Daily Mashriq


اداروں میں مکالمہ' نتیجہ کیا برآمد ہوگا؟

اداروں میں مکالمہ' نتیجہ کیا برآمد ہوگا؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے تو ملک کیسے چلے گا؟۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ امید ہے کہ چیف جسٹس نے ان کی بات کو سمجھا ہوگا۔سرگودھا میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کو میرے چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملنے پر تکلیف ہوئی، اس ملاقات میں کوئی ذاتی بات نہیں کی تھی بلکہ ملک کی بہتری اور عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے فریادی بن کر گیا، خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی تھی، جس کے بعد گزشتہ روز ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں کھویا کچھ نہیں صرف پایا ہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا تھا کہ میں نے وزیراعظم ہائوس جانے سے انکار کیا تو وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی خود چل کر میرے گھر تشریف لے آئے اور میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے، وہ فریاد سنانے آئے تھے مگر دیا کچھ نہیں۔بعد ازاں اس بیان پر سپریم کورٹ کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے لیے فریادی جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے تھے۔جمعہ کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے متعلق فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اس پر قائم رہنا چاہیے تھا۔وزیر اعظم کے اس استدلال میں وزن ہے کہ انہوں نے اداروں کے درمیان رابطہ نہ کرنے کی شکایت کا چیف جسٹس سے ملاقات کرکے ازالہ کرنے کی سعی کی یہ بھی غلط نہیں کہ جب باہم روابط نہیں ہوں گے تو مسائل کیسے حل ہوں گے۔ اس ملاقات کے ضمن میں میڈیا پر ایک جانب سے الفاظ کے چنائو میں حفظ مراتب اور اہانت کی رعایت نہیں رکھی گئی تھی لیکن بہر حال اس کو واپس لیا گیا کیا یہ زیادہ بہتر نہ تھا کہ احتیاط سے کام لیا جاتا اور اس کی نوبت ہی نہ آتی۔ اس ملاقات کے بعد بجائے اس کے کہ فضا مکدر کرنے والے بیانات تھم جاتے معتدل قسم کی لفظی گولہ باری جاری ہے البتہ اگر دیکھا جائے تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے سیاسی معاملات پر لب و لہجہ ان کی شخصیت اور ماضی کے برعکس تندو تیز دکھائی دینے لگے ہیں ۔ اس معاملے کو جھنجلاہٹ سے تعبیر کیاجائے یا پھر چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد یکسوئی سے تعبیر کیا جائے ایسا کہنا فی الوقت تو مشکل ہے لیکن اگلے چند دنوں میں اس امر کا اندازہ ہو جائے گا۔ اس ضمن میں چیف جسٹس نے بہر حال خوشگواریت کا ذو معنی عندیہ دیا ہے جبکہ وزیر اعظم پر امید نہیں لگتے کہ ان کا موقف سمجھا گیا ہوگا بلکہ ہ اب بھی اس امید کے اظہار پر ہی مکتفی ہیں کہ چیف جسٹس نے ان کا نقطہ نظر سمجھا ہوگا۔ گوکہ اداروں کے درمیان روابط کثیر الجہتی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن مختلف معاملات میں آخر کس معاملے اور موضوع پر دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی ہوگی اس کا کوئی سرا مل جائے تو ملاقات کی نوعیت سمجھنے میں آسانی ہو' کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے والا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا اس لئے کہ وزیر اعظم کا خود چل کر ملاقات اور حفظ مراتب کی قربانی بلا وجہ اور بلا سبب کبھی نہیں ہوسکتی۔ بہر حال جو بھی معاملہ زیر بحث ہو آئین ' قانون ' دستور اور وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ملکی معاملات اور اداروں کے درمیان تعلقات میں بہتری لائی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اداروں کے درمیان مکالمہ کی عمومی حالات میں ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں درست سمت چلے تو نہ تو تصادم و تضادات درپیش ہوں گے اور نہ ہی مکالمہ کی ضرورت پیش آئے گی۔ سیاستدانوں کے درمیان معاملات کے بگاڑ میں بھی ایک حسن اور اصلاح اس لئے ہوتا ہے کہ یہ لوگ لڑتے لڑتے بالآخر کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ حکومت کی تبدیلی کی صورت میں معاملات طے پاجاتے ہیں۔ لیکن اب جبکہ اس حسن کو بھی مداخلت سے گہنا دیاگیا ہے اور خود سیاستدانوں کے درمیان سیاست کا گریبان دوسروں کے ہاتھ میں آگیا ہے ایسے میں خود سیاستدانوں کو بھی اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ ان کی کھلونا نما حیثیت من حیث المجموع ملکی سیاسی صورتحال کو تبدیل اور عوام کو تشویش کا شکار کرنے کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں آئین و دستور کے تحفظ کی ذمہ داری میں عدالت عظمیٰ کو بھی برابر کا شریک ہونا اور آئین و قانون کے تحفظ کے لئے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز میں انصاف' معیار اور حقوق جیسے دلکش نعرے تو بہت لگتے ہیں مگر طاقتوروں کے ہاتھوں جب یہ دائو پر لگتے ہیں تو جنگل کی ہی لکڑی کلہاڑے کا دستہ بن کر جنگل کاٹنے والوں کی معاونت کرتی دیکھی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے ملک و قوم اور ادارے سبھی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں اور جمہوریت کی کشتی طوفانوں کی نذر نہ بھی ہو تو بھی اس قدر بے وزنی کی کیفیت کاشکار ہوتی ہے کہ موجوں اور تھپیڑوں سے خود نکالنے کی جستجو میں ساری توجہ اور توانائیاں لگا دیتی ہے۔ توقع ہے کہ دو بڑوں کی ملاقاتوں میں اس طرح کے امور پر بھی غور کیاگیا ہوگا اور اس کے تدارک میں ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کا بھی تذکرہ آیا ہوگا۔

متعلقہ خبریں