Daily Mashriq


مذمت مذمت اور بس مذمت

مذمت مذمت اور بس مذمت

بانی پاکستان کا مشہور قول ہے کام کام اور بس کام ۔ شاید ہمارے حکمرانو ں نے اسی قول میں ترمیم کر کے کام کی جگہ لفظ مذمت ڈال دیا ہے اور کچھ اس طرح بنادیا ہے کہ مذمت مذمت اور مذمت کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کے بعد اس کی مذمت نہ کرنا گویا ایسے ہے جیسے فرض نماز قضا کرنا ۔ گزشتہ ماہ دہشتگردی کے کئی واقعات میں سینکڑوں بے گنا ہ لو گ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ان میں نہ تو سیکورٹی فورسز ،میڈیا، عدلیہ، مسجد، امام بارگاہ اور چرچ کو بخشا گیا اور نہ ہی خواتین اور پھول جیسے معصوم بچوں کو ۔ دھماکے کے فوراً بعد حکمرانوں کی طرف سے مذمتوں کے راگ الاپنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی تازہ ترین واقعہ پارہ چنار میں ہوا دھماکے کے فوری بعد مذمتوں، اظہار افسوس کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا،، حسب روایت وزیرداخلہ نے رپورٹ بھی طلب کرلی، لیکن میرے ذہن میں ایک سیدھا سادہ سا سوال پیدا ہوتاہے کہ آ خر یہ مذمت ہے کس بلا کا نام؟میرے خیال میں بے گناہ لوگوں کے مرنے کے بعد پاکستانی قوم کو جو پہلا تحفہ ملتا ہے شاید مذمت اسی کا نام ہے۔لیکن اس تحفے کے اندر ہے کیا ؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ مذمت تو میں بھی کرتا ہوں مذمت تو ہر بندہ کرتا ہے مذمت تو ہر انسان کرتا ہے کیونکہ دنیا کا کوئی مذہب بھی بے گناہ انسان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔لیکن آپ کے جو فرائض ہیں وہ پورے کرو اگر آپ کو اپنے فرائض نہیں معلوم تو خدارا آپ کو حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ حکمرانوں کے فرائض کا دائرہ تو بہت وسیع ہے لیکن میری ناقص رائے میں مذمت کرنا حکمرانو ں کے فرائض میں شامل نہیں ہے ۔ مود بانہ گزارش ہے کہ اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کریں او ر مذمتوں کا ٹھیکہ ہم عوام کو دے دیں ۔ آپ آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کے قتل عام کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمدکو یقینی بنائیں ۔مذمتیں ہم کریںگے۔آپ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے گھر ہونے والے لوگوںکی واپسی کا بندوبست کریں۔فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں سے ایف سی آر کا کالا قانون ختم کر کے ان کو بھی پاکستانی شہریوں کی طرح حقوق دو۔آپ تشدد زدہ معصوم بچی طیبہ کو انصاف دلائیں ۔ آپ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔ پانامہ کیس میں قوم کو سچ اور جھوٹ کا فرق واضح کرو۔ لوگوں کو صحت، تعلیم ،روز گا ر او ر انصاف دو ،آپ روٹی کپڑا اور مکان کے وعدے پورے کریں۔ ایوانوں میں ذاتی انا کی خاطر لڑنا جھگڑنا چھوڑ کر اپنے فرائض اداکریں۔ ملک میں جاری خون کی ہولی بند کریں، تھر کے صحرا میں بھوک پیاس سے مرنے والو ں کو غذا فراہم کریں مذمتیں باقی ہم کریں گے ۔میں شکوہ کروں تو کس سے کروں؟ حکمرانوں سے ، پاکستانی عوام سے یا پھر اپنے آپ سے ۔کیونکہ غلطی تو میری بھی ہے جو میں نے ان کو منتخب کیا ہے اور قصور میرا بھی ہے کہ مجھے آپ کے فرائض معلوم نہیں تھے اور نہ ہی معلوم کرنے کی زحمت کی ہے۔ بحیثیت قوم ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آنکھو ں پر پٹی باندھ کر دوسروں کے کندھو ں پر ہاتھ رکھ کر چلنے والے لوگ ہیں اور یہ قصہ یہاں تمام نہیں ہوتا کیونکہ ہم نے جس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے وہ بھی اندھا ہے اور اسی طرح دوسرے نے تیسرے اور تیسرے نے چوتھے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے اور سب کی بند آنکھوں سے یہ سفر اسی طرح رواں دواں ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہا جا رہا ہے۔ اس کی منزل کیا ہے اور اس کا یہ سفر کب اور کہاں اختتام پذیر ہوگا۔مختصر یہ کہ دوسروں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلنے والوں کا سفر بے مقصد اور بے فائدہ ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں شاید ہم نقلی قوم ہیں یا پھر ہجوم کیو نکہ آج تک ہم دوسروں کی تقلید کرتے ہوئے خوش ہوتے ہیں او ر اس پر فخر بھی کرتے ہیں ۔ہماری نہ تو اپنا کوئی واضح مقصد ہے اور نہ ہی کوئی تخلیقی سوچ۔کہتے ہیں عقلمند کیلئے اشارہ کافی ہوتا ہے جس معاشرے میں سچ بولنا سب سے بڑ ا جرم قرار دیا جائے او ر عام لوگ تو دور کی بات ایوانوں میں بیٹھے بڑے بڑے سیاستدان جھوٹ بول کر فخر محسوس کریں اور اس کو سیاست کا لازمی جز سمجھا جائے تو یقین کیجئے اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے کیونکہ بربادی کے سلسلے کا آغاز یہاں سے ہی ہوتا ہے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ 

آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیں

وہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو ماریں جائیں

جن کو آتا نہیں جنگل میں اصول وحشت

زندگی موت کی طرح وہ گزاریں جائیں

مختصر یہ کہ اگر درج بالا فرائض پوری کرنے میں حکمران لو گ کامیاب ہو جائیں تو مجھے شاید مذمت کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے اسلئے خدارا مذمتیں چھوڑ کر عملی میدان میں آئیں اور اپنے فرائض پہچانیں اور اسکو ا حسن طریقے سے پورا کریں کیونکہ مذمتوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔

متعلقہ خبریں