’عمران خان امپائر کی انگلی کے بغیر تحریک نہیں چلا سکتے‘

’عمران خان امپائر کی انگلی کے بغیر تحریک نہیں چلا سکتے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کو کٹھ پتلی بننے کی عادت ہے اور امپائر کی انگلی کے بغیر کوئی تحریک نہیں چلا سکتے اور عمران خان کی سیاست کا فائدہ نوازشریف کو ہوتا ہے۔

کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں زخمی ہونے والوں سے ملاقات کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے لیے جمہوریت کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔

والدہ کا ذکر آیا تو بلاول آبدیدہ ہوگئے

٭نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں 'ناکامی پر وزیر داخلہ مستعفی ہوں'

عمران خان کی جانب سے دو نومبر کو دھرنے کی کال اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف پروفیشنل ہیں اور سیاست میں مداخلت نہیں کرتے لیکن عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مدد اور امپائر کی انگلی کے بغیر تحریک نہیں چلا سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے لیے بھی یہ صورتحال اچھی ہے کہ عمران خان دھمکیاں دیں اور قربانیاں لیتے رہیں اور وزیراعظم پاناما کے معاملے پر بچے رہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ وزیراعظم سات نومبر تک ان کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات پورے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جمہوری طریقے سے حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے لیکن اگر وزیراعظم نے ان کے چار مطالبات پورے نہ کیے تو وہ جلد انتخابات کے لیے تحریک چلائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ وزیراعظم دہشت گردی، پاناما اور خارجہ پالیسی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کریں گے اور پیپلز پارٹی کا پاناما بل بھی منظور کریں گے۔‘

بلاول بھٹو کا کوئٹہ کا یہ پہلا دورہ تھا جو انھوں نے انتہائی سخت سیکورٹی میں کیا۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ان کا خاندان خود بھی دہشت گردی کا شکار رہا اور جب انھوں نے اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد کا تذکرہ کیا تو وہ آبدیدہ ہوگئے۔

اگرچہ پیپلز پارٹی کے سربراہ نے شدت پسندی کے واقعات میں ناکامی پر موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا لیکن پیپلز پارٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے اپنے دور حکومت میں بھی کوئٹہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں شدت پسندی کے متعدد بڑے حملے ہوئے۔

پیپلز پارٹی کے دور میں شدت پسندی کے واقعات میں ناکامی پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ برادری کے شدید احتجاج کے باعث پیلپزپارٹی کی صوبائی حکومت کو معطل بھی کیا گیا تھا۔

بلاول بھٹو نے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ گڈ طالبان کے ساتھ ملتے ہیں تاہم انھوں نے پی پی پی کے رہنما ڈاکٹر عاصم کو قید میں رکھا ہوا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سی پیک کے بارے میں جو پروپیگنڈہ ہو رہا ہے اس کی ایک وجہ دشمن اور دوسری وزیراعظم کی جانب سے اس منصوبے پر عملدرآمد میں اختیار کیا جانے والا طریقہ کار ہے۔

متعلقہ خبریں