Daily Mashriq


خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا

ہمارے علامہ خلیل قریشی ایک شعلہ بیان مقرر ہیں اور امت مسلمہ کو راہ راست پر لانے کیلئے ایک عرصہ سے کوشاں بھی ہیں۔ جمعہ کہ خطبات میں بالخصوص مردے کی تدفین وہ اس قدر رقت انگیز انداز میں ممنوعات و مکروہات دنیا پر گفتگو کرتے ہیں کہ شیطان بھی اپنے کر توتوں پر ایک لمحہ کے لئے پشیمان ہو جاتا ہوگا ۔ بالآخر ان کی کاوشیں رنگ لے آئیں ہم نے دیکھا کہ ایک جم غفیر ہماری بستی کی اس مسجد میں جہاں وہ و عظ و نصیحت فرما تے ہیں موجو د ہے۔ پوچھنے پرمعلوم ہوا کہ شہر کے لوگوں کا ہجوم ہے جو حضرت کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر آئندہ کے لئے دود ھ میں پانی نہ ملانے کا وعدہ کر رہے ہیں ۔ وہ یہ بھی کہتے کہ وہ اس فعل شنیع کے دوبارہ مرتکب ہوئے تو انہیں بیچ چوراہے میں سنگسار کر دیا جائے ۔ ان کے بعد گرانفروشوں کا گروہ آیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آج تک جو ناجائز منافع کمایا ہے ۔اس پر پشیمان ہیں آئندہ کیلئے ایسا نہ ہوگا ۔ دوا فروش بھی ایک وفد کی صورت میں حضرت کے سامنے پیش ہوئے اعتراف گناہ کیا اور دونمبر جعلی دوائیں فروخت کرنے سے توبہ کی ۔ یہ سب لوگ صرف ناجائز منافع خوری سے توبہ تا ئب ہونے کا اعلان نہیں کر رہے تھے ان کی آنکھوں سے اپنی گمراہیوں اور غلط کاریوں پر آنسو بھی بہہ رہے تھے ان لوگوں میں سے اکثریت نے حج پر جانے کا ارادہ بھی کیا اور کچھ تو ان میں سے گھروں کولوٹنے کے بجائے چلہ کاٹنے ، تبلیغ پر روانہ ہوگئے ۔ ابھی ہم یہ نظارہ دیکھ رہے تھے کہ خبر آئی کہ ملک کے تمام ڈاکٹروں نے پوری دیانت کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے ہسپتالوں میں فارماسسٹ کمپنی کے کارندوں کے داخلے پر پابندی لگادی اور جو معالجین ان کمپنیوں کے اخراجات پر بیرون ملک سیر کرنے جاتے ہیں ان کو وہ تمام رقوم لوٹانے کا بھی اعلان کر دیا ہے اس کے لئے دکھی انسانیت کے ان خدمت گزاروں نے فارما سسٹ کمپنیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے نسخوں میں صرف Genuineدوائیاں لکھنے کا وعدہ کیا ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے اپنی فیسیں بھی آدھی کر دیں اور غریب ونادار مریضوں کا فی سبیل اللہ علاج کرنے کا حلف اٹھایا ہے ۔ اخباروں میں شہ سرخیوں کے ساتھ خبر لگی کہ سرکاری اہلکاروں نے اپنے محکموں میں حلف نامے داخل کئے کہ وہ آئندہ کے لئے سائلوں کو پریشان نہیں کرینگے ۔ بلکہ ان سے بعنوان رشوت کسی قسم کی رقم بھی وصل نہیں کرینگے ۔ ہم جب شہر میں نکلے تو یہ دیکھ کر مزید حیرت سے دوچار ہوئے کہ لوگوں نے از خود سڑکوں سے ناجائز تجاوزات ختم کر نے کا کام شروع کردیا ہے۔ ٹریفک کی روانی میں بھی ایک نظم و ضبط نظر آیا ۔ٹریفک پوائنٹس پر اپستادہ وارڈنز کے چہروں پر ایک ملکوتی مسکراہٹ طاری تھی اور وہ نہایت ہی خندہ پیشانی کے ساتھ ، اشارے کر رہے تھے۔ ان میں سے بعض تو عمر رسیدہ لوگوں کو کاندھوں پر لاد کر سٹرک پار کروا رہے تھے ۔ جیب کتروںاور چوروں نے رضا کارانہ طور پر لوگوں سے لوٹی ہوئی رقوم تھانوں میں جمع کرنا شروع کر دی تھی ۔ یہ تو خیر ہمارے شہر کے ناقابل یقین نظارے تھے جن کا ہم نے آپ سے ذکر کیا کراچی سے ہمارے دوست مظہر بٹ اور نعیم صادق نے قوم کی زندگی میں آنے والے انقلاب کی خبر دی یہی اطلاعات ہمیں کوئٹہ سے عمر عسکر کی جانب سے موصول ہوئیں پنجاب سے ہمارے دوست امیر بہادر خان نے بھی یہی کچھ فون پر بتایا۔ نعیم صادق البتہ خوش تھے انہوں نے عرصہ سے سندھ میں ان رجسٹرڈ گاڑیوں اور بغیر لائسنس کے اسلحہ کے خلاف جو تحریری مہم جاری کر رکھی تھی انہوں نے بتایا کہ عوام نے ان رجسٹر ڈ گاڑیاں متعلقہ محکمے کے سپرد کر دیں اور رضا کارانہ طور پر ناجائز اسلحہ جمع کرنے والوں کا تھانوں میں ہجوم ہے ۔ یہ وہ مسائل تھے جن کا ہم اپنی تحریروں میں بالعموم ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں جن قومی اور بین الاقوامی مسائل کا سامنا ہے اُس کا منظر نامہ بھی اچانک اور یکلخت تبدیل ہوتا نظر آیا ۔ بھارت کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے پر رضا مندی ظاہر کر دی اس طرح پاکستان میں داخل ہونے والے دریائوں پر ڈیم بنانے کے تمام منصوبے ترک کر دیئے ۔لائن آف کنٹرول سے اپنی تمام فوجیں بلانے کا بھی اعلان کردیا ۔دوسری جانب افغانستان نے بھی دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا نے کا فیصلہ کیا۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کو ایک دوسرے کے حوالے کرنے کے ایک معاہدے کی دستاویز پر غور و خوض شرو ع ہو گیا ہے ۔ ایک خبر بریکنگ نیوز کے طور پر تمام سرکاری اور پرائیویٹ چینلز پر یہ آئی کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا ۔ بجلی کے نرخوں میں آئندہ کے لئے کوئی اضافہ نہ ہوگا بلکہ موجودہ قیمتیں بھی آدھی کر دی جائیں گی ۔ سیلز ٹیکس اور ویلیوایڈڈ ٹیکسوں کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا گیا ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے بقائے باہمی کے اصولوں کے پیش نظر ایک معاہدے پر متفق ہونے کا اعلان کیا ہے ۔اراکین پارلیمنٹ نے تنخواہیں اور الائونسز سے انکار کردیا اور یہ کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 500فیصد اضافہ کیا جائے گا حکمرانوں اور باقی سب لوگوں نے بھی اپنے بیرون ملک اثاثے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تمام رقوم ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے استعمال کی جائیگی ، غیر ملکی بنکوں میں موجود اکائونٹس ختم کر کے ان میں جمع شدہ خطیر رقم بھی عنقریب وطن واپس لائی جائیگی ۔ مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر جو تنازعے چل رہے ہیں لگتا ہے وہ بھی ختم کر دیئے جائیں گے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان ہونے والی جنگیں بھی باہمی گفت وشنید سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے مگر دوستوں ! آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ آج یکم اپریل ہے ہم نے آج کے دن یہ جو خواب دیکھا ہے ہم اس خواب کے عملاً پورا ہونے کی صرف خواہش ہی کرسکتے ہیں۔ خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں یا پھر ہے ؟

متعلقہ خبریں