’انڈیا کی فوج کشمیریوں کے جنون کو قید نہیں کر سکی‘

پاکستان اور انڈیا کے ٹی وی چیلنز پر دکھائی جانے والی باہمی نفرت اور غم و غصے کی صدا نیویارک کی سڑکوں پر بھی سنائی دے رہی ہے۔

بروکلین میں رہنے والی تقریبا چھ ہزار کے قریب کشمیری آبادی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری 'بربریت' پر گہری نظر رکھے ہوئی ہے۔

'بُرے سے نیا تجربہ بہتر ہے'، ٹرمپ کے پاکستانی نژاد حامیوں کا خیال

امریکی مسلمان ووٹر رپبلکن پارٹی سے نالاں

پاکستان اور انڈیا کے بیشتر ٹی وی چیلنز کی جانب دکھائے جانے والے جنگ کے خدشات یہاں رہنے والی کشمیری آبادی میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

محمدد تاج خان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کمشیر سے ہے۔ وہ گذشتہ 20 برسوں سے بروکلین میں قیام پذیر ہیں۔

وہ پرفیوم کی دکان چلاتے ہیں اور امریکہ کی سیاست سے زیادہ کشمیر کی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری انڈیا کی فوج کے تشدد پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'میں دنیا سے درخواست کرتا ہوں کہ دو ایمٹی طاقتوں کو جنگ کی جانب دھکیلنے کی کوشش نہ کی جائے۔ انڈیا کی فوج کو کشمیر سے نکالا جائے اور کشمیریوں کو ان کا خق خود ارادیت دیا جائے۔'

وہ اس بات پر بضد ہیں کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

برطانوی تھینک ٹینک کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق صرف 15 فیصد کشمیری پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں جب کہ 43 فیصد کمشیری آزادی چاہتے ہیں۔

بروکلین کی کمشیری برداری انڈیا کے زیر انتظام کمشیر میں جاری 'تشدد' کے خلاف آج پاکستانی قونصلیٹ کے سامنے یوم سیاہ بھی منا رہی ہے۔

اس کے منتظمین میں محمد علیم خان بھی شامل ہیں جو گذشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔

وہ کہتے ہیں 'امریکہ میں رہنے والے تمام کمشیری متحد ہیں، ہم کشمیریوں کی آزادی چاہتے ہیں۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ گذشتہ سات دہائیوں سے کشمیر جل رہا ہے، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ انڈیا کی فوج نے کشمیریوں کے جسم کو قید تو کر رکھا ہے مگر وہ ان کے جنون کو قید نہیں کر سکی۔‘

ان کے کہنا تھا کہ کشمیریوں کی آزادی کے عوض بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔

سید آزاد گیلانی ایک سٹور میں مینیجر ہیں۔ ان کے خیال میں'اگر پاکستان پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اور کئی ممالک منسلک ہیں جس سے مشکل پیدا ہو جائے گی مگر انڈیا پر حملے کی صورت میں وہ مکمل تباہ ہوجائے گا۔'

مبصرین کے خیال میں مسئلہ کشمیر پر بظاہر پاکستان اور انڈیا کی دو طرفہ ریاستی پالسی خوف اور جنگی جنون کے گرد گومتی ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب گرنے والی عام شہریوں کی لاشیں ہیں۔

متعلقہ خبریں