کراچی میں مجلس پر فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک، دس زخمی

کراچی میں مجلس پر فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک، دس زخمی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شیعہ مسلک کی ایک مجلس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے ہیں۔

سنیچر کو یہ واقعہ کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر چار میں اس وقت پیش آیا جب ایک گھر میں محرم الحرام کے حوالے سے ایک مجلس جاری تھی۔

علاقے کے ایس ایچ او سید فیض الحسن شاہ نے بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا کہ یہ گھر ان کے تھانے کے عقب میں کچھ فاصلے پر ہے اور یہاں خواتین کی مجلس جاری تھی جبکہ گھر کے باہر ایک شامیانے کے نیچے کچھ مرد حضرات بیٹھے ہوئے تھے۔

سید فیض الحسن شاہ نے بتایا کہ مجلس کے دوران دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار افراد آئے اور انھوں نے وہاں موجود افراد پر فائرنگ کر دی جس سے پانچ افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو خواتین اور 3 بچے بھی شامل ہیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے ذمہ داران معافی کے حقدار نہیں اور دہشتگردوں کو کراچی کا امن تباہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

ادھر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

اس واقعے کے فوری بعد سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جبکہ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ کی 18 تاریخ کو بھی کراچی میں ایک امام بارگاہ پر کریکر سے کیے جانے والے حملے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ 18 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

جبکہ محرم کے پہلے عشرے کے دوران گلستانِ جوہر اور گلشن اقبال میں دو مختلف واقعات میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں