چار نصف سنچریاں لیکن پاکستان بڑے سکور میں ناکام

شارجہ ٹیسٹ کے پہلے دن ویسٹ انڈین بولرز کی عمدہ کارکردگی کے نتیجے میں پاکستانی بیٹسمین بڑے سکور تک پہنچنے کی تگ ودو کرتے نظر آئے۔

پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے 255 رنز بنائے تھے اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔

٭ میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

پاکستان کی اننگز میں سمیع اسلم، یونس خان، مصباح الحق اور سرفراز احمد نے نصف سنچریاں سکور کیں لیکن ٹیم سے جس بڑے سکور کی توقع کی جارہی تھی وہ پوری نہ ہو سکی۔

مصباح الحق پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 49 ٹیسٹ میچوں میں قیادت کرنے والے کپتان بن گئے۔

انھوں نے سیریز میں لگاتار تیسری مرتبہ ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن شارجہ کی وکٹ ابتدائی لمحات میں بیٹسمینوں کے لیے پریشانی کا سبب بننے کے لیے مشہور ہے اور پاکستانی بیٹسمین اس ابتدائی وار کو سہہ نہ سکے۔

میچ کے پہلے ہی اوور میں گرنے والی دو وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کو زبردست دھچکہ پہنچایا۔ شینن گیبریئل نے دوسری گیند پر اظہرعلی کو صفر پر سلپ میں کریگ بریتھ ویٹ کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

گیبریئل نے دو گیندیں بعد اسد شفیق کو بھی صفر پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

امپائر پال رائفل نے اسد شفیق کو ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا جس پر لیے گئے ریویو نے فیصلہ ویسٹ انڈین ٹیم کے حق میں دے دیا۔

دس سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم نے کسی ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی اوور میں ایک سے زائد وکٹیں گنوائی ہیں۔

2006 میں انڈیا کے خلاف کھیلے گئے کراچی ٹیسٹ کے پہلے ہی اوور میں پاکستان کی تین وکٹیں صفر پر گر گئی تھیں جس میں عرفان پٹھان کی ہیٹ ٹرک شامل تھی۔

ایک رن پر دو وکٹیں کھونے کے بعد یونس خان اور سمیع اسلم نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کی شراکت میں 106 رنز کا اضافہ کر کے ٹیم کی پوزیشن بہتر بنا دی۔

یونس خان پر قسمت مہربان رہی کیونکہ روسٹن چیس کے ایک ہی اوور میں وہ دو بار آؤٹ ہونے سے بچے۔

پہلے ان کا کیچ مڈ وکٹ پر لیون جانسن نے گرا دیا جس کے بعد وکٹ کیپر ڈورچ نے سٹمپڈ کرنے کا موقع ضائع کردیا۔ اس وقت یونس خان کا سکور30 تھا۔

وہ چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 51 رنز بنا کر چیس کی گیند پر جانسن کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

سمیع اسلم نے جو بڑے اعتماد سے بیٹنگ کر رہے تھے 74 کے انفرادی سکور پر ریورس سوئپ کرنے کی کوشش میں اپنی وکٹ دیویندرا بشو کو تحفے میں تھما دی۔

سمیع اسلم کی اس سیریز میں یہ تیسری اور مجموعی طور پر پانچویں نصف سنچری ہے تاہم وہ اپنے کرئیر میں چوتھی مرتبہ سنچری کے قریب آکر آؤٹ ہوئے ہیں۔

اس سے قبل انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں وہ 82 اور 70 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے اور موجودہ سیریز کے دبئی ٹیسٹ میں وہ صرف دس رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے تھے۔

مصباح الحق اور سرفراز احمد نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 80 رنز کا اضافہ کیا۔

مصباح الحق کے خلاف چھ اور 23 کے سکور پر ایل بی ڈبلیو کی دو اپیلیں امپائر نے مسترد کیں۔ دونوں مرتبہ ویسٹ انڈین کپتان ہولڈر نے ریویو لیا لیکن دونوں فیصلے ان کے خلاف گئے۔

مصباح نے اپنی 36ویں نصف سنچری تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 117 گیندوں پر مکمل کی لیکن 52 کے سکور پر وہ بشو کی گیند پر ریورس سوئپ کرتے ہوئے ڈورچ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

امپائر نے مصباح کو آؤٹ قرار دیا تھا جس پر انھوں نے ریویو لیا تاہم ٹی وی امپائر کا فیصلہ فیلڈ امپائر سے مختلف نہ تھا۔

اس پارٹنرشپ کے بعد پاکستانی ٹیم مشکلات سے دوچار ہوگئی اور چھ رنز کے اضافے پر محمد نواز، سرفراز احمد اور وہاب ریاض کی وکٹیں گر گئیں۔

سرفراز احمد کی 51 رنز کی اہم اننگز کا خاتمہ گیبریئل نے کیا۔

دیویندرا بشو ویسٹ انڈیز کے سب سے کامیاب بولر رہے وہ اب تک چار وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

دونوں ٹیمیں دو، دو تبدیلیوں کے ساتھ یہ ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہیں۔

پاکستانی ٹیم میں سہیل خان اور راحت علی کی جگہ محمد عامر اور وہاب ریاض کو شامل کیا گیا ہے۔

ویسٹ انڈین ٹیم میں شائے ہوپ اور میگوئل کمنز کی جگہ شین ڈورچ اور الزاری جوزف شامل ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں