نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ’ناکامی پر وزیر داخلہ مستعفی ہوں‘

پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی پر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکامی اور کالعدم تنظیموں کو چھوٹ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت اجلاس میں یہ مطالبہ کیا گیا، جس میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، چوہدری اعتزاز احسن، شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف، فریال ٹالپور اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد سینیٹر فرحت اللہ بابر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں جو وجوہات اور عوامل ہیں ان میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا بھی ہے۔

اجلاس میں آرمی پبلک سکول پر حملے، باچا خان یونیورسٹی اور کوئٹہ حملوں اور وزارت داخلہ کے اس پر ردعمل اور حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا اور قیادت اس نتیجے پر پہنچی کہ دہشت گردی کی روک تھام میں وزرات داخلہ مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کا یہ ایک بنیادی جز ہے کہ کالعدم تنظیموں کو کام کرنے نہیں دینا لیکن وفاقی وزیر نے اس کے برخلاف کام کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں کے وفد سے ملاقات بھی کی اور ایک شدت پسند تنظیم کو جلسے کی اجازت بھی دی۔

'وفاقی وزیر اہل نہیں ہیں کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں سے لڑ سکیں، ان سے استعفیٰ لیا جائے اگر وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی نہ ہوں تو وزیراعظم ان سے استعفیٰ طلب کر لیں۔'

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نواز شریف بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، پاناما لیکس کے پہلے روز سے ان کا توازن خراب ہو گیا ہے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ ان کے سارے خاندان کی چوری پکڑی گئی ہے۔

'تحریک انصاف سے بدستور اختلافات ہیں لیکن ایک پاناما بل پر مکمل اتفاق ہے، دوسرا ان کے ساتھ اس تشدد کی مذمت کرتے ہیں، یہ تشدد حکومت کی نااہلی کی ایک صاف کھلی مثال اور دلیل ہے۔'

اعتزاز احسن نے حکمران مسلم لیگ ن کی جانب سے پیپلز پارٹی قیادت سے رابطے کے بارے میں بھی آگاہ کیا لیکن اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں لیکن بتایا کہ'ہمارے مطالبات تھے، جس میں پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی تشکیل، جس کا کشمیر پر آل پارٹیز کانفرنس پر وعدہ کیا گیا تھا۔دوسرا مطالبہ پاکستان چین راہدری منصوبے پر مساوی عملدرآمد اور ترقی، تیسرا مطالبہ پاناما پیپرز انکوائری بل کی منظوری جو حکومت کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہے اور چوتھا مطالبہ وزیر خارجہ کی تعیناتی ہے۔'

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جس انداز میں وزیر اطلاعات سے استعفیٰ لیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ میاں صاحب کے پاؤں پھسل گئے ہیں اور ان کے لیے اب توازن سنبھالنا اور اقتدار سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔'

'پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ جب وزیر اطلاعات نے خبر دی تو ڈان نے اس کو معتبر نہیں سمجھا اور رپورٹر کو کسی اور ذرائع سے تصدیق کرانے کو کہا جس کے بعد ایک دوسرے معتبر نے اس کی تصدیق کی جو اس اجلاس میں شریک تھا۔'

اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن اور کراچی میں پولیس اور رینجرز کے درمیان تعاون کے علاوہ انھیں اس پلان کے کسی دیگر حصے پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

کراچی میں زیر اعلاج سابق وفاقی وزیر ِ پٹرولیم ڈاکٹر عاصم سے ملاقات کرنے کے بعد انھوں نےکہا کہ پیپلز پارٹی پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ'آج جو نیشنل ایکشن پلان کی شکل میں آپ قومی اتفاقِ رائے دیکھ رہے ہیں وہ ہم نے پیدا کیا ہے۔ ہم نے شیر کو بھی دہشگردوں کے خلاف لڑنے کو کہا اور کھلاڑی کو بھی کہا کہ یہ کھیل نہیں قومی اہمیت کا معاملہ ہے۔ تاہم اس کا نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کی بجائے ہمیں ڈاکٹر عاصم جیل میں نظر آتے ہیں۔'

متعلقہ خبریں