اسلام آباد ’لاک ڈاؤن‘ پر ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ’لاک ڈاؤن‘ پر ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے خلاف درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور کنٹینرز کو تحویل کے لیے الگ الگ درخواستوں پر بھی پنجاب حکومت سے یکم نومبر کے لیے جواب طلب کرلیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے تین مختلف درخواستوں پر سماعت کی جن میں دو نومبر کے احتجاج ۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور کنٹیرز کو پولیس کی طرف سے قبضہ میں لینے کے اقدامات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس انوارالحق اور جسٹس قاسم خان شامل ہیں۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے دفعہ 144 کے نافذ کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے.

تین رکنی فل بنچ کے روبرو ٹرانسپورٹرز اور گڈز کی تنظیم پر کارروائی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمان خان کو ہدایت کی کہ اس بارے میں تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کیا جائے کہ کتنے مقامات کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران تنظیم کے وکیل نے بتایا کہ حکومت ان کی گاڑیوں کو تحویل میں لے رہی ہے تاکہ اسلام آباد کو جانے والے قافلوں کا راستہ روکا جاسکے۔درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی کہ حکومتی کارروائی کی وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہورہا ہے۔

لاہورہائی کورٹ کے فل بنچ نے درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ کن راستوں پر کنٹینرز لگا لر بند کیا جارہا ہے ان کے بارے میں رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پولیس پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ کارکنوں کی گرفتاری کے بارے میں تفصیلی رپورٹ یکم نومبر کو پیش کی جائے۔

عوامی تحریک کے رہنما اشتیاق اے چودھری نے درخواست میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور ان کو احتجاج سے روکنے کے لیے گرفتار کیا جارہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ کے روبرو دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ایک موقع پر فل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو غیر آئینی طریقہ سے ختم کرنا آئین کے آرٹیکل پانچ کے زمرے میں آتا ہے۔

سماعت کے دوران فل بنچ نے تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس سے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف کا احتجاج صرف ایک محض علاقے تک محدود رہے گا جس کا وکیل نے کوئی جامع جواب نہیں دیا۔

فل بنچ نے تحریک انصاف کے وکیل سے یہ بھی پوچھا کہ تحریک انصاف کے احتجاج کی وجہ سے سکول بند نہیں ہوں گے جس پر احمد اویس نے واضح کیا کہ عمران خان کا بیان علامتی تھا اور اس بیان ک غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان اشتراوصاف علی شیخ نے عمران خان کے بیان کی فوٹیج پر موبائل فون پر فل بنچ کو دکھائی جس پر تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس نے اعتراض کیا کہ جب بھی تحریک انصاف احتجاج کرتی ہے تو حکومت پورے پاکستان کو بند کردیتی ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس نے کہا کہ عمران خان کے بیان کو غلط طور پر پیش کیا جارہا ہے حالانکہ عمران خان کے بیان کا مطلب ہے کہ اگر تحریک انصاف احتجاج کرے گی تو سب کچھ بند ہوجائے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید، عوامی تحریک کے رہنما اشتیاق اے چودھری اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے ایک نوعیت کی تین الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں.

درخواستوں میں بتایا کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے اعلان کے بعد حکومت نے دفعہ 144 نفاذ کر دی ہے.

درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کرنا شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے لیکن حکومت دفعہ 144 نافذ کرکے تحریک انصاف کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنا چاہتی ہے.

درخواستوں میں یہ نکتہ اٹھایا گیا حکومت نی بدنیتی کی بنیاد پر دفعہ 144 نفاذ کی ہے اور کسی قانون کا بدنیتی سے استعمال کیا جائے تو وہ غیر آئینی اقدام کے مترادف ہے. درخواستوں میں استدعا کی گئی کہ دفعہ 144 کا نفاذ کے نوٹیفکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

متعلقہ خبریں