Daily Mashriq


گفتار کے غازی

گفتار کے غازی

انسان اس دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام جو کرتا ہے وہ رونا ہے ابھی اس نے آنکھیں بھی نہیں کھولی ہوتیں اور رونا شروع کردیتا ہے پھر اس کے بعد ایک آدھ سال تک وہ اپنے جذبات کا اظہار رونے دھونے سے ہی کرتا رہتا ہے ۔اسے بھوک لگتی ہے اور ماں کام کاج میں مصروف ہوتی ہے تو وہ رو رو کر آسمان سر پر اٹھالیتا ہے رونے کا سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک وہ بولنا نہیں سیکھ جاتا اب اس کے پاس زبان ہوتی ہے اسے جس چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنی زبان سے کام لیتا ہے غم وغصے اور خوشی کا اظہار بھی وہ زبان ہی کے ذریعے کرتا ہے اور پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ باتیں کرنا ہم سب کا مرغوب اور دل پسند مشغلہ ہو جاتا ہے جسے دیکھیے محفلوں میں چہک رہا ہے جبکہ دانائوں نے کم بولنے کے حوالے سے بہت سے اقوال زریں قلمبند کر رکھے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان پر عمل کرنے والوں کی ہر دور میں شدید قلت رہی ہے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ اللہ نے دو کان دیے ہیں اور ایک زبان! اس لیے بولنے سے زیادہ سننا چاہیے کسی دانش ور کا قول ہے کہ جو اچھا سامع اور کم گو ہو توا س کا ہر وقت اور ہرجگہ بہترین استقبال کیا جاتا ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ کم بولنے والا انسان سب کے لیے قابل قبول ہوتا ہے۔ آج کل ہماری سیاست میں بولنے یعنی بیان بازی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے عابد شیر علی ،مریم اورنگ زیب، اور طلال چودھری کہتے ہیں کہ زرداری اور شرجیل میمن نے لوٹ کھسوٹ میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے اس پارٹی میں ایک سے ایک بڑھ کر چور ہے یہ تو وہ ٹولہ ہے جو سندھ کے گٹر کے ڈھکن تک بیچ کر کھا گیا ہے۔ زرداری کی کرپشن سب پر بھاری ہے۔ شرجیل میمن شور مچا کر اپنی چوری اور کرپشن کو نہیں چھپا سکتے یہ جتنا شور بھی مچالیں چودھری نثار کے احتساب سے نہیں بچ سکتے ان کو اپنی کرپشن کا جواب تو دینا ہوگا ! جب اس قسم کے حملے ہو رہے ہوں تو پھر جوابی حملے بھی ناگزیر ہوجاتے ہیں ان حملوں کے جواب میں سعید غنی اور شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا ء کی حالت دیکھ کر بھارتی فلم رودالی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ پانامہ چور بے نقاب ہوچکے اب نہ صرف ہر میگا کرپشن بلکہ کرکٹ میں جوا بازی کے حوالے سے بھی شریف برادران کے نام لیے جارہے ہیں! اب ان زبانی میزائلوں میں کتنی صداقت ہے ؟ اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہوئے اتنا ضرور عرض کریں گے کہ جب دونوں طرف سے اتنے بڑے بڑے الزامات لگتے ہیں تو ان میں کسی حد تک صداقت تو ضرور ہوتی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کی کرپشن کا سب سے زیادہ نقصان ملک و قوم اور عوام کو ہی ہوتا ہے اب آنے والا سال انتخابات کا سال ہے اس لیے سیاستدان لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئے ہیں۔ اب عوام کو رام کرنے کے لیے ہر قسم کے حربے آزمائے جائیں گے لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ سیاسی کارکنوں کو چھوڑ کر کیونکہ ان کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں عام ووٹر اچھا خاصا باشعور ہوچکا ہے۔ اب لوگوں نے احمقوں کی جنت میں رہنا چھوڑ دیا ہے وہ اپنے برے بھلے کو اب خوب سمجھنے لگے ہیں اب وہ سیاسی طور پر بیدار ہوچکے ہیں انہیں آسانی سے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا ۔کوئی کسی کو بولنے سے تو نہیں روک سکتا اتنی آزادی تو سب کو حاصل ہونی چاہیے کہ وہ اپنے دل کی بات ببانگ دہل کہہ سکیں!بولنے کا کیا ہے اب جسے دیکھیے بول رہا ہے یہ بات ہم اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جب حجام یا ڈرائیور بول رہا ہو تو ہمیں بڑا خوف محسوس ہوتا ہے چند دن پہلے ایک رکشہ میں براجمان ہوئے ڈرائیور بہت باتونی تھا ہم نے ڈر تے ڈرتے کہا بھائی سڑکیں بھی شکستہ ہیں ذرا دھیان سے رکشہ چلانا تو بس پھر کیا تھا اس کی زبان قینچی کی طرح چلنے لگی پہلے تو اس نے چینی آٹے گیس بجلی کے حوالے سے ہمیں اپنے زریں خیالات سے نواز اس کے بعد روپے پیسے کی بے وقعتی کا رونا رونے لگا پھر کہنے لگا کہ ہمارے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونے والے نمائندے ہمارے ترقیاتی فنڈز ہڑ پ کر جاتے ہیں اور سڑکیں ویسی کی ویسی ہی رہ جاتی ہیں ہمیں اس کی بات سے اس لیے بھی اتفاق کرنا پڑا کہ اس اچھل کود کے دوران ہمارا سر دو تین مرتبہ رکشے کی چھت سے ٹکراتے ٹکراتے بچا! ویسے آج آئی ٹی کے دور میں عوام کافی حد تک اپنے مسائل سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ان کا حل بھی چاہتے ہیں اس حوالے سے میڈیا کا رول بھی قابل تعریف ہے اب آپ کو عام دکاندار جس کی بڑی واجبی سی تعلیم ہوتی ہے این آر او پر بڑا پر مغز لیکچر دیتے نظر آتے ہیںاین آر او کو تو جانے دیجیے وہ تو مائنس ون کے حوالے سے بھی خیال آرائیاں کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیل فون پر موصول ہونے والے ایس ایم ایس بھی تو معلومات کا خزانہ ہیں۔ کونسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں ایس ایم ایس نہیں بنائے گئے اب تو سیل فون پر ایسے ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں ہمارے سیاسی ، معاشی اور ثقافتی حالات کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہوتی ہے انہیں پڑھ کر ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے معاشرے کی پوری تصویر واضح ہوجاتی ہے اور نہ صرف ہمارے حکمرانوں بلکہ سب سیاستدانوں کے چہرے بے نقاب ہوجاتے ہیں اسی لیے اس وقت دل مطمئن ہے کہ اب عوام کو دھوکا دینا اتنا آسان نہیں رہا ۔اب گفتار کے غازی جب تک کردار کے غازی نہ بنیں ان کی دال گلتی نظر نہیں آتی! ۔