گلوبل ویلج کی باڑھ بندی؟

گلوبل ویلج کی باڑھ بندی؟

اسے المیے کے سوا اورکیا نام دیا جا سکتاہے کہ ایک طرف دنیا انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ کے باعث گلوبل ویلج بن کر سمٹ رہی ہے سوشلائزیشن میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے ۔ذہنی فاصلے اور دوریاں مٹ رہی ہیں تو دوسری طرف عمل کی دنیا میں انسان سمٹ اور سکڑ رہے ہیں ۔ انسان حصاروں کے پیچھے ،باڑھ اور دیواروں کی اوٹ میں چھپ رہا ہے ۔گرتے حصاروں اور مٹتے فاصلوں کی دنیا ایک بار پھر حصاروں اور باڑھ کے پیچھے چھپنے لگی ،اپنے اپنے دائروں میں سمٹنے لگی ۔مسلمان دنیا کے بے جا خوف کا شکار اسرائیل نے خود کو محفوظ اور محصور بنانے کے لئے باڑھ کا حصار اوڑھنے کا راستہ اختیار کیا ،بھارت نے پاکستان سے منہ موڑنے کے لئے خاردار باڑھ اور حصار کاسہارا لیا۔پاکستان نے افغانستان سے حد ِفاصل قائم کرنے کے لئے باڑھ بندی کا آغاز کردیا اور اب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہوتے ہی میکسیکو کی سرحد پر باڑھ لگانے کا اعلان کر دیا ۔یورپی یونین کی ڈور میں بندھا یورپ اب تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرنے کو بے چین ہے ۔یورپی یونین کا سب سے بااثر ملک برطانیہ اس اتحاد کو ''بائے بائے '' کہنے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے۔ برطانوی عوام پہلے ہی اس کا فیصلہ سناچکے ہیں۔ باڑھ بنانے والے ہر ملک کے اپنے دلائل اور اپنی مجبوریاں ہی ہیں۔اس دوران یہ خبر حیرت کا باعث بنی کہ پاک فوج نے افغانستان کی سرحد پر مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں خاردار باڑھ کی تعمیر شروع کردی ہے۔باڑھ کے ساتھ چار سو بیس چھوٹی چوکیاں بھی تعمیر کی جائیں گی جبکہ سرحد پر نقل وحرکت نوٹ کرنے کے لئے جدیدر یڈار سنسرز سسٹم بھی نصب کیا جائے گا ۔چند روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے باڑھ کی تعمیر کا معائنہ کیا اور تعمیر میں مصروف جوانوں سے خطاب کیا ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پرامن ،منظم اور محفوظ سرحد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔پاکستان کی پچیس سو کلومیٹر طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے جو ہمیشہ سے پورس رہی ہے۔پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے ۔یہ سرحد گوکہ بھارتی سرحد کی طرح ہمیشہ سے گرم نہیں رہی مگر اس سرحد سے پاکستان کے لئے بہت کم ہی خوش گوار ہوائیں آتی رہیں۔اس سرحد کو قواعد وضوابط میں لانے کی ضرورت شاید ہر دور میں محسوس کی گئی ہوگی مگر افغانوں کویوں باڑھ سے پرے دھکیلنا اور دوریوں پر مائل کرنا کسی کا خواب نہیں رہا ۔ افغان جہاد کے دوران مہاجرین اور مجاہدین کی آمدورفت نے اس سرحد کو بے معنی بنائے رکھا اور بعد میں یہ سرحد محض ایک حد بندی ہی رہی ۔مجھے یاد ہے کہ طورخم پر ایک چھوٹا سا آہنی گیٹ اور اس پر ملیشیا کے چند اہلکار آنے جانے والوں سے دن بھر لڑتے بھڑتے رہتے تھے ۔آج اسی معمولی سے گیٹ کی جگہ ایک بڑا اور جدید ٹرمینل تعمیر ہو چکا ہے اور اب سرحد اور حد بندیاں ایک زندہ وجود میں ڈھل رہی ہیںگویا کہ دونوں ملکوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔طالبان کی حکومت کے بعد امریکہ اور نیٹو افواج کی یلغار ہوئی تواس کے ساتھ ہی افغانستان میں بھارت کا اثر رسوخ منظم انداز سے بڑھایا جانے لگا ۔پاکستان کو مسئلہ اور بھارت کو مسئلے کا حل قراردیا جانے لگا اور اسی تصور کے تحت پاکستان میں افغانستان کا کردار محدود ہوتا رہا اور بھارت کا کردار بڑھایا جاتا رہا ۔یہاں تک کہ افغانستان کی سرزمین کا مجموعی رنگ اور رخ پاکستان مخالف ہوگیا ۔حامد کرزئی جیسے حکمرانوں نے امریکہ اور بھارت کے زیر اثر پاکستان مخالف بیانیہ کو عام کیا ۔افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب کئی قونصل خانے کھلے جو درحقیقت پاکستان میں تشدد کو ہوا دینے اور عدم استحکام پھیلانے کے کاکام دیتے رہے ۔بلوچستان میں خون ریز تحریک چلی تو اس کا بیس کیمپ افغانستان اور فنانسر بھارت تھا ۔

قبائلی علاقوں میں بھی جو سرگرمیاں چلتی رہیں ان میں بھارتی قونصل خانوں کی کاریگری واضح طور دکھائی دیتی تھی ۔افغان سرزمین سے مسلح جھتے منظم ہو کر پاکستان پر حملے کرتے رہے ۔اُلٹا پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہا ۔روزانہ ہزاروں افغان مہاجرین سرحد کے آر پار جاتے رہے ۔پاکستان کے پاس اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ سرحدی حد بندی کو فعال بنانے اور اس کی واضح تقسیم اور آمدورفت کوقواعد اور قوانین کے تحت لانا تھا ۔اسی حکمت عملی کے تحت پاکستان نے سرحدپر باڑھ لگانا شروع کی تو افغان حکمرانوں کی پیشانی پر بل پڑنے لگ گئے ۔طورخم پر امیگریشن کا منظم نظام قائم کرنے کے لئے جدید ٹرمینل کی تعمیر شروع ہوئی تو افغان فوج نے مزاحمت کی کوشش کی ۔جون میں جب یہ تعمیراتی کام جاری تھا تو افغان فورسز نے فائر کھول دیا اور چارجوان شہید ہو گئے۔چند رو زقبل افغانستان سے حملہ آور دہشت گردوں کی فائرنگ سے آٹھ افراد جاں بحق ہوئے جن میں دو فوجی جوان بھی شامل تھے۔اب پاکستان کے لئے مشرقی اور مغربی سرحد میں تفریق کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔یوں لگ رہا ہے کہ مشرق کا دشمن بھیس اور نام بدل کر مغرب کی سمت سے حملہ آورہے ۔الزام تراشی اور جنگ صر ف عسکری ہی نہیں سفارتی محاذوں تک پھیل چکی ہے ۔اب پاکستان کے لئے بھارتی اور افغان سفارت کاروں سے یکساں انداز میں گوہر افشانی ہو رہی ہے ۔ڈیورنڈ لائن اور کنٹرول لائن کا فرق مٹ گیا ہے۔ امریکہ سے ایشیا تک یہ قربتیں اور یہ دوریاں آج کے انسان کو درپیش چیلنج ہی نہیں ایک عجیب مخمصہ بھی ہیں۔

اداریہ