احسن منصوبہ ناقص منصوبہ بندی سے بلائے جاں

احسن منصوبہ ناقص منصوبہ بندی سے بلائے جاں


پشاور ریپڈ بس منصوبے کو غالباً پہلے اعلان کے مطابق اب تک مکمل ہوجانا چاہئے تھا جو ممکن نہ ہوسکا بعد ازاں کے اعلان کے مطابق بھی اس کی تکمیل اسی ماہ ہونی ہے لیکن ابھی تک نہ صرف اس کے مکمل ہونے کے دور دور تک آثار نظر آتے ہیں بلکہ اب اس منصوبے سے شہریوں کو درپیش مشکلات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اس منصوبے کو عذاب جان نہیں تو بلائے جان ضرور قرار دینے لگے ہیں۔ بہر حال وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اب بھی پر اعتماد ہیں کہ بی آر ٹی منصوبہ بروقت مکمل ہوگا۔ شنید ہے کہ اس منصوبے کے کنٹریکٹرز نے اسے کم سے کم اٹھارہ ماہ کا منصوبہ قرار دیا تھا اور لگتا بھی یہی ہے کہ اس کی تکمیل اٹھارہ ماہ میں ہی ممکن ہوگی۔ قطع نظر اس کے وقت پرتکمیل کی گرمی شروع ہوتے ہی لوگوں کا پارہ بھی چڑھنا فطری امر ہے جس سے آئے روز پبلک ٹرانسپورٹ میں واسطہ پڑتا ہے۔ تاجروں کی بھی پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں اس وقت شہر ایک قسم کے محاصرے میں ہے۔ شیر شاہ سوری روڈ سے صدر تک رسائی بند ہے۔ مال روڈ پر ہر گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں' خیبر روڈ پر پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے سے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے عود کر آنے کاخطرہ ہے اور حکام اس سڑک پر بسیں چلانے کی اجازت دے کر جان کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ دوسری جانب عسکری حکام نے بقول وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خیبر روڈ پر بی آر ٹی منصوبے کے لئے جلد ہی این او سی اجراء کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر اس موقع پر بی آر ٹی کے لئے این او سی شکریہ کے ساتھ قبول کرتے ہوئے وقتی طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے بھی این او سی لیتے تو عوام کو خاصی سہولت ملتی۔ جی ٹی روڈ کو اولاً اکھاڑ کر پھر رہے سہے حصے کو بھی کنگھی مار کر چھوڑ دیاگیا ہے جس کے باعث پہیہ جام رہتا ہے۔ بی آر ٹی منصوبہ شروع کرتے وقت ٹریفک کی منصوبہ بندی کے لئے بار بار توجہ دلائی گئی مگر ہمارے منصوبہ ساز اور حکام منصوبہ بندی کے لفظی معنی سے بھی آشنا نہیں نکلے۔ منصوبے پر کام کے دنوں میں عوام کی جو درگت بن رہی ہے کم از کم اس میں کمی لانے کے لئے اب جہاں جہاں کچی پکی سڑک بنانے اور کھولنے کی گنجائش ہے اس پر توجہ دی جائے۔ حکومت کو اس امر کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اگر رمضان المبارک تک اور گرمی کے شدت اختیار کرنے سے قبل ممکنہ سہولیات کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو عوام کا رد عمل نا قابل بیان ہوگا۔ شہریوں کے لئے اس منصوبے کو عذاب بنا دینے کے باعث مخالفین تنقید اور تیرکے نشتروں کی بارش کرنے لگے ہیں جبکہ صوبے میں جلد ہی عام انتخابات کی تیاریوں کامرحلہ آنے والا ہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھ کر اگر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو یہ منصوبے کا اپنے منصوبہ سازوں کو لے ڈوبنے میں کسر نہیں چھوڑے گا۔ بہتر ہوگا کہ عوامی مسائل و مشکلات کا ادراک کیا جائے۔ اگر بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل میں وقت درکار ہے تو اسے مجبوری سمجھا جا سکتا ہے لیکن گرد و غبار سے اٹے اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو یوں عذاب جان بننے کا رویہ شہریوں کی برداشت سے باہر ہو رہا ہے اور وہ صلواتیں سنانے لگے ہیں کم از کم اس پر تو توجہ ممکن ہے۔

اداریہ