مشرقیات

مشرقیات

سلطان محمود کے زمانہ میں کرمان کے پہاڑی جرگوں کے قزاقوں نے رباط اور دیر کچھن (اصفہان) میں ڈاکہ ڈالا۔ ایک بڑھیا کا مال و اسباب بھی لٹ گیا۔ اس نے سلطان سے فریاد کی:''آپ خداوند کریم کی طرف سے ہمارے محافظ و نگہبان ہیں۔ یا میرا مال دلائیے یا اس کا معاوضہ عطا کیجئے۔
سلطان نے کہا کہ خبر نہیں دیر کھچن کہاں ہے؟ بڑھیا بولی اے سلطان اس قدر ملک فتح کرو کہ ان کے جغرافیہ سے واقفیت رہ سکے اور ان کا انتظام ہوسکے۔
سلطان نے اس کے جواب کو تسلیم کرکے پھر کہا یہ لوگ کہاں سے آئے تھے اور کون تھے۔ بڑھیا نے کہا کوچ بلوچ کے ڈاکو تھے جو کرمان کے قریب ہے۔ سلطان نے کہا وہ ملک تو میری سرحد سے باہر ہے' اس کا میں کیا انتظام کرسکتا ہوں۔بڑھیا نے کہا' کیا اسی عدل و انصاف پر شہنشائی کا دعویٰ ہے' وہ بادشاہ کیا جو اپنی سلطنت کا انتظام نہ کرسکے اور وہ چرواہا کیسا جو اپنی بکریوں کو بھیڑیئے سے نہ بچاسکے۔ اس حالت میں میرا تنہا اور ضعیف ہونا اور آپ کا فوج اور لشکر رکھنا دونوں برابر ہیں۔سلطان محمود نے جب بڑھیا کے یہ جوانمردانہ کپکپادینے والے کلمات سنے تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس کو بہت کچھ دے دلاکر رخصت کیا اور بوعلی الیاس امیر کرمان کو لکھا کہ مفسدوں اور ڈاکوئوں کو گرفتار کرکے ہمارے حضور میں بھیج دو یا مال ڈکیتی برآمد کرکے قزاقوں کو پھانسی دے دو تاکہ آئندہ وہ میرے ملک میں لوٹ مار نہ کرسکیں۔ ورنہ یاد رکھو کرمان بمقابلہ سومنات بہت نزدیک ہے۔امیر کرمان سلطان کے خوف سے ایک جرار فوج لے کر گیا' بے شمار قزاق قتل ہوئے اور بے انتہا مال غنیمت ہاتھ لگا۔ امیر بوعلی نے سب مال غزنی بھجوادیا۔ سلطان نے منادی کرادی کہ جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے' وہ آکر اپنا مال پہچان لیں۔ تمام ملک سے لوگ آئے تھے اور اپنا مال پہچان کر لے جاتے تھے۔ سلطان نے ایک اور کام یہ کیا کہ ملک سے ہر قسم کی خبریں منگوانے کے لئے پرچہ نویس مقرر کردیئے تاکہ حاکموں کے ظلم و ستم اور تغافل اور ملک کے حالات کی خبر ملتی رہے۔
ایک بڑھیا کی آزادی اور جرأت نے ملک کو کس قدر فائدہ پہنچایا کہ ڈاکوئوں سے ہمیشہ کے لئے نجات مل گئی اور چھینا ہوا مال بھی واپس آگیا۔ (نظام الملک طوسی حصہ دوم ص256)
علامہ ذہبی لیث بن ابی رقیہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ( اپنی وفات کے وقت )فرمایا ، مجھے بٹھا دو ، لوگوںنے انہیں بٹھا دیا اور کہنے لگے ، میں وہ شخص ہوں ، جس کو تم نے حکم دیا ، میں نے اس میں کوتاہی کی ، تم نے مجھے روکا ، میں نے نافرمانی کی ، (آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا )لیکن خدا کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ، پھر آپ نے گھو ر کر دیکھا اور فرمایا : سبز لباس والوں کو دیکھ رہا ہوں ، جو نہ انسان ہیں اور نہ جن ہیں ، اس کے بعد آپ کی روح پرواز کر گئی ۔

اداریہ