عامر منصور خان کو دوبارہ ہدایتکاری کے میدان میں لانے کے لیے کوشاں

انڈیا کے معروف اداکار عامر خان کا کہنا ہے کہ وہ نوے کی دہائی کے کامیاب فلم ڈائریکٹر منصور خان کو ایک بار پھر فلم سازی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منصور خان عامر خان کے اپنے چچازاد بھائی ہیں اور وہ عامر کے فلمی کریئر کی پہلی فلم 'قیامت سے قیامت تک' کے ہدایتکار تھے۔

یہ بطور ہدایتکار منصور کے کریئر کی بھی پہلی فلم تھی اور سنہ 1988 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم سپر ہٹ رہی تھی۔

انھوں نے عامر خان کی ایک اور سپرہٹ فلم 'جو جیتا وہی سکندر' کی بھی ہدایت کاری کی ہے۔

منصور خان نے سنہ 2000 میں آخری بار فلم 'جوش' میں ہدایات دی تھیں اس کے علاوہ اپنے بھانجے عمران کی خان کی پہلی فلم 'جانے تو یا جانے ناں' میں وہ معاون فلمساز تھے۔

منصور خان نے اپنے والد ناصر حسین کی زندگی پر منبی کتاب 'میوزک مستی ماڈرنیٹی: دی سینیما آف ناصر حسین' کے اجرا کے موقع پر کہ جب وہ ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ان کے والد نے کہا تھا کہ 'تم کہیں بھی چلے جاؤ لیکن آخر میں تم فلم انڈسٹری کی جانب آؤں گے کیونکہ ہماری جڑیں یہیں ہیں۔'

اسی بات پر عامر خان نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا: 'اور آج کل میں بھی منصور سے یہی باتیں کہہ رہا ہوں۔ آپ دور تک جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یہیں لوٹ کر آنا ہے۔'

اس کے جواب میں منصور نے کہا 'امید کرتا ہوں کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یہ بات سچ ثابت ہو۔'

اسی تقریب کے دوران عامر خان نے ناصر حسین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے چچا سے مہمانوں سے رخصت حاصل کرنے کا طریقہ سیکھا جس کا وہ اب بھی استعمال کرتے ہیں۔

عامر نے کہا: 'وہ کہتے تھے کہ 'آپ سب سے مل کر بہت اچھا لگا' جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ 'خدا حافظ اب آپ سب اپنے اپنے گھر جائیں۔'

عامر نے کہا: 'ہم نے ایک چیز ان سے سیکھی اور اسے اپنے اندر اتار لیا۔ ہم تمام بچے ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے کمرے میں کھانا کھاتے تھے۔ وہ ہم سب کو بہت چاہتے تھے۔ لیکن جب ان کے سونے کا وقت ہو جاتا تو وہ اٹھتے اور کہتے آپ سب سے مل کر بہت اچھا لگا۔ وہ ہمیشہ رخصت چاہتے ہوئے یہی کہتے تھے۔'

عامر خان نے کہا کہ 'ان کے اس ایک جملے کا ہم نے اپنی زندگی میں خوب استعمال کیا۔'

متعلقہ خبریں