طالبان کا وفد پاکستان کیوں گیا تھا؟

طالبان کا وفد پاکستان کیوں گیا تھا؟

گذشتہ ہفتے جب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ کہا کہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے تین رہنماؤں کی پاکستان آمد کا بنیادی مقصد پاکستانی حکام سے ’افغان مہاجرین‘ کے بارے میں بات چیت تھی تو اس موقف پر مطمئن ہونا مشکل لگا کیونکہ قطر میں بنیادی طور طالبان کے دفتر کا کردار سیاسی مذاکرات ہے۔

افغان پناہ گزینوں کا معاملہ اب اتنا پیچیدہ نہیں کہ طالبان کے سیاسی مذاکرات کار مجبور ہو کر اس پر بات کرنے پاکستان آئیں۔

پاکستان میں رہنے والے افغان پناہ گزینوں سے مبینہ طور بدسلوکی کے واقعات میں کمی آئی ہے اور پاکستان حکام نےان کے قیام کی مدت میں مارچ 2017 تک توسیع کر دی ہے۔ یہی نہیں بلکہ افغان پناہ گزین رضا کارانہ طور پر بھی واپس جا رہے ہیں۔

کئی طالبان رہنماﺅں سے واٹس ایپ، ای میل، فون، فیس بک سمیت دیگر ذرائع سے رابطے کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ طالبان کے سیاسی دفتر کے اہم رہنماﺅں مولوی شہاب الدین دلاور، مولوی سلام حنفی اور مولوجی جان محمد کے پاکستان آنے کا بنیادی مقصد امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکام سے گفتگو کرنا تھا۔

پاکستان پر مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اور اس سال سال اگست میں پاکستان کے تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد روکنے یا اس سے پہلے اپریل میں رعایتی نرخ پر آٹھ ایف 16 جنگی جہاز کا سودا معطل کرنے جیسے فیصلوں کا جواز افغان طالبان سے منسلک حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات نہ کرنا ہے۔

اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اتنے خراب ہیں کہ افغانستان نے نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارت نے اس سے پہلے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد نومبر میں ہونیوالا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

ادھر افغانستان نے بھی موقع کو غنیمت سمجھ کر پاکستان پر غصہ نکال ہی دیا۔ افغانستان کی ناراضگی طورخم کی سرحد پر ہر افغان کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی شرط اور پناہ گزینوں کے معاملے پر بھی ہے لیکن بنیادی طور پر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا کشیدگی کی وجہ ہے ۔

افغان سفارتکاروں کا اصرار ہے کہ اُن کے اسلام آباد سے دو بنیادی مطالبات رہے ہیں۔ طالبان کو امن مذاکرات کے لیے میز پر لانا اور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ان کے خلاف اقدامات کرنا تاکہ وہ افغانستان میں حملہ نہ کر سکیں۔

وزیراعظم نواز شریف اور دیگر پاکستان حکام نے کئی مرتبہ واضح کیا ہے کہ پاکستان سے بیک وقت طالبان کو مذاکرات پر لانے اور ان کے خلاف اقدامات اٹھانے کے مطالبات کو نہیں مانا جا سکتا۔

طالبان کے ایک رہنما جو قطر دفتر کے سیاسی مذاکرات کاروں کے دورے کے تفصیلات سے کسی حد تک آگاہ ہیں کا کہنا ہے کہ قطر میں طالبان اور افغان حکام کے درمیان ’غیر رسمی‘ ملاقات کے اطلاعات کے بعد افغان طالبان کے رہنماﺅں کو پاکستان آنا پڑا۔

اسی طالبان رہنما نے مزید بتایا کہ دراصل پاکستان نے اس دورے کے دوران انھیں ’واضح پیغام دیا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں شامل ہو جائیں یا پاکستان سے چلے جائیں۔‘

قطر کے تین مذاکرات کاروں کے علاوہ پاکستانی حکام نے یہ پیغام طالبان کے تین اور مذاکرات کاروں کو بھی دیا ہے جس میں ملا عباس، مولوی سعد اور مولوی یحییٰ شامل ہیں۔

مولوی یحییٰ گذشتہ سال مری میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے طالبان ٹیم کے رکن کے طور پر نامزد کیے گئے تھے لیکن بعد میں حاجی ابراہیم حقانی کی شمولیت کے بعد اُن کو مذاکراتی ٹیم سے الگ کر دیا گیا۔

ابراہیم حقانی طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی کے چچا ہیں۔

ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ شاید پاکستان اب طالبان سے متعلق موقف میں سختی لا رہا ہے تاکہ طالبان کے ابھرتی شوریٰ کے رکن مولوی احمد اللہ عرف ثانی سمیت چار رہنماﺅں کی گرفتاری سے متعلق بھی یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ طالبان کے لیے ایک پیغام ہے۔

مولوی ثانی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ شاید وہ ان طالبان رہنماﺅں میں سے جو مذاکرات کے زیادہ حامی نہیں ہیں۔

طالبان رہنماﺅں کی گرفتاری سے طالبان میں تشویش پیدا ہوئی ہے اور یہ تشویش بھی قطر کے مذاکراتی ٹیم کے پاکستان کے ہنگامی دورے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

طالبان رہنماﺅں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران یہ بات بھی اب سامنے آ رہی ہے کہ طالبان کے اندر امن مذاکرات کے بارے میں حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اب افغانستان میں لڑائی کا زیادہ نقصان غیر ملکی افواج کی بجائے افغانوں کا ہو رہا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کا بڑھتا ہوا خطرہ اور حزب اسلامی کا حکومت کے ساتھ امن معاہدہ بھی شاید طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

افغانستان میں ویسے بھی لڑائی کا موسم ختم ہونے کو ہے اور موسمِ سرما کے شروع ہونے کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کسی حد تک پیش رفت کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں