جنگ کے دوران اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئی تھیں اور انھوں نے ناصر باغ کے مہاجر کیمپ میں رہائش اختیار کی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت پندرہ لاکھ کے قریب رجسٹرڈ افغان پناہ گزین اور اتنی ہی تعداد میں غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین مقیم ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں ان پناہ گزینوں نے پاکستانی جعلی شناختی کارڈ بنائے ہیں، اور اب کئی ہزار ایسے شناختی بلاک بھی کیے جا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں