عقل چوس کرسی!

عقل چوس کرسی!

بیرونی دنیا کچھ بھی کہے مگر پاکستانیوں کے سگھڑ پن کا کوئی توڑ نہیں۔ ہم کسی بھی شے سے کوئی بھی کام لے کر دنیا کو انگشتِ بدنداں کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جب ایوب خان دور میں امریکی امداد سے خاندانی منصوبہ بندی کا منصوبہ شروع ہوا تو عوام الناس کو اس راہ پے لانے کے لیے شروع شروع میں مانع حمل گولیوں کے ساتھ ساتھ سپرے فوم کنٹینر اور مخصوص شفاف غبارے بھی فیملی پلاننگ کلینکس مفت فراہم کرتے رہے۔ آبادی تو خیر کیا کم ہوتی یار لوگوں نے سپرے فوم کو بطور شیونگ کریم استعمال کرنا شروع کر دیا اور شفاف غباروں کے پیکٹ بچوں کو تھما دیے جنھوں نے انھیں پھلا پھلا کر گلیوں میں اڑانا شروع کردیا۔ یوں ایک سنجیدہ منصوبہ بچوں کا کھیل ہو گیا۔

باقی دنیا میں گدھا بار برداری کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن غربت اور دائمی لوڈ شیڈنگ کے مارے بلوچوں نے گدھا پنکھا ایجاد کر لیا۔ ایک عمودی بانس پر ایک افقی بانس ٹکا کر اس کے دونوں سروں پر ایک ایک رلی پھیلا دی جاتی ہے اور گدھا عمودی بانس کو رہٹ کی طرح ایک چکر میں گھماتا رہتا ہے۔ یوں رلی کا پنکھا بہ فیضِ خر چہار جانب ہوا پھیلاتا رہتا ہے۔

خیبر ایجنسی کے ایک گاؤں میں دیکھا کہ بم کے خالی شیل میں دو ٹونٹیاں ویلڈ کر کے اسے سیمنٹ کی ایک گھڑونچی پر پانی کی سبیل کے طور پر رکھ دیا گیا۔

مگر اشرافیہ عوام سے بھی زیادہ سگھڑ ہے۔ انگریز نے نوے برس تک برِصغیر کو یہ سوچے بغیر گولی اور جیلوں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کی کہ متبادل، سستے اور ٹکاؤ طریقے بھی تو ممکن ہیں۔ تقسیم کے بعد مقامی اشرافی ذہانت کو اپنے اظہار کی آزادی نصیب ہوئی۔

اشرافیہ نے دماغ لڑایا کہ سیدھی گولی چلانے سے نہ صرف لوگ مرتے ہیں بلکہ دنیا جہاں میں مفت کی رسوائی بھی ہوتی ہے چنانچہ مہنگے آنسو گیس شیل امپورٹ کیے گئے۔ مگر عوام نے اس کا توڑ بھیگے ہوئے رومال اور تولیے آنکھوں پر رکھ کے نکال لیا۔ ربڑ کی گولیاں امپورٹ ہوئیں مگر مظاہرین ان گولیوں کو بھی کھیل بتاشے سمجھنے لگے۔

چنانچہ یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اگر مشتعل مجمعے کو جمع ہی نہ ہونے دیا جائے تو نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ لہٰذا درخت کاٹ کر ان کے تنے راستوں پر ڈالنے کا رواج ہوا۔ لوگ پولیس کی گاڑیوں کو روکنے کے لیے اور پولیس لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے یہ تکنیک استعمال کرنے لگی۔

پھر کسی نے بتایا کہ تنے آسانی سے پھلانگے جا سکتے ہیں۔ اس کے بجائے مسافر بسوں، ویگنوں، ٹینکروں کو آڑا ترچھا کھڑا کر دیا جائے تو ایک آہنی دیوار بن جائے گی۔ لیکن اس ایک حل نے کئی اور مسائل کھڑے کر دیے۔ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیوں کی ضبطی اور پھر کرایہ و ہرجانہ نہ ملنے پر احتجاج شروع کردیا۔

عوام چیخنے لگے کہ یہ کیسے حکمران ہیں جو بسیں اور ویگنیں ضبط کر کے عوام کا حقِ سفر بھی ضبط کر رہے ہیں۔

یوں ہم کنٹینر ایج میں داخل ہوگئے۔ کئی ممالک میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ کنٹینر کو بطور گھر استعمال کیا جائے۔ افغانستان میں شمالی اتحاد والوں نے طالبان کو کنٹینر میں بند کر کے اسے دیسی گیس چیمبر بنانے کا تجربہ بھی کیا۔ مگر کنٹینرز کا سیاسی استعمال خالص پاکستانی ایجاد ہے ( غالباً )۔

پہلے پہل سیاسی تنظیموں نے اسے بطور سٹیج استعمال کرنا شروع کیا۔ مگر بارہ مئی دو ہزار سات کو کراچی میں کنٹینرز سے شاہراہیں بند کر کے جس طرح قتلِ عام ہوا اس کے بعد سرکاری کھاتے میں اسے باقاعدہ ہتھیار کی حیثیت مل گئی۔ اب تو ہر اہم عمارت کے باہر ایک دو کنٹینر مستقل دھرے ہیں۔ جانے کب ضرورت پڑ جائے۔ مال بردار کنٹینر کے موجد نے کیا اس کا یہ استعمال بھی کبھی سوچا ہوگا؟

جب مارچ دو ہزار نو میں قائدِ حزبِ اختلاف نواز شریف معزول چیف جسٹس کی بحالی کے لیے ماڈل ٹاؤن سے دھاڑتے ہوئے باہر نکلے تو سڑک کنٹینروں کنٹینری ہوئی پڑی تھی۔ اس موقع پر برادرِ خورد شہباز شریف نے شعر پڑھا:

راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے

ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے

اب تو لگتا ہے حکمرانوں میں نہیں کرسی میں کوئی خرابی ہے۔ ذرا کوئی چیک تو کرے یہ کرسیعقل چوس ‘ تو نہیں۔