بعض عناصر پختونخوامیںتیل وگیس کی پیداوارروکنے کیلئے سرگرم

پشاور(مشرق نیوز)بعض عناصر خیبر پختو نخواہ میں تیل وگیس کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی و پیداوار روکنے کے لیے سرگرم ہوگئے،اب یہ حقیقت مکمل طور پر کھل کر واضح ہو چکی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسوں کی بدولت ہی تیل و گیس کے شعبے میں نمایاں ترقی ممکن ہوئی ہے جس کا واضح ثبوت سا ل 2013 میں تیل و گیس کی پیداوار اور سال 2106 میں پیداوار کے فرق سے واضح ہے۔ سا ل 2013میں تیل کی پیداوار 30,000بیرل یومیہ تھی جو سال 2016میں بڑھ کر 54,000بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہے اس طرح گیس کی پیداوار 330ملین معکب یومیہ سے بڑھ کر سال 2016میں 440ملین معکب فٹ یومیہ تک پہنچ چکی ہے اس طر ح مائع گیس(سلنڈر گیس) کی پیداوار جو سا ل 2013میںصرف دس(10) ٹن یومیہ تھی جوکہ سال 2016میں 515ٹن یومیہ تک پہنچ چکی ہے پیداوار کا یہ واضح فرق وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی ذاتی دل چسپی اور کوششوں کی بدولت ہی ممکن ہو سکا اور تیل و گیس کا شعبہ ترقی کی منازل طے کرتاہو اس مقام تک آپہنچا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید تر قی اور سرمایہ کار ی متوقع ہے تیل اور گیس کے شعبے میں بڑ ھتی ہو ئی سرگرمیوںکی بدولت صوبے میں بے روزگاری اور دہشتگردی کے واقعات پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔چونکہ اب صوبہ کے اندر تیل و گیس کی پیداوار بڑھ رہی ہے اور اس کا بلاواسطہ فائدہ صوبائی و وفاقی حکومتوں کو منتقل ہو رہا ہے اور فارن کرنسی کی بھی کافی حد تک بچت ہو رہی ہے جسکے نتیجہ میں درآمدی مافیا کا اربوں روپے کا کمیشن کم ہوتا جا رہا ہے اورمافیا مختلف الزامات لگا کر عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ اس لیے اب صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو چاہیے کہ درآمدی مافیا کی منفی سرگرمیوں اور اوچھے ہتھکنڈوں کے سدباب کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیںورنہ ملک دشمن عناصر کے اس پراپیگنڈے اور منفی سرگرمیوں کی بدولت نہ صرف مزید سرمایہ کاری رکنے کا خطرہ ہے بلکہ موجودہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور وہ اپنا سرمایہ سمیٹ کر کہیں اور لے جا نے پر مجبو ر ہو سکتے ہیں جس سے صوبے کے اندرمزید ترقی کا عمل رک سکتا ہے ۔با وثوق ذرائع سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ نذیر الحق کی طر ف سے KPOGCLپر لگائے گئے الزامات کے حقیقت کی قلعی کھل کر سامنے آگی ہے یاد رہے کہ نذیرالحق نے چندہفتے قبل پریس کانفرنس کرتے ہو ہے نوشہر بلاک میں میٹامارفک چٹانوں کی موجودگی کا انکشاف ، ڈیٹا غلط فارمیٹ پر خریدنے اوراربوں روپے ضائع ہونے کابے بنیاد ،لغو اور جھوٹا الزام عائد کیا تھا ۔