خاموش رہو، دنیا تو فانی ہے!

کوئٹہ میں پولیس کیڈٹ سکول پر ہونے والا حملہ یقیناً سی پیک پر حملہ ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سی پیک بننے تک ایسے کتنے حملے اور ہوں گے؟

دہشت گردی ہوا میں نہیں کھڑی۔ یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تیار کیا گیا نیٹ ورک ہے اور ظاہر ہے اس کے پیچھے مختلف ممالک کی افواج اور پیسہ ہے ، جنھوں نے انھیں تربیت اور اسلحہ دیا اور آج تک فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔

یہ نیٹ ورک کیوں بنے؟ اب اس کا جواب سب کو معلوم ہے ۔ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بعد ان کو تحلیل کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ آوٹ آف کورس سوال ہے اور تاریخ کے پرچے سے خارج ہے ۔

جنگ انسانی سرشت ہے ۔ وسائل کے لیے جنگ ہوتی آئی ہے ، ہوتی رہے گی۔ مگر جنگ سپاہی لڑتے ہیں تاکہ کمزور لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے، جیتے گئے وسائل ان لوگوں تک بھی پہنچائے جا سکیں جو خود نہیں لڑ سکتے۔ جب طاقت ہی اصول ٹھہرے تو مضبوط اور جنگجو کا حصہ کمزور سے زیادہ ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک تو مان لیا۔

جنگ لڑنے کے اصول ہر زمانے میں رہے، کبھی مبارزت طلبی ہوئی، کبھی کھلی جنگ ہوئی، فدائین آئے، حشیشین کی کہانی گزری، ہلاکو، چنگیز بھی تاریخ کی راہداریوں میں کھو پڑیوں کے مینار اور جلی ہوئی کتابیں چھوڑ کر رخصت ہوئے۔ یہاں تک کہ جاپان پہ گرائے جانے والے ایٹم بم کا قصہ بھی داستانوں کا حصہ بن گیا۔

یہ سب باتیں سوچ کر دل کو تسلی ہوتی ہے ۔ دنیا فانی ہے ، ایک روز سب کو جانا ہے ، جانے والے اچھی جگہ چلے گئے، ہم بری جگہ ہیں۔ جانے والے اپنی کئی پشتوں کی بخشش کا انتظام کر گئے۔

تسلی بھی ہو گئی، دلاسہ بھی مل گیا اور کبھی نہ کبھی زخموں پہ انگور بھی آجائے گا۔ مگر جس آشوب میں ہم مبتلا ہیں کیا یہ اس کا دائمی علاج ہے ؟ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ سی پیک بننے کے بعد یہ کشت و خون ختم ہو جائے گا؟ اور اگر یہ جاری رہے گا تو سی پیک سے فائدہ اٹھانے کو رہے گا کون؟

مسائل میز پر حل ہوتے ہیں، اور تب ہی حل ہوتے ہیں جب غلط کو غلط اور درست کو درست کہا جائے۔ درمیان میں کچھ نہیں برزخ کے سوا اور اسی برزخ میں ہم سالوں سے لٹکے ہوئے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح اس حادثے کے بعد، سر گوشیاں سی ہوئیں، میں نے کہا، نہیں تو نے کہا۔ کس نے کہا؟ پتا نہیں کس نے کہا، کی صورت میں یہ باتیں سامنے آئیں کہ اس معاملے میں را ملوث ہے اور افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی ہے ۔ حملے کی ذمہ داری ’لشکرِ جھنگوی العالمی‘ نے قبول کر لی۔

ان جوابوں سے جو سوال اٹھتے ہیں اُن کے جواب اتنے دہشت ناک ہیں کہ خاموش رہنا ہی بہتر ہے ۔ پانچ روز سے طاری اس خاموشی میں، سرخ و سفید چہرے اور اولاد کو پالنے کی مشقت سے جلد سفید ہو جانے والے بالوں والی ایک ماں، اپنے بیٹے کے جوتے کلیجے سے بھینچے رو رہی ہے ۔

چونکہ میں بھی ایک ماں ہوں اس لیے یہاں آ کر تجزیہ کرنے کی سب قوتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ میں بھی روتی ہوں۔ بین کرتی ہوں، اٹھارہ سال کی محنت کو مٹی میں ملا دیکھ کر بے بس بڑھیوں کی طرح کوسنے دیتی ہوں۔

کچھ آنسوؤں کی دھند ہے کچھ سالوں سے جاری بجلی کا بحران، مجھے وہ مفادات نظر نہیں آتے جن کے حصول کی خاطر ہم کسی کسی کی پراکسی لڑتے ہوئے آج کے دن تک آ پہنچے ہیں، روتے روتے چونکہ آواز بیٹھ چکی ہے اس لیے یہ بھی نہیں پوچھ پا رہی کہ یہ نام ’جھنگوی‘ جس نام سے مشتق ہے کہیں وہ یہ ہمارا اپنا ’جھنگ‘ تو نہیں؟

وارث شاہ کا ’جھنگ‘، کسی لشکر کے ساتھ کیسے منسلک ہو گیا؟ ہو سکتا ہے شدتِ غم سے میرا ذہن قابو میں نہ ہو اور مجھے یہ سب کچھ سوجھا ہو، بہت ممکن ہے کہ ’جھنگ‘ پاکستان میں ہو ہی نہ بلکہ افغانستان میں ہو۔ ویسے کیا آپ بتا سکتے ہیں ’جھنگ‘ کہاں ہے ؟

چلیے ایک بے موقع نظم سن لیجیے:

مجھے دیکھو، میں لڑنا نہیں چاہتا

لیکن مسلسل حالتِ جنگ میں ہوں

اور لگا تار پسپا ہو رہا ہوں

کیونکہ میں اپنے علاوہ کسی پر حاوی نہیں ہو سکتا

متعلقہ خبریں