'اصل سزا اس معاشرے میں عورت کو ہی ملتی ہے‘

پھانسی کی سزا پانے والے نفسیاتی مریض امداد علی کی اہلیہ صفیہ کی کیفیت ایک ایسے شخص کی ہے جو 15 سالوں سے خود سولی پر ہو البتہ آج عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے امداد علی کی پھانسی روکنے کے حُکم کے بعد انھوں نے کچھ سکون کا سانس لیا۔

حال ہی میں عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ سکٹزفرینیا کوئی مستقل مرض نہیں ہے اور اس کی بنیاد پر امداد علی کی سزائے موت نہیں روکی جا سکتی تاہم پیر کو عدالت نے صفیہ کی درخواست پر اس سزا پر عمل درآمد روک دیا۔

صفیہ بتاتی ہیں کہ مقتول حافظ عبداللہ، امداد کے استاد تھے جنھوں نے اُنھیں قرآن بھی پڑھایا۔ 'ان سے کی کوئی دشمنی نہیں تھی۔ امداد سعودیہ میں کام کرتا تھا۔ ملک آتا تو جنون یہی ہوتا کہ میں مؤکل حاصل کرنا چاہتا ہوں، جادو وغیرہ اور جنات حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اسی قسم کا شوق تھا اس کو اور اسی وجہ سے یہ روحانی علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ استاد جی سے بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ روحانی علم دیں۔'

امداد علی کی اہلیہ ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا میں دو مرلے کے گھر میں رہتی ہیں۔ 1993 میں ان کی شادی امداد علی سے ہوئی۔ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں اور گھر میں ہی محلے کی لڑکیوں کو سلائی کڑھائی سکھا کے گزارہ کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ' اصل سزا اس معاشرے میں عورت کو ملتی ہے ۔ جرم اگر مرد بھی کرے تو سزا عورت کو ہی ملتی ہے ۔ قتل کے بعد شروع میں مجھ پہ بہتان لگے کہ اس عورت کی وجہ سے قتل ہوا ہے ۔ پھر میں باہر نکل کے کام نہیں کر سکتی تھی کیونکہ سب کی نظروں میں تھی کہ یہ ایک قاتل کی بیوی ہے ۔'

وہ بتاتی ہیں کہ عدالتوں اور جیل کے چکر کاٹنے کےدوران خود کو تن تنہا محسوس کرتی تھیں اسی لیے ایک آٹھ سالہ بچے کو ساتھ لےجانے لگیں جسے بعد میں انھوں نے ہی پالا پوسا اور اب وہ ہی ان کا سہارا ہے ۔

صفیہ کے بقول امداد علی کی ذہنی حالت شادی کو چند سال بعد ہی بگڑنا شروع ہوگئی تھی۔

لاہور کے ایک ماہرِ نفسیات نے کہا کہ یہ جس کے قریب ہوگا اُسے مار سکتا ہے ۔ خود سے باتیں کرتا، سارا سارا دن دھوپ میں بیٹھ کے سورج سے باتیں کرتا، شدید سردی میں ساری ساری رات بیٹھ کے خود باتیں کرتا، کئی کئی دن بھوکا رہتا۔'

صفیہ نے حال ہی میں جیل میں امداد علی سے ملاقات کی اور ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں وہ بےتکی گفتگو ہی کرتے رہے۔

'وہ کہتا ہے ۔یہ کرسی میں نے بنالی ہے ، اپنی جنت بنالی ہے ، تم سب کی ملکہ ہو، میں بادشاہ ہوں، میں ہی بنانے والا ہوں، میں نے اپنی فوج بنا رکھی ہے ، میں نے تمہاری بھی فوج بنالی ہے ۔ تم اس کی سردار ہو۔ اس قسم کی باتیں کرتا ہے ۔'

صفیہ کے مطابق انھوں نے کئی بار مقتول کے خاندان سے دیت کے قانون کے تحت معافی کے لیے رابطہ کیا لیکن ان کا رویہ بہت سخت ہے ۔

'وہ کہتے ہیں میرا باپ، بچوں کو قرآنِ پاک پڑھا رہا تھا، تعلیم دے رہا تھا مسجد میں ۔ جب انھیں مارا گیا تو یہ کام کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔'

امداد علی کا نفسیاتی علاج سنہ 2004 سے جاری ہے ۔سنہ 2012 میں وہاڑی جیل کے سپرٹنڈنٹ کی درخواست پر ان کا باقاعدہ نفسیاتی معائنہ کیاگیا اور نشتر ہسپتال کے شعبۂ نفسیات کے سربراہ نے امداد علی کو سکِٹزوفرِینِک قرار دے دیا۔

اس کیس میں نفسیاتی ماہرین کے علاوہ امداد کے خاندان اور پڑوسیوں کی گواہیوں پر مشتمل سرکاری کاغذات بھی بےمعنی ثابت ہوئے اور انسانی اور طبی بنیادوں پر کی گئی رحم کی درخواستیں مسترد کی جاتی رہیں۔

جیل میں امداد کا نفسیاتی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر طاہر فیروز کہتے ہیں کہ '2012 میں میں نے انھیں دیکھا پھر ایک رپورٹ لکھی گئی، میں انہیں وقتاً فوقتاً دیکھتا رہا لیکن مجھے یہ کبھی بھی نہیں اندازہ تھا کہ ان کو پھانسی ہو جائے گی کیونکہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ انھیں سرکاری طور پر معذور ڈیکلیئر کیا جاچکا ہے لہٰذا میرے لیے تو یہ بات ناقابلِ فہم ہے ۔'

نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہےکہ جب وہ کسی شخص کو پاگل قرار دیتے ہیں تو عام طور پر عدالتیں ان کی بات سنتی ہیں البتہ یہ کیس ذرا مختلف ہےکیونکہ قتل 2001 میں ہوا اور 2012 میں امداد کو پہلی دفعہ فاتر العقل قرار دیا گیا۔

عدالتیں یہ جاننا چاہتی ہیں کہ قتل کے وقت مریض کی ذہنی کیفیت کیا تھی لیکن امداد کے لیے بظاہر یہ کارروائی پوری نہیں کی گئی۔

ڈاکٹر طاہر فیروز کے بتایا کہ 'صفیہ بیگم نے 2001 میں جب یہ قتل ہوا تو سیشن جج کی عدالت میں لاہور کے ایک نفسیاتی معالج کی ایک دستاویز پیش کی جس میں سکِٹزوفرِینیا لکھا ہوا ہے اور انھوں نے تجویز کیا ہوا ہے کہ انھیں مینٹل ہاسپٹل لاہور منتقل کیا جائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اُسی ڈاکٹر نے بعد میں ہائی کورٹ میں اپنی اُس دستاویز کو ماننے سے انکار کر دیا۔ایسے میں جج صاحب کو چاہیے تھا کہ اُس وقت معائنہ کرواتے۔'

اعلیٰ عدالت اور صدرِ مملکت کی جانب سے ایک بار رحم کی اپیل مسترد ہونے کے باوجود صفیہ پرامید ہیں کہ ان کی تازہ اپیلوں پر امداد کی زندگی بچا لی جائے گی۔الا

متعلقہ خبریں