Daily Mashriq


گرمی آتے ہی طویل لوڈ شیڈنگ

گرمی آتے ہی طویل لوڈ شیڈنگ

گرمیوں کی آمد آمد کے ساتھ ہی موسم بہار ہی میں لوڈ شیڈنگ کا آغاز ڈیموں میں پانی کی کمی کے باعث ہو یا کچھ اور ، عوام کیلئے یہ ناخوشگوار صورتحال ہے۔ اس کی بڑی وجہ شایدیہ بھی ہو کہ اولاً عوام اس اچانک کی تبدیلی کیلئے تیار نہیںتھے دوم یہ کہ حکمرانون تو اتر سے یہ دعوے کرتے رہے کہ اب عوام لوڈ شیڈنگ کو بھول جائیں گے مگر اچانک ہی غیر اعلانیہ اور بغیر شیڈول کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ اس وقت عملی طور پر شہری علاقوں میں چھ جبکہ دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے بجلی آنکھ مچولی لوڈ شیڈنگ سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے جس کی وجہ سے صارفین کو برقی آلات کی خرابی یا اس کے خدشات کا سامنا ہے ۔ بجلی ساز نجی کمپنیوں کو واجبات کی ادائیگی کے ذریعے موجود ہ حکومت نے اقتدار کے آغاز میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کی کامیاب سعی کی تھی ۔اب آئی پی پیز کے واجبات دوبارہ سے بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جانب سے بجلی کی پیدا وار میں ممکنہ طور پر کمی کی گئی ہو ۔ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ میں اضافے اور حکومت کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث بجلی کی پیداوار کم ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ آئی پی پیز کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے اپنے ریکارڈ کے مطابق اس کے ذمہ 253 ارب روپے کی رقم واجب الادا ہے۔ جبکہ سرکاری کمپنیوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی حجم 414 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔شعبہ توانائی کے ماہر ین کے مطابق صرف گردشی قرضوں کی ادائیگی ہی مسئلہ نہیں، بلکہ بجلی گھروں کی کم صلاحیت اور زیادہ لاگت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو بجلی کو مہنگا کررہی ہے۔واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس مارچ میں ہائیڈل جنریشن کی اوسط کم ہو کر2 ہزار560میگاواٹ تھی۔ جو رواں ہفتے ایک ہزار چار سو دس میگا واٹ ہو گئی ہے۔ماہرین کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے لیے صرف فیول آئل پر انحصار کرنا قیمت بڑھا رہا ہے۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے گزشتہ ہفتے ایوان بالا میں سرکلر ڈیٹ میں اضافہ تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ گردشی قرضے فروری میں 393 ارب روپے ہو گئے تھے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 14 ہزار 500 میگا واٹ جبکہ پیداوار گیارہ ہزار ہے واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک کا کہنا ہے کہ اب توانائی بحران کا حل مشکل نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان 'سستے ہائیڈل ذریعے سے بجلی پیدا کرنے کی بجائے پندرہ سے بیس روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے۔پاکستان کی مجموعی پیداواری صلاحیت اکیس ہزار143میگا واٹ ہے۔نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 14 ہزار 500 میگا واٹ جبکہ پیداوار گیارہ ہزار ہے۔ ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہونے سے شارٹ فال پینتیس سو میگا واٹ ہو گیا ہے۔اس صورتحال میں نظر یہ آرہا ہے کہ رواں برس ساہیوال پاور پلانٹ اور پھر بن قاسم پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوارکے آغاز کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہ ہوگا البتہ ملک میںلوڈ شیڈنگ میں کمی تو واقع ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ 2018 تک پاکستان کے پاس اتنی بجلی ہوگی کہ ہم انڈیا کو بھی فروخت کر سکیں گے۔گرمیوں میں بجلی کی طلب ورسد میں فرق رہتا ہے جو لوڈ شیڈنگ کا باعث ہے مگر معاملہ صرف اس سید ھی سادھی وجہ کا نہیں بلکہ معاملات آئی پی پیز کو ادائیگیوں کا ہے کہ حکومت آخر ان واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے کیوں کام لیتی ہے اور یہ نوبت کیوں آنے دی جاتی ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار کم کرتے ہوئے بجلی کی پیدا وار بند کر نے کی دھمکی دینے پر مجبور ہو جائیں ۔ حکومت باقاعدگی کے ساتھ صارفین سے بلوں کی رقم وصول کرتی ہے بلکہ گرمیوں میں صارفین سے بجلی کے غیر حقیقی اور زائد نرخوں کے مطابق وصولی ہوتی ہے جس کا بعد میں ازالہ ضرور کر لیاجاتا ہے مگر بہر حال خواہ جو صورت بھی ہو حکومت کے پاس ایک خطیر اضافی رقم جمع ہوتی ہے مگر اس کے باوجود آئی پی پیز کو ادائیگی نہیں ہوتی ۔حکومت پن بجلی کی قیمت بھی وہ وصول کرتی ہے جوایندھن سے بننے والی بجلی کی ہوتی ہے مستزاد حکومت کمپنیوں سے خریدی گئی بجلی میں بھی اپنا منافع شامل کر تی ہے مگر اس کے باوجود عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق قیمتاً بلکہ مہنگے داموں بجلی کی فراہمی نہیں ہوتی جس کے باعث یو پی ایس ، سو لر اور جنر یٹر کے متبادل اور اضافی اخراجات کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے ۔ حکومت بجلی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتی اگر حکومت اس ضمن میں مخلص ہوتی تو شمسی توانائی کے استعمال کی پوری طرح سے حوصلہ افزائی کی جاتی ۔ملک میں شمسی توانائی کے آلات کی تجارت کیلئے ترغیبات دی جاتیں بنکوں سے آسان شرائط پر شمسی توانائی کے آلات کی خرید اری کے مواقع دیتے جاتے ۔ شمسی توانائی کے آلات کی خرید اری کیلئے آسان شرائط پر قرضے دیئے جاتے۔ حکومتی سطح پر شمسی توانائی کے آلات کی فراہمی و تنصیب کا بندوبست کیا جاتا علاوہ ازیں بھی ماہرین سے مشاورت کے بعد اقدامات ناممکن نہ تھے ۔ حکومت پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے اس درجہ کو شاں نہیں جو حالات کا تقاضا اور عوام کی ضرورت ہے ۔ توانائی کے منصوبوں پر کام کی رفتار بھی تسلی بخش نہیں مستزاد حکومت نئے ڈیموں کی تعمیر بارے سست روئی کا شکارہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے سیاسی جماعتوں اور صوبوں کو اعتماد میں لینے کی کوئی ادنیٰ سعی بھی نہیں کی گئی جسے ماہرین پاکستان میں پانی اور بجلی دونوں کی قلت پر قابو پانے کیلئے کلیدی منصوبہ قرار دے رہے ہیں ۔ اس وقت جبکہ سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کیلئے صف بندیوں میں مصروف ہیں حکمران اگر دوبارہ عوام کے سامنے خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کو چاہیئے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کی سنجیدہ سعی کریں۔ عوام سے 2018ء تک لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کاجو وعدہ کیا گیا تھا اگر وہ پورا نہ ہوا توحکمران جماعت کے نمائندوں کیلئے عوام کا سامنا کرنا نہایت مشکل ہوگا ۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ انتخابات میں ناکامی کی دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بے تحاشہ لوڈ شیڈنگ تھی۔ عوام حکمرانوں سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے ۔

متعلقہ خبریں