Daily Mashriq


 نئے آئی جی سے عوامی توقعات

نئے آئی جی سے عوامی توقعات

قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے میں کتنا وقت اور مراحل درکار ہیں اس سے قطع نظر قبائلی پولیس افسر صلاح الدین محسود کے آئی جی خیبر پختونخوا مقرر ہونے سے پولیس میں قبا ئلیوں کو نہ صرف نمائندگی مل گئی ہے بلکہ اس کی سربراہی قبائلی بھائیوں کے پاس آگئی ہے ۔ نو تعینات آئی جی اپنے پیشروئو ں کی نسبت خاصے کم عمر او رجواں سال ہیں۔ موجودہ تعیناتی سے قبل ایسے مختلف النوع شعبوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں جس کے دوران ہونے والے مشاہدات و تجربات کو بروئے کار لا کر وہ پولیس کو اس مقام سے کافی آگے لے جا سکتے ہیں ۔ جہاں ان کے پیشرو چھوڑ گئے تھے ۔ ایک قبائلی پس منظر کے پولیس افسر ہونے کے ناتے ان کو بجا طور پر قبائلی علاقہ جات کے حالات اور اس کے بندوبستی علاقوں پر پڑنے والے اثرات کا زیادہ ادراک ہونا فطری امر ہے ۔ ہمارے میڈیا سے گریز اں شخصیت ہونا بھی ان کے فرائض منصبی میں معاون ہوگا اور وہ خود کو زیادہ پیشہ وارانہ مہارت اور کام سے کام رکھنے والے پولیس سر براہ ثابت کر سکیں گے ۔ فی الوقت صوبے میں حالات کو عارضی امن کی کیفیت کی حد تک ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ نئے آئی جی کیلئے یہ کسی امتحان سے کم نہیں کہ وہ صوبے میں قیام امن کو مضبوط اور مستحکم بنائیں۔ پولیس مستعدی کا مظاہرہ کرتے کرتے اچانک جب حالات کو معمول کے مطابق سمجھ کر ستا نے لگتی ہے تو امن دشمنوں کو موقع مل جاتا ہے اس سے بچنے کیلئے پولیس کو ہر دم تیار اور پوری طرح چوکس رکھنا ہوگا ۔ صوبائی دارالحکومت اور مضافات میں تطہیری آپریشن اور نگرانی کے عمل کو نہ صرف بر قرار رکھنا ہوگا بلکہ پولیس چیف کو وقتاً فوقتاًاز خود جا کر حالات اور انتظامات دونوں کا جائزہ لینا ہوگا ۔ مضافاتی چوکیوں میں حفاظتی اقدامات کی مزید بہتری کیلئے وسائل کی فراہمی پر توجہ کی ضرورت ہوگی ۔ شہر میں سٹریٹ کرائمز کی روک تھام اور جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے اور ہر علاقہ ایس ایچ او کو عملی طور پر جوابدہ بنانا ہوگا ۔ نئے آئی جی سے عوام کو بجا طور پر یہ توقع ہے کہ وہ شہر کے پوش علاقوں سمیت شہر میں جا بجا فحاشی کے اڈوں کے راتوں رات خاتمے کا حکم دیں گے اور ان عناصر کے سر پرست پولیس افسران کو پشاور بدر کریں گے ۔ آئی جی کو عوام کے ساتھ براہ راست رابطے اور شکایات کی وصولی اور داد رسی کا اپنے پیشروسے بہتر اقدامات اور زیادہ وقت صرف کرنا ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ صلاح الدین محسود صوبے کے پولیس سربراہ کی حیثیت سے ان تمام توقعات پر پورا اتریںگے جو عوام ان سے رکھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ثابت ہوں گے ۔

صارفین گیس کی شکایت کا ازالہ کیا جائے

چن آغہ کالونی اور ملحقہ علاقوں کے صارفین کا گیس کے غیر حقیقی بلوں پر احتجاج بجا ہے ۔ مکینوں کایہ موقف بجا ہے کہ سردیوں کے بعد اب جبکہ گیس ہیٹر اور گیزر بند ہو چکے ہیں صارفین کو بیس سے پچیس ہزار روپے کے بلوں کی ترسیل اور متعلقہ عملے کا بلوں کو درست کرنے کی بجائے قسطوں میں کرنے کی پیشکش پریشانی کا شکار صارفین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو میٹر ریڈر نے درست ریڈنگ نہیں کی اور اوسط استعمال کے تخمینے پر بل بھجوانے کے بعد اچانک سارے یونٹ ڈال کر بل بھجوا دئیے ہیں یا پھر میٹروں میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ ہر دو صورتحال میں صارفین کو سزا دینا کسی طور مناسب نہیں ۔ حکومت ایک جانب فخر کے ساتھ درست ریڈنگ کے مطابق بلوں کی وصولی کا دعویٰ کرتی ہے دوسری طرف محکمے کے عمال کی کارکردگی بر عکس ہے جس سے حکومت کے دعوئوں کی نفی ہوتی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ شکایتی صارفین گیس کی شکایت کی شنوائی کی جائے اور اضافی بلوں کا مسئلہ حل کر کے حکومتی دعوئو ں کی لاج رکھی جائے ۔

متعلقہ خبریں